کرکٹ

بابراعظم کا دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنا درست فیصلہ نہیں تھا: وسیم اکرم

بابراعظم کا ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنا درست فیصلہ نہیں تھا: وسیم اکرم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان وسیم اکرم نے بابر اعظم کے قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خیال میں بابر کو کپتانی قبول نہیں کرنی چاہیے تھی۔

مانچسٹر میں وقار یونس کے ہمراہ خیراتی فنڈ جمع کرنے کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ وہ کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں چاہتے اور ممکن ہے ان کی رائے درست نہ ہو، تاہم ان کے نزدیک بابر اعظم کا کپتانی سنبھالنا ایک غیر ضروری فیصلہ تھا۔

سابق کپتان نے قومی ٹیم کے تیسرے ٹیسٹ کے دوران پیش آنے والے ایک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹاس کے موقع پر بابر اعظم سے ٹیم کے 7 کھلاڑیوں اور کوچ کی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔

وسیم اکرم کے مطابق بابر اعظم نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں معلوم نہیں۔ اس پر وسیم اکرم نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر کپتان کو ہی ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کا علم نہیں تو پھر وہ وہاں کیا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی اور ایک شخص کی حیثیت سے ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کے قائد کا اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔ اگر کپتان کسی مشکل صورت حال میں اپنے کھلاڑی کا ساتھ نہ دے تو اس کھلاڑی کے لیے میدان میں اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کارکردگی دکھانا مشکل ہوسکتا ہے۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ دوسرے ٹیسٹ کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی، اس کے تناظر میں بابر اعظم کو یہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے تھا کہ وہ قیادت کی ذمہ داری کے بجائے صرف ایک کھلاڑی کی حیثیت سے ٹیم کے لیے کھیلیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو کسی پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں بلکہ بابر اعظم کے کپتانی کے فیصلے سے متعلق ان کی ذاتی رائے ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!