
ٹیسٹ میچز میں سنسنی برقرار رکھنے کے لیے قانون میں تاریخی تبدیلی
ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرا دی گئی ہے جسے کھیل کی روایت میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے ’لاز آف کرکٹ‘ کے نئے ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے دن کے اختتام سے متعلق قانون میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے، جس کے بعد ٹیسٹ میچز کے آخری لمحات اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔
اس فیصلے کا مقصد کھیل میں توازن، مقابلے کی شدت اور شائقین کی دلچسپی کو برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق اگر ٹیسٹ میچ کے دن کے آخری اوور میں کوئی وکٹ گرتی ہے تو کھیل وہیں ختم نہیں ہوگا، بلکہ نیا بیٹر میدان میں آ کر اسٹرائیک سنبھالے گا اور باقی گیندیں بھی کروائی جائیں گی۔
اس سے قبل رائج قانون کے تحت اگر آخری اوور میں وکٹ گر جاتی تو بیٹنگ ٹیم نیا کھلاڑی میدان میں نہیں بھیجتی تھی اور دن کا کھیل ختم کر دیا جاتا تھا، جس پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی تھی۔
ایم سی سی کی ذیلی کمیٹی برائے قوانین کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے بنیادی سوچ یہ تھی کہ بیٹنگ اور بولنگ سائیڈ کے درمیان منصفانہ توازن قائم رکھا جائے۔
کمیٹی کا ماننا ہے کہ جب حالات بولنگ کے حق میں ہوں، روشنی مدھم ہو اور پچ پر موومنٹ موجود ہو تو عین اسی وقت کھیل روک دینا بولنگ ٹیم کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اور میچ کی فطری سنسنی بھی متاثر ہوتی ہے۔
ایم سی سی کا کہنا ہے کہ سابقہ قانون میں یہ صورتحال اکثر دیکھنے میں آتی تھی کہ فیلڈنگ سائیڈ آخری اوور میں وکٹ حاصل کر لیتی، مگر بیٹنگ سائیڈ نیا بیٹر بھیجنے سے گریز کرتی اور اگلے دن کھیل دوبارہ شروع ہوتا۔
اس وقفے سے نہ صرف دباؤ ختم ہو جاتا بلکہ بولرز کو حاصل ہونے والا فائدہ بھی ضائع ہو جاتا، جو مقابلے کی روح کے منافی تھا۔ نئے قانون 12.5.2 میں ترمیم کے بعد اب آخری اوور ہر صورت مکمل کروایا جائے گا،
چاہے اس دوران وکٹ ہی کیوں نہ گر جائے۔ ایم سی سی کے مطابق اس سے کھیل کی رفتار، توازن اور شائقین کے لیے دلچسپی میں اضافہ ہوگا جب کہ ٹیموں کو حکمتِ عملی بنانے میں بھی زیادہ دیانت داری اختیار کرنا پڑے گی۔
اس اہم تبدیلی کے ساتھ ایم سی سی نے قوانین میں مجموعی طور پر 73 ترامیم متعارف کرائی ہیں، جن میں ہٹ وکٹ، اوور تھرو اور دیگر تکنیکی نکات شامل ہیں۔
یہ تمام نئے قوانین یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے، جس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کا انداز پہلے سے کہیں زیادہ متحرک نظر آئے گا۔



