سپورٹس رپورٹرز کا آثارِ قدیمہ: پنڈی اسٹیڈیم سے آبپارہ تک
آثارِ قدیمہ نہیں، تاریخ ہیں ہم: 2000 سے پنڈی اسٹیڈیم میں رلنے والے 5 رپورٹرز کی کہانی

سپورٹس رپورٹرز کا آثارِ قدیمہ: پنڈی اسٹیڈیم سے آبپارہ تک
راولپنڈی / اسلام آباد سے خصوصی تحریر ; نمود سید
سپورٹس رپورٹرز کا آثارِ قدیمہ: پنڈی اسٹیڈیم سے آبپارہ تک پنڈی اسٹیڈیم کے پریس باکس کی وہ کرسیاں آج بھی گواہ ہیں کہ ہم نے یہاں کیسے جوانی گزاری۔
1۔ ہم خود – ہم ہیں جو دو ہزار کے اوائل سے اسی پنڈی اسٹیڈیم اور اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ نہ کوئی بڑا ادارہ پیچھے، نہ کوئی سرکاری گاڑی۔
جیب میں پریس کارڈ، ہاتھ میں ڈائری اور دل میں صرف ایک دھڑکا کہ آج کی خبر سب سے پہلے نکلنی چاہیے۔ ہم وہ نسل ہیں جس نے گرمی، دھول اور انتظار میں صحافت سیکھی۔
2۔ استاد عبدالجبار فیصل صاحب – یہ ہم سے بھی پرانی روح ہیں۔ یہ رپورٹر نہیں، چلتا پھرتا ادارہ ہیں۔ پاکستان میں کھیلوں کی صحافت کی تاریخ لکھی جائے تو فیصل صاحب کا باب سب سے موٹا ہوگا۔
جنہوں نے ہمیں سکھایا کہ خبر سورس سے نہیں، گراؤنڈ سے نکلتی ہے۔ آج بھی جب ہم بھٹکتے ہیں تو فیصل صاحب کا ایک فون ہمیں سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔
3۔ ناصر نقوی صاحب – اسلام آباد میں سپورٹس رپورٹنگ کا دوسرا نام۔ بے تاج بادشاہ۔ ان کا لہجہ نرم، مگر قلم میں ایسی کاٹ کہ بڑے سے بڑا آفیشل بھی ان کی خبر کا جواب دینے پر مجبور ہو جائے۔ نقوی صاحب نے ہمیں سکھایا کہ عزت مانگنے سے نہیں، کام سے بنتی ہے۔
4۔ عبدالغفار – قبائل سے آیا ہوا شیر – یہ سب سے الگ کہانی ہے۔ قبائلی علاقہ جات کی سخت زمین سے اٹھ کر صرف کھیلوں کے عشق میں اسلام آباد آیا۔ نہ جان پہچان، نہ سفارش۔
کبھی اخبار کے دفتر کے چکر، کبھی ریڈیو پاکستان کے لیے رات گئے تک وائس ریکارڈنگ۔ اس کی آنکھوں میں آج بھی وہی جنون ہے، گراؤنڈ میں سب سے پہلے پہنچنا اور سب سے آخر میں نکلنا۔
5۔ ارسلان – ہمارا نیا خون – اور آخر میں ارسلان۔ ہم نے اس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ یہ چھوٹا ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ ایک نمبر وین پنڈی اسٹیڈیم کیسے جاتی ہے،
اسے نہیں معلوم کہ فلم والے کیمرے سے فوٹو کیسے بنتا تھا۔ لیکن اس کی روح ہم پانچوں سے ملتی ہے۔ اسی لیے آج کے واٹس ایپ اور AI کے دور میں بھی یہ لڑکا ہمارے ساتھ اسی ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھتا ہے۔
ہمارا اصل دفتر؟ ہمارا کوئی دفتر نہیں تھا سر۔ ہمارا دفتر سپورٹس کمپلیکس کا لان تھا۔ وہاں سے خبر نہ ملتی تو ایک نمبر وین پکڑ کر سیدھا پنڈی اسٹیڈیم۔ اور شام کو دن بھر کی کمائی، یعنی خبریں بنا کر، ہم سب کا ایک ہی اڈہ تھا،
آبپارہ مارکیٹ کی چائے۔ اس ایک کپ چائے میں ہم پورا دن نچوڑ دیتے تھے۔ آج سپورٹس رپورٹنگ محدود ہو گئی ہے، چھوٹی ہو گئی ہے۔ اب کوئی گراؤنڈ نہیں جاتا، بس پریس ریلیز فارورڈ ہو جاتی ہے۔ مگر ہم پانچوں آج بھی اسی آثارِ قدیمہ کا حصہ ہیں۔



