ہاکی

پاکستان ہاکی ٹیم کو پرو لیگ میں انٹری مل گئی

پاکستان ہاکی ٹیم کو پرو لیگ میں انٹری مل گئی

پاکستان قومی ہاکی ٹیم کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ طور پر رابطہ کر کے انہیں پرو ہاکی لیگ 2025 میں شرکت کی دعوت دے دی ہے۔

یہ پیش رفت نہ صرف کھیل کے شائقین کے لیے ایک خوشی کی خبر ہے بلکہ پاکستان ہاکی کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نیوزی لینڈ، جو کہ نیشنز ہاکی کپ کی فاتح ٹیم تھی، مالی مشکلات کے باعث پرو ہاکی لیگ میں شرکت سے دستبردار ہو گئی ہے۔

اس صورتحال میں ایف آئی ایچ کے موجودہ قواعد کے مطابق رنر اپ ٹیم یعنی پاکستان کو اس کا متبادل قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے اور عالمی رینکنگ میں بہتری لانے کا نایاب موقع حاصل ہو گیا ہے۔

فی الحال قومی ٹیم عالمی درجہ بندی میں 13ویں پوزیشن پر موجود ہے اور پرو ہاکی لیگ جیسے اعلیٰ سطح کے مقابلے میں شرکت اس درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گی۔

اس لیگ میں دنیا کی بہترین ٹیمیں شامل ہوتی ہیں اور اس کا حصہ بننے کا مطلب ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ صرف اعلیٰ معیار کی ہاکی کھیلنے کا تجربہ حاصل ہوگا بلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر خود کو منوانے کا موقع بھی ملے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ نیوزی لینڈ مالی مسائل کی وجہ سے بین الاقوامی مقابلوں سے پیچھے ہٹا ہو۔ ماضی میں بھی کیوی فیڈریشن، جو کہ ہاکی کو ایک شوقیہ کھیل سمجھتی ہے،

مالی دباؤ کا شکار رہی ہے اور کئی مواقع پر عالمی ٹورنامنٹس سے دستبردار ہونا پڑا۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہاکی کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے اور یہ فیصلہ یقینی طور پر پاکستانی کھیلوں کے منظرنامے میں نئی جان ڈال سکتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کوششیں صرف پرو لیگ تک محدود نہیں۔ فیڈریشن کی نظریں اگست اور ستمبر میں شیڈول ایشیاکپ پر بھی مرکوز ہیں، جو بھارت میں منعقد ہونا ہے،

تاہم دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان کی شرکت پر غیریقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ایف آئی ایچ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایشیاکپ کو کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیا جائے تاکہ قومی ٹیم کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔

ایشیاکپ کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہو جاتی ہے کیونکہ یہ ٹورنامنٹ ورلڈ کپ 2026 کے کوالیفائنگ راؤنڈ کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر پاکستان ایشیاکپ میں شرکت سے محروم رہتا ہے

تو عالمی کپ میں رسائی کے دروازے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے فیڈریشن سفارتی سطح پر بھی فعال ہے تاکہ کھیل کے میدان سے سیاست کو دور رکھا جا سکے۔

پرو ہاکی لیگ میں شرکت پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک محرک بنے گی، جو طویل عرصے سے عالمی مقابلوں سے دوری کی وجہ سے محدود مواقع کا شکار رہے ہیں۔

اب جب کہ پاکستان کو عالمی سطح پر واپسی کا موقع مل رہا ہے، یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے لمحہ فکر بھی ہے کہ اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!