
ورلڈکپ تنازع: مصر کے اعتراضات پر چیف ریفری آفیسر کا مؤقف سامنے آ گیا
زیورخ: فیفا کے چیف ریفری آفیسر پیئرلوئیجی کولینا نے میچ آفیشلز کی غیر جانبداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی کپ میں خدمات انجام دینے والے ریفریز کی دیانت اور پیشہ ورانہ صلاحیت پر شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ بغیر ثبوت لگائے جانے والے الزامات فٹبال کے مفاد کے خلاف ہیں۔
کولینا کا یہ بیان مصر کی جانب سے پری کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا کے ہاتھوں 3-2 کی شکست کے بعد سامنے آیا، جہاں مصری فٹبال حکام نے ریفریز کے چند فیصلوں پر شدید اعتراض کرتے ہوئے میچ آفیشلز کو ٹورنامنٹ سے ہٹانے اور ان کے فیصلوں کی باقاعدہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مصری فٹبال ایسوسی ایشن کا مؤقف تھا کہ دوسرے ہاف میں کیے گئے 2 اہم فیصلے ان کے خلاف گئے، جن کے باعث ارجنٹینا کو میچ میں واپسی کا موقع ملا اور وہ 2 گول کے خسارے کے باوجود کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
میچ کے بعد مصر کے کوچ حسام حسن نے بھی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا جیسے عالمی چیمپیئن کو ٹورنامنٹ میں برقرار رکھنے یا لیونل میسی کی موجودگی یقینی بنانے کی خواہش نے فیصلوں پر اثر ڈالا ہو۔
ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے پیئرلوئیجی کولینا نے کہا کہ ریفریز کے فیصلوں پر اختلاف اور تنقید کھیل کا فطری حصہ ہے، تاہم بے بنیاد دعوے نہ صرف ناقابل قبول ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں میچ آفیشلز اور ان کے اہلِ خانہ کو دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جو کسی صورت مناسب نہیں۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ فیفا کے ریفریز مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر کسی بھی شخصیت کا اثر نہیں ہوتا۔
ان کے بقول فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو بھی ریفریز کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے جبکہ میچ آفیشلز کھلاڑیوں اور کوچز کی طرح ہر مقابلے میں اپنی بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دریں اثنا فیفا کو ایک اور معاملے پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔
بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف ریڈ کارڈ حاصل کرنے والے فولارین بالوگن کی خودکار پابندی برقرار نہ رکھنے کے فیصلے پر یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر معمولی، ناقابل فہم اور بلاجواز قرار دیا،
جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فیفا سے اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔



