پاکستان ہاکی ٹیم کیلئے غیرملکی کوچ لانے کا فیصلہ؟
کولن بیچ کے نام پر غور، وسیم احمد نے بھی اسسٹنٹ کوچ بننے کی کوشش شروع کر دی ۔

پاکستان ہاکی ٹیم کیلئے غیر ملکی کوچ کی پھر سے تلاش
کولن بیچ کے نام پر غور، وسیم احمد نے بھی اسسٹنٹ کوچ بننے کی کوشش شروع کر دی ۔
لاہور: پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے نئے غیر ملکی ہیڈ کوچ کی تلاش ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں آسٹریلیا کے سابق بین الاقوامی کھلاڑی اور تجربہ کار کوچ کولن بیچ کا نام زیرِ غور بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر کولن بیچ کی تقرری عمل میں آتی ہے تو سابق قومی اسٹار وسیم احمد کو اسسٹنٹ کوچ بنانے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) قومی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے ایک تجربہ کار غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے کولن بیچ کو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
کولن بیچ 27 مارچ 1958 کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پیدا ہوئے۔ وہ بطور فارورڈ اپنی غیر معمولی کھیل سمجھ، گیند پر بہترین کنٹرول اور گول کرنے کی مہارت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
انہوں نے 1979 سے 1990 تک آسٹریلیا کی قومی ٹیم کوکابُراز کی نمائندگی کی اور 175 بین الاقوامی میچز کھیلتے ہوئے 100 گول اسکور کیے۔
ان کے نمایاں کارناموں میں 1986 کا ہاکی ورلڈ کپ گولڈ میڈل شامل ہے جبکہ آسٹریلیا نے 1982 اور 1990 کے ورلڈ کپ میں برانز میڈل بھی حاصل کیا۔ اولمپکس میں بھی وہ آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے ہیں جہاں 1984 لاس اینجلس اور 1988 سیول اولمپکس میں ٹیم چوتھے نمبر پر رہی۔
کھلاڑی کے طور پر ریٹائرمنٹ کے بعد کولن بیچ نے کوچنگ کا آغاز کیا اور جلد ہی دنیا کے کامیاب ترین ہاکی کوچز میں شمار ہونے لگے۔ وہ 2001 سے 2008 تک آسٹریلیا کی قومی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ رہے،
جو آسٹریلوی ہاکی کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران آسٹریلیا نے 2004 ایتھنز اولمپکس میں گولڈ میڈل اور 2008 بیجنگ اولمپکس میں برانز میڈل سمیت کئی بڑے اعزازات اپنے نام کیے۔
بعد ازاں کولن بیچ نے بیلجیئم کی قومی ٹیم ریڈ لائنز کے ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دیں اور 2010 سے 2012 کے دوران ٹیم کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد وہ نیوزی لینڈ کی قومی ٹیم بلیک سٹکس کے ہیڈ کوچ بنے اور 2016 ریو اولمپکس تک ٹیم کی قیادت کی۔
دسمبر 2016 میں کولن بیچ دوبارہ آسٹریلیا کی قومی ٹیم کوکابُراز کے ہیڈ کوچ مقرر ہوئے اور تقریباً آٹھ برس تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کی کوچنگ میں آسٹریلیا نے ٹوکیو 2020 اولمپکس میں سلور میڈل حاصل کیا
جبکہ دولتِ مشترکہ کھیلوں 2018 اور 2022 میں گولڈ میڈلز جیتے۔ اس کے علاوہ ٹیم نے ایف آئی ایچ پرو لیگ 2019 اور 2023/24 کے ٹائٹلز بھی اپنے نام کیے۔
کولن بیچ کو 2019 میں ایف آئی ایچ مینز کوچ آف دی ایئر کا اعزاز دیا گیا جبکہ 2021 میں انہیں ہاکی آسٹریلیا ہال آف فیم میں بھی شامل کیا گیا۔ وہ ستمبر 2024 میں آسٹریلیا کی قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے اور اس وقت بین الاقوامی ہاکی میں نئے کردار کے لیے دستیاب ہیں۔
دوسری جانب سابق قومی کپتان وسیم احمد جو پاکستان ہاکی کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں وہ بھی موجودہ ٹیم کیساتھ کام کرنے کیلئے ہاتھ ہاؤں مار رہے ہیں ۔
وہ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلنے کا اعزاز رکھتے ہیں اور 1996 سے 2012 کے درمیان 410 انٹرنیشنل کیپس حاصل کر چکے ہیں۔ انہیں دنیا کے بہترین لیفٹ ہاف کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ طویل عرصے تک پاکستان کی مڈفیلڈ کا اہم ستون رہے۔
ہاکی لوورز کے مطابق اگر پاکستان ہاکی فیڈریشن کولن بیچ جیسے تجربہ کار کوچ کو قومی ٹیم کے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان ہاکی کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔



