کرکٹ

دنیا ہم پر ہنس رہی ہے، فیصلے سیریز ختم ہونے کے بعد کرتے،شاہد آفریدی کی پی سی بی پر تنقید

دنیا ہم پر ہنس رہی ہے، فیصلے سیریز ختم ہونے کے بعد کرتے،شاہد آفریدی کی پی سی بی پر تنقید

ایک طرف انگلینڈ کے ہاتھوں شکست، دوسری طرف پی سی بی کے پے در پے فیصلے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد پی سی بی کے فیصلوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں،

اور اب سابق کپتان شاہد آفریدی بھی کھل کر بول پڑے ہیں۔ شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ جو فیصلے کرنے تھے وہ سیریز ختم ہونے کے بعد لیے جاتے، لیکن موجودہ صورتحال نے پاکستان کرکٹ کا مذاق بنا دیا ہے۔

شاہد آفریدی نے ٹیسٹ اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ہمارے فیصلوں پر ہنس رہی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے فیصلوں سے خود اپنا مذاق بنوایا ہے اور دنیا ہم پر ہنس رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ چیئرمین پی سی بی کا بھی تھا تو سلیکشن کمیٹی کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے تھی۔ آفریدی نے ٹیسٹ اسکواڈ میں ٹی20 فارمیٹ کے کھلاڑیوں کی شمولیت پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیسرے ٹیسٹ کے لیے ایسے کھلاڑی بھیجے گئے ہیں جو بنیادی طور پر ٹی20 کرکٹ سے وابستہ ہیں۔

شاہد آفریدی کے مطابق پاکستان کرکٹ کا اصل مسئلہ فیصلوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ فیصلوں میں تسلسل نظر آتا ہے اور نہ ہی میرٹ پر مستقل بنیادوں پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

سابق کپتان نے کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف پانچ ٹیسٹ میچز کے بعد کوچ کو ہٹانے کی کیا وجہ تھی اور سرفراز احمد کو انڈر 19 سطح پر کام کے لیے لانے کے چند ماہ بعد ہی قومی ٹیم کی کوچنگ سے جوڑ دینا کس عمل کا حصہ ہے؟

آفریدی نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو مشورہ دیا کہ وہ کرکٹ کے معاملات پر زیادہ توجہ دیں اور اہم ذمہ داریاں دوسروں پر چھوڑنے کے بجائے خود نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ابتدائی دونوں میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انگلینڈ کو دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

تیسرے ٹیسٹ سے قبل پی سی بی نے ٹیسٹ اسکواڈ اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔اب سوال صرف انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کا نہیں، سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ میں بار بار بدلتی حکمتِ عملی آخر ٹیم کو کہاں لے جا رہی ہے؟۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!