انڑویوز

کھیل میرا ورثہ،خدمت میرا مشن ہے ; طارق محمود

طارق محمود خیبرپختونخوا سپورٹس کا وہ نام جو تین نسلوں تک کھیلوں کا روشن چراغ رہا

کھیل میرا ورثہ، خدمت میرا مشن ہے، سابق ڈی جی صوبائی محکمہ کھیل طارق محمود کی زندگی کا منفرد سپورٹس زندگی

طارق محمود خیبرپختونخوا سپورٹس کا وہ نام جو تین نسلوں تک کھیلوں کا روشن چراغ رہا

طارق محمود کا کھیلوں کیلئے ایسا سفر جو تاریخ کا حصہ بن گیا.

انٹرویو ; غنی الرحمن

خیبرپختونخوا میں کھیلوں کی ترقی اور کھلاڑیوں کی رہنمائی کے حوالے سے اگر چند بڑے اور معتبر ناموں کا ذکر کیا جائے تو ان میں سابق ڈائریکٹر اسپورٹس اور قائم مقام ڈی جی اسپورٹس طارق محمود کا نام ہمیشہ نمایاں رہے گا۔

وہ نہ صرف ایک تجربہ کار منتظم اور محنتی افسر تھے بلکہ عملی طور پر خود بھی ایک ہمہ گیر اسپورٹس مین تھے جنہوں نے اپنے کردار، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ دیانت کے ذریعے صوبائی سطح پر کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔

طارق محمود کا سفر صرف ایک سرکاری افسر کا سفر نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی داستان ہے جس کی رگ رگ میں کھیل بسا ہوا تھا، ایک ایسا ورثہ جسے انہوں نے اپنے والد سے حاصل کیا،

اپنی محنت سے پروان چڑھایا اور آج ان کے بیٹے تک پہنچا دیا۔ یہ داستان محکمے کی فائلوں، سرکاری کرسیوں اور اسٹیڈیمز کے شور سے کہیں آگے بڑھ کر ایک ایسے کردار کی عکاسی کرتی ہے جو تاحیات کھیل کو بطور طرزِ زندگی اپنانے کا زندہ ثبوت ہے۔

خیبرپختونخوا کے کھیلوں کی دنیا میں طارق محمود ایک ایسا معتبر نام ہیں جن کی خدمات کو آج بھی عزت اور فخر کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ صوبائی محکمہ کھیل کے سابق ڈائریکٹر اسپورٹس اور قائم مقام ڈی جی اسپورٹس رہنے والے طارق محمود نے نہ صرف انتظامی سطح پر شاندار کارکردگی دکھائی بلکہ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے جو عملی کام کیا،

وہ انہیں اپنے ہم منصب افسران سے ممتاز کرتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ ڈویژن میں کھیلوں کے فروغ کے لئے ان کی دہائیوں پر محیط محنت ایک مضبوط اور واضح نشان چھوڑ گئی ہے، کیونکہ وہ 38 سال تک بطور ڈویژنل سپورٹس آفیسر خدمات انجام دیتے رہے۔

طارق محمود کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جس کا ہر فرد کھیل کے میدان میں اپنی شناخت رکھتا ہے۔ ان کے والد نہ صرف پاکستان کے ہاکی کھلاڑی تھے

بلکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے جوائنٹ سیکرٹری، خیبرپختونخوا ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اور ہزارہ ڈویژن کے پہلے ہاکی صدر بھی رہے۔ اسی مضبوط کھیلوں کے ورثے نے طارق محمود کی شخصیت میں کھیل کے بنیادی جوہر اور نظم و ضبط کو پروان چڑھایا۔

یہی جذبہ آگے چل کر ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی جھلکتا رہا۔ بطور ڈی جی سپورٹس خیبرپختونخوا انہوں نے سیکرٹری سپورٹس سمیت مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ افسران کو سپورٹس کمپلیکس آکر کھیلنے کی ترغیب دی، تاکہ کھیل کو بطور طرزِ زندگی اپنایا جائے۔

ان کی کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے بڑے سرکاری افسران کھیل کے میدانوں میں باقاعدگی سے حصہ لینے لگے، جس سے نہ صرف صحت مند سرگرمیوں کا رجحان بڑھا بلکہ سرکاری سطح پر کھیل کے فروغ کی سوچ کو تقویت ملی۔

طارق محمود خود بھی ایک ہمہ گیر سپورٹس مین رہے ہیں۔ بچپن سے کھیلوں سے شغف رکھنے والے طارق محمود والی بال، باسکٹ بال، بیڈمنٹن اور سکواش سمیت متعدد کھیلوں میں بہترین کارکردگی دکھا چکے ہیں۔

ان کا دعویٰ کسی مبالغے سے خالی نہیں کہ انہوں نے جس بھی کھیل میں قدم رکھا، اپنی صلاحیت منوائی۔ آج ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ باقاعدگی سے کھیل رہے ہیں، یہی سبب ہے کہ وہ فخر سے کہتے ہیں کہ انہیں زندگی بھر میں کبھی میڈیکل الاؤنس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ان کے خاندان کا ورثہ بھی اسی طرح شاندار سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا بیٹا، سکواڈرن لیڈر شاہ زیب طارق پاکستان ایئر فورس کا قابلِ فخر افسر اور بین الاقوامی سطح کا سکواش کھلاڑی ہے، جو انٹر سروسز اسکواش چیمپئن شپ میں ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے سبز ہلالی پرچم کو عالمی مقابلوں میں سربلند کیا ہے۔

طارق محمود نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ صوبے کی مختلف سپورٹس ایسوسی ایشنز کے لئے بھی ہر دلعزیز شخصیت رہے ہیں۔ ان کی سرپرستی، انتظامی صلاحیت اور بےلوث خدمت نے خیبرپختونخوا کے کھیلوں کے ڈھانچے کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ صوبائی محکمہ کھیل میں پہلے ایسے افسر تھے جو بذاتِ خود باصلاحیت کھلاڑی بھی تھے، دورانِ ملازمت بھی کھیلتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا یہ سفر جاری ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ طارق محمود نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ عوامی خدمت کے نام کیا تو غلط نہ ہوگا۔ آج بھی وہ ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد کے زکوٰۃ چیئرمین کی حیثیت سے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں، جہاں ان کی دیانت، تندہی اور کام کا معیار اسی طرح نمایاں ہے جیسے محکمہ کھیل میں تھا۔

ان کی دیرپا خدمات کھیلوں سے محبت اور کھلاڑیوں کے لئے خلوصِ دل سے کی گئی جدوجہد انہیں خیبرپختونخوا میں ایک قابلِ احترام مقام عطا کرتی ہے۔ طارق محمود آج بھی اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ اگر جذبہ سچا ہو اور نیت صاف ہو تو انسان ہر میدان میں کامیابی اور عزت حاصل کرتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!