فٹ بال

اختیارات میں اضافہ نہیں، فٹبال اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کی جنگ لڑوں گا،محسن گیلانی

پاکستان فٹبال فیڈریشن کا فیفا اور اے ایف سی کے تعاون سے ملک گیر آئینی و انتظامی اصلاحات کا فیصلہ

اختیارات میں اضافہ نہیں، فٹبال اسٹیک ہولڈرز کے حقوق کی جنگ لڑوں گا،محسن گیلانی

پاکستان فٹبال فیڈریشن کا فیفا اور اے ایف سی کے تعاون سے ملک گیر آئینی و انتظامی اصلاحات کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے صدر سید محسن گیلانی نے ملک بھر میں فٹبال گورننس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ نئے پی ایف ایف آئین میں فٹبال کے تمام متعلقہ حلقوں کی نمائندگی کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔

یہ اہم پیش رفت فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ گورننس ورکشاپ کے اختتام پر سامنے آئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پی ایف ایف نے واضح کیا کہ آئینی اصلاحات کا موجودہ عمل پاکستان میں فٹبال کے لیے ایک زیادہ جامع، شفاف اور نمائندہ نظام قائم کرنے کا سنہری موقع ہے۔

محسن گیلانی نے صدارتی اختیارات کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا: ”مجھے ایسے کسی آئینی ترمیم میں کوئی دلچسپی نہیں جو پی ایف ایف صدر کے اختیارات میں اضافے کا باعث بنے۔ میری تمام تر توجہ اور جدوجہد نئے آئین میں فٹبال کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔“

انہوں نے مزید زور دیا کہ مستقبل کے گورننس ڈھانچے میں درج ذیل شعبوں کو مؤثر نمائندگی دی جائے گی: خواتین فٹبال، فٹسل اور بیچ سوکر, ای فٹبال اور مقامی کلبز اورصوبائی فٹبال ایسوسی ایشنز اور ترقیاتی شعبے.

یہ ورکشاپ فیفا کے ہیڈ آف ممبر ایسوسی ایشنز گورننس رولف ٹینر اور اے ایف سی کے سینئر منیجر سونم جِگمی کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں بین الاقوامی گورننس معیارات کے مطابق نئے آئینی فریم ورک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رولف ٹینر نے شرکاء کی تعمیری گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے اسٹیک ہولڈرز کے خدشات دور کرنے اور اصلاحاتی عمل پر اعتماد سازی میں بڑی مدد ملی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ: ملک گیر نفاذ: آئینی اصلاحات کا یہ عمل صرف قومی سطح تک محدود نہیں رہے گا۔ صوبائی و ضلعی ڈھانچہ: نئے آئین کی منظوری کے بعد اسی طرز کا گورننس ماڈل صوبائی اور پھر ضلعی سطح پر نافذ کیا جائے گا تاکہ پورے ملک میں ایک مربوط نظام قائم ہو سکے۔

یہ آئینی جائزہ فیفا کی خصوصی ہدایات کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ پی ایف ایف کے قواعد و ضوابط کو عالمی معیار کے مطابق لایا جا سکے۔ ورکشاپ کے دوران جمہوری نمائندگی، ادارہ جاتی خودمختاری، انتخابی طریقہ کار، مالیاتی شفافیت اور آزاد کمیٹیوں کے کردار جیسے اہم موضوعات زیرِ غور آئے۔

اس موقع پر سید محسن گیلانی نے ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا: ”صوبائی فٹبال ایسوسی ایشنز کی انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے فیفا اور اے ایف سی کے تعاون سے پیشہ ور جنرل سیکریٹریز کا تقرر کیا جائے گا، تاکہ فٹبال کے ترقیاتی پروگراموں کو نچلی سطح پر مؤثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے۔“

پی ایف ایف حکام کے مطابق، آئینی اصلاحات کے اس عمل کو مکمل طور پر مشاورتی رکھا گیا ہے۔ ورکشاپ کے اگلے مرحلے میں فٹبال کمیونٹی کے تمام حلقوں سے مزید ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ ان کی آراء اور تجاویز کو حتمی مسودے کا حصہ بنایا جا سکے۔

پی ایف ایف، فیفا اور اے ایف سی نے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس اصلاحاتی عمل کو جلد از جلد مکمل کر کے ایک ایسا جدید گورننس ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا جو پاکستان میں فٹبال کی طویل المدتی ترقی اور استحکام کی مضبوط بنیاد بنے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!