کرکٹ

دباؤ میں آکر درست فیصلے کرنے میں ناکامی ہوئی ; کپتان سلمان علی آغا

کپتان سلمان علی آغا نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شکست کی ذمہ داری قبول کرلی

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ پورے ٹورنامنٹ میں ٹیم توقعات پر پورا نہیں اتری اور گزشتہ چار ٹورنامنٹس میں بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دباؤ میں آکر درست فیصلے کرنے میں ناکامی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم دباؤ کا شکار ہوتی رہے گی تو نتائج بھی ایسے ہی آئیں گے۔ شکست کی ذمہ داری کپتان اور کوچ دونوں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ سلیکشن اور پلیئنگ الیون کے فیصلوں میں ہم خود شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے پلیئنگ الیون تشکیل دی جاتی ہے اور کوچ کے ساتھ مل کر بہترین کمبی نیشن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سلمان آغا نے تسلیم کیا کہ صاحبزادہ فرحان کے سوا بیٹنگ لائن خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ اپنی کپتانی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فوری فیصلہ کرنا جذباتی ہوگا، وطن واپسی کے بعد چند روز سوچ بچار کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے فخر زمان کی اننگز کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاور پلے میں اسی نوعیت کی بیٹنگ درکار تھی۔ ان کے مطابق میچ سے قبل سیمی فائنل تک رسائی کے لیے حکمت عملی واضح تھی،

تاہم یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ فخر زمان کو ابتدائی چار میچز میں موقع دیا جا سکتا تھا، اگرچہ اس سے قبل ان کی فارم تسلی بخش نہیں تھی۔

یاد رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 8 مرحلے میں پاکستان نے سری لنکا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 رنز سے شکست دی، تاہم مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہونے کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا۔

پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 212 رنز بنائے، جبکہ سری لنکا کی ٹیم 207 رنز تک محدود رہی۔

پاکستان کو سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے سری لنکا کو 147 رنز یا اس سے کم پر آؤٹ کرنا ضروری تھا، تاہم بولرز حریف ٹیم کو مقررہ حد تک محدود نہ کر سکے اور گرین شرٹس ورلڈکپ سے باہر ہو گئے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!