
پاکستان کا پریمئر کرکٹ ایونٹ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن اختتام کی طرف گامزن
شائقین کی عدم شرکت سے ماحول پھیکا ضرور لیکن حکومتی کفایت شعاری کی پالیسی اور سیکورٹی
معاملات زیادہ اہم
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ایڈہاک مینجمنٹ تفویض کردہ اپنے اصل ٹارگٹ "فیڈریشن کے انتخابات،کلبوں کی سکروٹنی” کو کب پورا کرے گی
ملک میں تباہ حال فٹبال سرگرمیوں کی بحالی کے بجاۓ ای فٹبال کو فروغ دینے کا فیصلہ

قارئین محترم پاکستان کا پریمئر کرکٹ ایونٹ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن کامیابی سے اختتام کی طرف رواں دواں ہے۔شائقین کرکٹ سے خالی اسٹیڈیمز میں ہونے والے اس ایونٹ کا پہلا مرحلہ لاہور کے قزافی اسٹیڈیم میں 26 مارچ سے 6 اپریل تک مکمل ہوا
جس میں 14 میچز کھیلے گۓ اس کے بعد 8 اپریل سے 19 اپریل تک ایونٹ کا دوسرا مرحلہ کراچی کے نیشنل بنک اسٹیڈیم میں مکمل ہوا جس میں 15 میچز کھیلے گۓ
دوسرے مرحلے کے اختتام پر 8 ٹیموں میں پشاور زلمی کی ٹیم سب سے پہلے پلے آف راؤنڈ کیلۓ کوالیفائی کرنے والی ٹیم ٹھہری دوسری طرف راولپنڈیز کی ٹیم پلے آف مرحلے کیلۓ نا اہل ہونے والی پہلی ٹیم رہی۔
ابھی میچز باقی ہیں دیکھتے ہیں کون کون سی ٹیمیں پلے آف راؤنڈ میں جاتی ہیں۔چار ٹیمیں کوالیفائی کریں گی یہ راؤنڈ 28 اپریل سے شروع ہو گا جبکہ ایونٹ کا فائینل 3 مئ کو شیڈول ہے۔
شائقین کے بغیر یہ ایونٹ پھیکا ضرور ہے لیکن برقی روشنیوں سے مزئین اسٹیڈیمز میں میچز کے انعقاد کی اپنی شان ہے سیکورٹی معاملات تو سمجھ میں آتے ہیں لیکن کفایت شعاری یعنی فیول کی بچت والی بات سمجھ نہیں آئی شائقین نے جو فیول لگا کر اسٹیڈیمز آنا تھا اس سے دوگنا فیول تو اسٹیڈیمز کو روشن رکھنے میں ہی لگ رہا ہے۔
اسٹیڈیمز کی لائٹوں کونان سٹاپ روشن رکھنے کیلۓ دیو ہیکل جنریٹرز جتنا فیول پی رہے ہیں اس سے فیول کی بچت تو نہ ہوئی اگر کفایت شعاری کرنی ہی تھی تو تمام میچز دن کی روشنی میں بھی کرواۓ جا سکتے تھے۔
لیکن شاید یہ اسپانسرز،مہنگے براڈ کاسٹنگ رائٹس والی کمپنیوں یا مہنگے داموں خریدی گئیں فرنچائز اونرز کی ڈیمانڈ ہے کہ میچز برقی روشنی میں ہیں ہوں۔
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اب کرکٹ میچز کا اصل مزا شائقین کو رات کے میچز میں ہی آتا ہے۔بہرحال شائقین کو 3 مئ تک اس پریمئر ایونٹ کا مزہ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھ کر لینے میں ہی غنیمت ہے۔
قارئین ۔اب آتے ہیں قومی کھیل ہاکی کی طرف جس کے کھوۓ ہوۓ مقام کی بحالی کیلۓ ہر کوئی اپنے طور پر کوشاں ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی ایڈہاک مینجمنٹ چارج سنبھالتے ہیں ہاکی کی بحالی کے کام پر لگ گئ اور چند دن قبل بڑی کامیابی سے اسلام آباد میں قومی انڈر 18 ہاکی چیمپئن شپ کا شاندار انعقاد کیا۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن پر دیمک کی طرح چمٹ جانے والے سابق عہدیداروں کو بڑی رسوائی والے "کارنامے” کی بنیاد پر گھر بھیجنے کے بعد پیٹرن انچیف وزیر اعظم پاکستان نے ایک بیورو کریٹ محی الدین وانی کو ہاکی فیڈریشن کا ایڈہاک صدر بنا دیا جنہوں نے آتے ہی ہاکی کے معاملات کو کنٹرول کیا
