Gamesدیگر سپورٹس

پی ایس بی کی جانب سے ڈاکٹر رضوان آفتاب احمد کے اعزاز میں تقریب، گراں قدر خدمات پر شیلڈ پیش

گراں قدر خدمات پر شیلڈ پیش

پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے ڈاکٹر رضوان آفتاب احمد کے اعزاز میں تقریب،

گراں قدر خدمات پر شیلڈ پیش

اسلام آباد ; پاکستان اسپورٹس بورڈ نے ملک میں کھیلوں کے فروغ اور ایتھلیٹس کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات انجام دینے پر ‘ایکٹیوٹ’ کے سی ای او اور نیشنل اسپتال ڈی ایچ اے لاہور کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر رضوان آفتاب احمد کو ادارے کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ، محمد یاسر پیرزادہ نے ڈاکٹر رضوان آفتاب کو خصوصی شیلڈ پیش کی اور پاکستانی کھلاڑیوں کی مالی، طبی اور کارکردگی میں بہتری کے لیے ان کے کلیدی کردار کو سراہا۔

اس موقع پر ڈی جی پی ایس بی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر رضوان کی جانب سے ایتھلیٹس کی سرپرستی نجی شعبے اور قومی اداروں کے درمیان مثالی اشتراک کی عکاس ہے، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستانی پرچم بلند کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر رضوان آفتاب کی خدمات کا دائرہ کار اولمپک چیمپئن ارشد ندیم سمیت کئی اور ایتھلیٹس تک پھیلا ہوا ہے، جنہیں انہوں نے انجری سے نجات اور عالمی مقابلوں کے لیے مالی و طبی مدد فراہم کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان نے اپنی کامیابیوں کو اپنے خاندان کی قومی خدمات کے تسلسل سے منسوب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پرنانا راجہ غضنفر علی خان تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور قائد اعظم کے معتمد ساتھی تھے، جبکہ ان کے دادا افتخار احمد شاہ نے 1948 کے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ان کے والد پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد ملک میں آرتھوپیڈک سرجری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان نے کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے اسے کھلاڑی کی اپنی محنت، والدین کی دعاؤں اور کوچز کی رہنمائی کا ثمر قرار دیا۔

انہوں نے اپنے کزن ڈاکٹر علی باجوہ کی طبی خدمات کا بھی خصوصی ذکر کیا جنہوں نے ارشد ندیم کی ریکوری میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر رضوان آفتاب نے اعلان کیا کہ ‘ایکٹیوٹ’ اور نیشنل اسپتال ڈی ایچ اے لاہور کی جانب سے پاکستان اسپورٹس بورڈ اور قومی کھلاڑیوں کے لیے جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو اولمپک کی سطح پر کامیابیاں دلوانا ان کا مشن اور قومی ذمہ داری ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!