
سرد موسم میں پیاس کم مگر خطرات زیادہ، کھلاڑی پانی پینے میں غفلت نہ برتیں
رپورٹ: ریحان اکرم ; سردیوں کے موسم میں عموماً پیاس کم محسوس ہوتی ہے، جس کے باعث زیادہ تر افراد خصوصاً اسپورٹس سے وابستہ کھلاڑی پانی پینے میں لاپرواہی اختیار کر لیتے ہیں۔
ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ موسم کی تبدیلی کے باوجود جسم کو پانی کی ضرورت مسلسل برقرار رہتی ہے اور سردیوں میں پانی کم پینا صحت اور اسپورٹس کارکردگی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پانی کی کمی کا سب سے پہلا اثر جسمانی توانائی پر پڑتا ہے۔ کھلاڑی جلد تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں، پٹھوں میں کھچاؤ اور اکڑاؤ پیدا ہوتا ہے،
جبکہ انجری کا خطرہ بھی نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔ پانی کم پینے سے سر درد، چکر آنا، توجہ میں کمی، سستی اور معدے کے مختلف مسائل سامنے آ سکتے ہیں، جو کسی بھی کھلاڑی کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔
دل کے امراض کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو خون گاڑھا ہونے لگتا ہے۔ اس صورتحال میں دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھنے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر وہ کھلاڑی جو باقاعدہ سخت ٹریننگ، دوڑ، فٹبال، کرکٹ، ایتھلیٹکس یا دیگر جسمانی مشقت والے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں، ان کے لیے یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
پانی کی کمی گردوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ کم پانی پینے سے گردوں کی صفائی کا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں گردے کی پتھری، پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور جسم میں فاضل مادوں کے جمع ہونے جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جلد کی خشکی، ہونٹوں کا پھٹنا، جسمانی لچک میں کمی اور مدافعتی نظام کی کمزوری بھی پانی کی کمی کے نمایاں اثرات میں شامل ہیں۔
اسپورٹس کے میدان میں پانی کی کمی براہِ راست کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ خون کی روانی میں کمی کے باعث آکسیجن اور غذائی اجزا پٹھوں تک مناسب مقدار میں نہیں پہنچ پاتے،
جس سے اسپیڈ، طاقت، برداشت اور ردِعمل کی صلاحیت میں واضح کمی آ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرد موسم میں بھی کھلاڑیوں کے لیے مناسب مقدار میں پانی پینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا گرمیوں میں ہوتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق عام افراد کو روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے، جبکہ اسپورٹس سے وابستہ کھلاڑیوں اور باقاعدہ ورزش کرنے والوں کے لیے روزانہ 10 سے 12 گلاس یا تقریباً 3 سے 4 لیٹر پانی پینا مفید سمجھا جاتا ہے۔ ٹریننگ سیشن یا میچ کے دوران ہر 20 سے 30 منٹ بعد چند گھونٹ پانی پینے کی عادت اپنانی چاہیے، چاہے پیاس محسوس نہ بھی ہو۔
ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ سردیوں میں نیم گرم پانی، سوپ، سبزیوں کا شوربہ اور قدرتی مشروبات کو معمول کا حصہ بنایا جائے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ چائے اور کافی کا زیادہ استعمال کم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو بڑھا سکتی ہیں۔
صحت مند جسم، بہتر فٹنس اور اعلیٰ اسپورٹس کارکردگی کے لیے سرد موسم میں بھی پانی کو روزمرہ زندگی اور ٹریننگ کا لازمی حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ پانی کی مناسب مقدار نہ صرف کھلاڑیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ ان کی کارکردگی کو بھی مستقل اور مؤثر بناتی ہے۔



