فٹ بالمضامین

پاکستان فٹبال کا نیا سفر: امید، چیلنجز اور اصلاحات کا وقت.

تحریر: شاہد الحق، "کھیل دوست"

پاکستان فٹبال کا نیا سفر: امید، چیلنجز اور اصلاحات کا وقت.

تحریر: شاہد الحق، "کھیل دوست”

پاکستان فٹبال آخرکار ایک نئے سفر پر گامزن ہے۔ برسوں کی کھینچا تانی، جھگڑے، عدالتوں کے فیصلے، فیفا کی معطلیاں اور بے یقینی کے بادل چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

نئی قیادت کی صورت میں سید محسن گیلانی کی آمد کو ایک امید کی کرن سمجھا جا رہا ہے،

جنہوں نے اسلام آباد میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کے بعد دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ وہ فٹبال کی بہتری کے لیے ایک باہمی تعاون کی فضا میں آگے بڑھیں گے۔ یہ الفاظ صرف بیان نہیں، بلکہ ایک ذمے داری کا اقرار ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ نے اس ملاقات میں فٹبال کی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی، اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

اگر واقعی حکومت فٹبال کو ایک قومی ترجیح دے رہی ہے تو یہ لمحہ پاکستان فٹبال کے لیے گیم چینجر بن سکتا ہے۔ مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب فیڈریشن صرف وعدوں پر نہیں بلکہ حکمت عملی پر چلے، اور یہ حکمت عملی جدید گورننس، شفافیت، جوابدہی، اور نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی پر مبنی ہو۔

فیفا کے قوانین کے مطابق ایک فعال فیڈریشن وہی ہے جو مالیاتی و انتظامی معاملات میں شفاف ہو، ہر سطح پر میرٹ کو فوقیت دے، اور ہر عمل میں عام شائقین، میڈیا، اور حکومتی اداروں کو اعتماد میں لے۔

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے لیے اب وقت ہے کہ وہ صرف ٹورنامنٹس کرانے یا ٹیمیں بھیجنے سے آگے نکلے، اور ملک بھر کے نوجوانوں کو فٹبال کے خواب پورے کرنے کا پلیٹ فارم دے۔ اسی طرح فٹبال اس ملک کی گلیوں، کالجوں اور میدانوں سے نکل کر عالمی اسٹیج پر پرچم بلند کر سکتا ہے۔

ماضی میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح طاقت کے کھیل نے فٹبال جیسے عظیم کھیل کو پسِ پشت ڈال دیا۔ مگر اب صدر محسن گیلانی کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ ایسا نظام وضع کریں جہاں فیصلے میرٹ پر ہوں، معاملات ڈیجیٹل ہوں،

اور شفافیت ہر قدم پر نظر آئے۔ فیڈریشن اگر ہر تین ماہ بعد میڈیا یا عوامی نمائندوں کے سامنے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرے، تو اعتماد بڑھے گا اور بدگمانیاں کم ہوں گی۔

یہ وقت ماضی کو دفن کرکے، ایک نیا باب شروع کرنے کا ہے۔ اگر حکومت اور فیڈریشن مخلص ہیں، تو پاکستان کی سرزمین پر بھی وہ فٹبال جنم لے سکتا ہے جسے دیکھنے کے لیے قوم بے چین ہے۔

ہم سب کو اس نئے سفر کا حصہ بننا ہوگا۔ کیونکہ یہ صرف ایک کھیل نہیں، نوجوان نسل کی امید ہے، شناخت ہے، اور عالمی منظرنامے پر پاکستان کی ایک نئی پہچان کا ذریعہ بن سکتی ہے

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!