کرکٹ

14بین الاقوامی سابق کپتان عمران خان کے حق میں بول اٹھے

کرکٹ کے 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کیلئے آواز اٹھا لی

14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کے ایک گروپ نے مشترکہ طور پر حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان عمران خان کو مناسب طبی سہولیات اور انسانی سلوک فراہم کیا جائے۔

یہ درخواست سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل کی جانب سے شیئر کی گئی اور باضابطہ طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے نام ارسال کی گئی، جس میں قید کے دوران عمران خان کی مبینہ صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا۔

اپیل پر دستخط کرنے والوں میں ایلن بارڈر، ڈیوڈ گاور، اسٹیو وا، ناصر حسین اور جان رائٹ جیسے معتبر کرکٹرز بھی شامل ہیں۔ خط پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں سے تعلق رکھنے والے کئی نمایاں ناموں نے دستخط کیے۔

سنیل گواسکر، کپل دیو، ایئن چیپل، کلائیو لائیڈ اور مائیکل ایتھرٹن سمیت 14 بڑے ناموں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے ماہر ڈاکٹروں سے فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔

اپنے مراسلے میں سابق کپتانوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹس پر “ گہری تشویش” کا اظہار کیا، خصوصاً بینائی میں کمی کے دعوؤں اور گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران حراست کی صورتحال پر سوال اٹھائے۔

دستخط کنندگان نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ انہیں فوری اور مسلسل طبی معائنہ مستند ماہرین کے ذریعے فراہم کیا جائے، اور حراستی حالات بین الاقوامی انسانی معیارات کے مطابق بنائے جائیں۔ انہوں نے باقاعدہ خاندانی ملاقاتوں اور منصفانہ و بروقت قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

کرکٹرز نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل کی روح، منصفانہ کھیل، وقار اور احترام جیسی اقدار صرف میدان تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، خاص طور پر ایک سابق قومی رہنما اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ اسپورٹس شخصیت کے معاملے میں۔

یہ اپیل اڈیالہ جیل سے متعلق حالیہ اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں عمران خان کو بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد رکھا گیا ہے۔ ان کے حامیوں نے صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بینائی میں نمایاں کمی اور ذاتی طبی سہولیات اور خاندانی ملاقاتوں تک محدود رسائی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

کچھ سابق کپتانوں نے اس انسانی اپیل کی حمایت میں عوامی بیانات بھی جاری کیے اور عمران خان کو ایک ایسی شخصیت قرار دیا جس نے اپنے کھیل کے دوران کرکٹ کے اتحاد اور ہم آہنگی کے جذبے کی نمائندگی کی۔

اپنے پیغام میں گروپ نے نشاندہی کی کہ کرکٹ تاریخی طور پر ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی رہی ہے، اور میدان سے باہر بھی کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام برقرار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے کیریئر کے دوران انہی اصولوں کی نمائندگی کی، اور اب انہیں بھی انہی اصولوں کے مطابق سلوک ملنا چاہیے۔

خط پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں سے تعلق رکھنے والے کئی نمایاں ناموں نے دستخط کیے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!