اور جو جو اولمپئنز دستیاب ہوتا گیا ان کی ہاکی کیلۓ خدمات حاصل کر لیں کھیل کے ناقدین کی تنقیدوں کی پرواہ کیۓ بغیر ایک پروفیشنل اسپورٹس آرگنائزر کا کردار ادا کر رہے ہیں
حالانکہ ان کا کوئی اسپورٹس بیک گراؤنڈ یا اسپورٹس کا کوئی تجربہ بھی نہین ہے وہ صرف ایک بیوروکریٹ ہیں اور بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کی وزارت کے سیکرٹری ہیں اور اسپورٹس کے معاملات بھی اسی وزارت کے انڈر ہی آتے ہیں اسی لیۓ سابق فیڈریشن کےعہدیداروں کو فارغ کر کے پہلی چوائس محی الدین وانی ہی ٹھہرے۔
وزیر اعظم کی طرف سے ایڈہاک صدر ہاکی فیڈریشن کو اصل ٹارگٹ تو فیڈریشن کے انتخابات کروانا اور کلبوں کی سکروٹنی کا ہی ملا ہے اور اس کیلۓ تقریبا 9 ماہ کا عرصہ ان کو دیا گیا ہے۔
لیکن جس طرح وہ شوق سے قومی کھیل کی بھرپور بحالی کے کام میں لگ گۓ ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن ان کو کلبوں کی سکروٹنی مکمل کر کے فیڈریشن کے جلد از جلد انتخابات کروا کر اختیارات منتخب باڈی کو دینا ہوں گے
کیونکہ اس وقت وہ ایک ایڈہاک صدر ہیں نہ کہ ایک فل منتخب صدر ہیں جب ایک منتخب باڈی آۓ گی تو وہ کھیل کی بحالی،ترقی اور دیگر کاموں کو خود ہی سر انجام دے لے گی۔
ہاکی لورز عوام سابقہ فیڈریشن پر قابض ٹولے اور فنڈز کو ہڑپ کرنے کے رسیا مافیا سے پہلے ہی بڑی مشکل سے چھٹکارا حاصل کر سکے ہیں حالانکہ وہ بھی فیڈریشن کے انتخابات کا حکم اور ٹارگٹ لے کر آۓ تھے مدت ان کی بھی 9 ماہ میں ہی تھی یہی مدت اپنا فرض ادا کرنے کیلۓ تھی
لیکن انہوں نے انتخابات اور کلبوں کی سکروٹنی کے کام کو پس پشت ڈال کر مبینہ طور پر فنڈز پر ہاتھ صاف کرنے اور ٹی اے ڈی اے کھیلنے اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کو بھی خوب” ماموں” بنایا۔انہوں نے قومی ہاکی ٹیم کے غیر ملکی دوروں اور ٹورنامنٹس میں شرکت کے موقع پر اپنے ذاتی غیر ضرورں دوروں پر ٹی اے ڈی اے کی مد میں کروڑوں روپے وصول کیا
اور کھلاڑیوں کو ڈیلی الاؤنس ملے یا نہ ملے فیڈریشن کے ملازمین کو تنخواہیں ملیں یا نہ ملیں اس سے وہ تقریبا لا تعلق ہی رہے اور آخر کار قومی ٹیم کے آسٹریلیا کے دورے کے موقع پر کھلاڑیوں کے قیام،طعام کے بدترین انتطامات کے الزامات کی رسوائی لے کر فیڈریشن سے نکالے گۓ۔
دیمک کی طرح چمٹ جانے والا مافیا آخر کار اپنے انجام کو پہنچا۔اب فیڈریشن کی باگ ڈور محی الدین وانی کے پاس ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ دی ہوئی مدت میں تفویض کردہ ٹارگٹ کتنے عرصے میں پورا کر کے سرخرو ہوتے ہیں۔
