دیگر سپورٹس

پی ایس بی بورڈ نے اصلاحاتی ایجنڈے کی توثیق، اہم پالیسی اور مالی فیصلوں کی منظوری دے دی

پی ایس بی بورڈ نے اصلاحاتی ایجنڈے کی توثیق، اہم پالیسی اور مالی فیصلوں کی منظوری دے دی

اسلام آباد : پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے 36ویں بورڈ اجلاس میں ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک جامع اور دور رس اصلاحاتی و ترقیاتی ایجنڈے کی توثیق کرتے ہوئے متعدد اہم پالیسی اور مالی فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور صدر پی ایس بی رانا ثناء اللہ خان نے کی، جو 31 مارچ 2026 کو پی ایس بی ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔

ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی یاسر پیرزادہ نے ششماہی کارکردگی رپورٹ (جولائی تا دسمبر 2025) پیش کی، جس میں گورننس اصلاحات، انفراسٹرکچر کی ترقی، کھلاڑیوں کی معاونت اور بین الاقوامی شرکت سے متعلق اہم اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔
بورڈ نے پی ایس بی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے رپورٹ کی متفقہ منظوری دی اور اسے ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری اور واضح سمت کے تعین کا عکاس قرار دیا۔

بورڈ نے ایک اہم طویل المدتی ایتھلیٹ ڈیویلپمنٹ پروگرام (LTADP) کی منظوری دی، جس کے تحت پاکستان کے اسپورٹس سسٹم کو سرگرمیوں پر مبنی طریقہ کار سے نکال کر نتائج پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل کیا جائے گا،

جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار اور اولمپک سائیکلز سے ہم آہنگ ہوگا۔ تمام قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 90 دن کے اندر چار سالہ ترقیاتی منصوبے جمع کروائیں، جبکہ مالی معاونت کو کارکردگی اور ضابطوں کی پابندی سے مشروط کیا جائے گا۔

ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت بورڈ نے پی ایس بی کے بجٹ میں نمایاں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے اسے تقریباً 1.2 ارب روپے سے بڑھا کر 4.9 ارب روپے کرنے کی سفارش کی،

تاکہ کھلاڑیوں کی تربیت، بین الاقوامی شرکت، کوچنگ اور انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس معاملے کو منظوری کے لیے وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

گورننس سے متعلق امور پر بورڈ نے قومی کھیلوں کی پالیسی 2005 کے مطابق فیڈریشنز میں مدتِ عہدہ کے قواعد پر عملدرآمد کا جائزہ لیا اور شفاف و منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے معیاری رہنما اصول وضع کرنے کی تجویز دی۔

بورڈ نے ڈوپنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ بھی کیا، بالخصوص پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے معاملے میں، جس کے بعض عہدیداران ڈوپنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!