
اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائرز: پاکستان کو میانمار کے ہاتھوں 1-2 سے شکست، مہم کا اختتام
اسلام آباد: پاکستان فٹبال ٹیم 2027 اے ایف سی ایشین کپ کوالیفائنگ مہم کے آخری میچ میں میانمار کے ہاتھوں 1-2 سے شکست کھا گئی۔ منگل کو جناح اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں قومی ٹیم نے بھرپور کھیل پیش کیا لیکن نتیجہ ان کے حق میں نہ رہا۔
ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو کی زیر نگرانی پاکستانی ٹیم نے خاص طور پر پہلے ہاف میں بہترین مزاحمت اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، تاہم دوسرے ہاف میں دفاعی غلطیاں مہنگی ثابت ہوئیں۔ اس نتیجے کے بعد پاکستان گروپ ای میں چھ میچوں میں دو پوائنٹس کے ساتھ اپنی مہم کا اختتام کر رہا ہے۔
پاکستان نے میچ کا آغاز کافی بہتر انداز میں کیا اور پہلے ہاف کے وسط میں ایک یقینی موقع اس وقت بنایا جب کپتان عالمگیر غازی نے دور سے ایک زوردار ہٹ لگائی، جسے میانمار کے گول کیپر زن نی نی آنگ نے بڑی مہارت سے روکا۔
کچھ ہی دیر بعد ایک اور اچھے موو پر علی عزیر نے ہیڈر کے ذریعے گیند ساتھی کھلاڑی کی طرف اچھالی لیکن شائق دوست اسے گول میں تبدیل نہ کر سکے۔
پہلے ہاف میں برتری رکھنے کے باوجود دوسرے ہاف کے آغاز میں ہی پاکستان کو اس وقت دھچکا لگا جب گول کیپر ثاقب حنیف ایک ‘بیک پاس’ کو صحیح طرح کلیئر نہ کر سکے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میانمار نے پہلا گول کر دیا۔
مہمان ٹیم نے کھیل کے 60 ویں منٹ میں اپنی برتری دگنی کر دی، جب تھان پینگ نے پاکستانی دفاع کی غلطی اور آف سائیڈ ٹریپ ٹوٹنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رائٹ کراس پر گیند کو جال کی راہ دکھائی۔
دو گول کے خسارے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں نے ہار نہیں مانی اور حملے جاری رکھے۔ ان کی یہ محنت 90 ویں منٹ میں رنگ لائی جب شائق دوست نے طفیل شنواری کے بہترین کراس پر ہیڈر کے ذریعے خوبصورت گول کیا۔ یہ اعزاز حسین کے افغانستان کے خلاف کیے گئے گول کے بعد پاکستان کا پہلا بین الاقوامی گول تھا۔
آخری لمحات میں اس گول نے ہوم ٹیم میں نئی روح پھونک دی، حالانکہ ٹیم اس وقت دس کھلاڑیوں تک محدود ہو چکی تھی کیونکہ جنید شاہ انجری کے باعث میدان سے باہر چلے گئے تھے
اور پاکستان اپنے تمام متبادل کھلاڑی استعمال کر چکا تھا۔ آخری سیٹی بجنے تک پاکستان نے برابری کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن میانمار نے اپنا دفاع مضبوط رکھا اور کامیابی حاصل کر لی۔
اس نتیجے کے ساتھ میانمار گروپ ای میں 12 پوائنٹس لے کر شام کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ پاکستانی ٹیم کی مہم اگرچہ ختم ہوگئی ہے لیکن اس دوران کھلاڑیوں نے مستقبل کے لیے کئی امید افزا اشارے اور اہم سبق حاصل کیے۔



