
نیشنل گیمز 2025 – 18 سال بعد کراچی میں، ایک نیا آغاز
تحریر: عبدالغفار خان
پاکستان میں کھیلوں کا شعبہ ہمیشہ سے حکومتی عدم توجہی کا شکار رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ قومی سطح کے کئی ایونٹس یا تو ملتوی ہوتے رہے ہیں یا ان کا انعقاد نامکمل تیاریوں کے ساتھ کیا گیا۔
نیشنل گیمز، جو کہ پاکستان میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹس میں شمار ہوتا ہے، بھی اس صورتِ حال کا شکار رہا۔ تاہم، 18 سال بعد کراچی میں اس کا انعقاد یقیناً ایک بڑی پیش رفت ہے، جو نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
نیشنل گیمز کا آغاز 1948 میں کراچی سے ہوا، اور اس کا بنیادی مقصد مختلف کھیلوں کو فروغ دینا، کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے ٹیلنٹ تلاش کرنا تھا۔ تاہم،
بدقسمتی سے یہ ایونٹ ہمیشہ سے مالی وسائل کی کمی، ادارہ جاتی تنازعات اور حکومتی غیر سنجیدگی کا شکار رہا۔
گزشتہ نیشنل گیمز 2023 میں کوئٹہ میں منعقد ہوئے تھے، لیکن اس سے پہلے 2012 سے 2019 تک یہ ایونٹ مکمل طور پر غیر فعال رہا۔ ایسے میں 2025 میں کراچی میں اس کا انعقاد کرنا ایک بڑی پیش رفت تو ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔
کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے، 18 سال بعد ایک بار پھر نیشنل گیمز کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ موقع کراچی کے لیے ایک نئی امید بن سکتا ہے، لیکن کچھ بڑے چیلنجز بھی درپیش ہوں گے، جن کا حل نکالنا ضروری ہے۔
کراچی میں مئی کے مہینے میں درجہ حرارت 35 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، جو کھلاڑیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ وزیر کھیل سردار بخش مہر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ گرمی کے باوجود یہ ایونٹ کرانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ خاص طور پر ایتھلیٹکس اور فٹبال جیسے آؤٹ ڈور گیمز کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہوگا۔
کراچی میں اس سے قبل بھی مختلف قومی اور بین الاقوامی ایونٹس کے دوران سیکیورٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ نیشنل گیمز کے دوران ملک بھر سے ہزاروں کھلاڑی اور آفیشلز کراچی آئیں گے، جس کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دینا انتہائی ضروری ہوگا۔
کراچی میں نیشنل گیمز کے انعقاد کے لیے 21 مختلف اسٹیڈیمز اور اسپورٹس کمپلیکسز کو استعمال کیا جائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولیات جدید تقاضوں کے مطابق ہیں؟ 18 سال کے طویل وقفے کے بعد شہر میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر میں کتنی بہتری آئی ہے؟ ان سوالات کا جواب نیشنل گیمز کے دوران واضح ہو جائے گا
نیشنل گیمز کے لیے بھرپور حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ماضی میں اس حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال رہی ہے۔ 2012 سے 2019 تک نیشنل گیمز کا انعقاد نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی تھی۔
کراچی میں اس بار ایونٹ کا انعقاد تو ہو رہا ہے، لیکن اگر مستقبل میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھنا ہے تو مستقل بنیادوں پر ایک مضبوط سپورٹس پالیسی ترتیب دینی ہوگی۔
نیشنل گیمز نہ صرف کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ نیشنل گیمز میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی بعد میں بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، نیشنل گیمز 2025 کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف شرکت کریں گے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو اس سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سنجیدگی مستقل ہوگی یا صرف ایک وقتی اقدام؟
نیشنل گیمز 2025 کا کراچی میں انعقاد ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ اگر حکومت، منتظمین اور کھیلوں سے وابستہ ادارے مکمل تیاری کے ساتھ اس ایونٹ کو کامیاب بناتے ہیں
تو یہ مستقبل میں پاکستان میں کھیلوں کے احیا کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم، اگر اسے محض ایک رسمی سرگرمی کے طور پر لیا گیا تو یہ ایک ضائع شدہ موقع ثابت ہوگا۔
پاکستان میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نیشنل گیمز جیسے ایونٹس کو سنجیدگی سے لیا جائے، ان کے لیے مستقل فنڈنگ مختص کی جائے، اور ہر دو سال بعد باقاعدگی سے ان کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
اگر ایسا ہوا تو پاکستان ایک بار پھر کھیلوں کے میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتا ہے۔