قارئین محترم اب تھوڑی سی بات فٹبال کی بھی ہو جاۓ۔ملک میں تباہ حال فٹبال سرگرمیوں کی بحالی کے بجاۓ پاکستان فٹبال فیڈریشن کو کسی ” منچلے” نے ای فٹبال کی طرف لگا دیا ہے قومی فٹبال فیڈریشن کے غیر ملکی صدر محسن گیلانی اور ان کی ٹیم گراس روٹ اور فیلڈ فٹبال کے بجاۓ ای فٹبال کی طرف زیادہ متحرک ہو گئی ہے
گذشتہ دنوں محسن گیلانی پاکستان کے مختصر دورے پر آۓ اور ایک پریس کانفرنس میں ای فٹبال کے فائدے گنواۓ کہ اس سے نوجوانوں کو پیسہ بھی بہت ملے گا
اور پاکستان کا نام انٹرنیشنل سطح پر گونجے گا۔ ای فٹبال ان ملکوں کو زیادہ اچھا لگتا ہے جو پہلے ہی یا تو فیفا ورلڈ کپ میں شامل ہیں یا فیفا کی ورلڈ رینیکنگ میں اولین نمبروں میں ہیں ہم اس وقت نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں،
فیفا ورلڈ رینکنگ میں ایک شرمناک درجے پر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جو قومی ٹیم ( مرد و خواتین) ان میں زیادہ کھلاڑی غیر ملکی ہیں مقامی کھلاڑی کہاں ہیں۔ان کھلاڑیوں کو نمائندگی کب ملے گی۔
ڈالروں میں تنخواہیں لینے والے عہدیداران کا مبینہ طور پر یہ کہنا ہے کہ غیر ملکی ٹیموں کا مقابلہ کرنے کیلۓ ان کے ہم پلہ ٹیم بھی تو بنانی ہے یہ انکی دلیل ہے۔ آپ کو کس نے کہا کہ غیر ملکی کھلاڑی ادھار میں لے کر ہم پلہ ٹیم بنائیں۔
آپ اپنی قومی ٹیم کیوں نہیں بناتے۔ ماضی میں نیشنل،صوبائی اور مقامی سطح پر ٹورنامنٹس کی بھرمار ہوتی تھی اور پاکستانی ٹیم کو انٹرنیشنل مقابلوں کیلۓ باآسانی کھلاڑی دستیاب تھے اب بھی مل سکتے ہیں ضرورت صرف ان کو منظر عام پر لانے کی ہے۔
ملک میں فٹبال کا انفراسٹرکچر ہے نہیں فیڈریشن کا اپنا اسٹیڈیم تک نہیں۔گراؤنڈز کا فقدان ہے پہلی اس کمی کو پورا کیا جاۓ پھر کوئی اور چیز سوچیں ہمارا کون سا کوئی انٹرنیشنل مدمقابل ہے۔ جس کو ہم نے فوری طور پر نیچا دکھانا ہے۔
گراس روٹ پر فٹبال تباہ ہے،کلبوں کی سکروٹنی میں مبینہ گھپلے ہیں من پسند لوگوں کی کانگریس ہے مبینہ طور پر ملی بھگت سے عہیدیداران منتخب ہوۓ۔
اس پر حکومت بھی کوئی ایکشن نہیں لی سکتی کیونکہ فیفا سے انٹرنیشنل وابستگی کی بنا پر حکومت فیڈریشن میں مداخلت نہیں کر سکتی اگر کرے تو پاکستان کی فیفا رکنیت سے معطلی والی بلیک میلنگ تلوار آگے آ جاتی ہے۔
بڑی مشکل سے کئ سال انتظار کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن کی اصل باڈی بنی ہے اس سے پہلے فیفا کی نارملائزیشن کمیٹی نے خوب زلیل وخوار کیا وہ بھی الیکشن کروانے اور کلبوں کی سکروٹنی کے نام پر 6 ماہ کیلۓ بنی تھی ڈالروں کی چمک نے یہ مدت کئ سال بڑھا دی اس دوران فٹبال کا کھیل مزید زوال پزیر ہو گیا
لیکن کمیٹی کے ارکان لاکھوں ڈالرز جیب میں ڈال کے چلتے بنے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ کمیٹی کی ایک دو ارکان ابھی پھر "cooprations” کے زریعے موجودہ پاکستان فٹبال فیڈریشن میں پھر آگۓ ہیں۔قصۂ مختصر جو بھی آۓ بس وطن عزیز میں فٹبال کا کھیل پھلنا پھولنا چاہیے۔



