کرکٹمضامین

جب کرکٹر سرمایہ کاری کے میدان میں اترے ;

غیر معمولی منافع، معمولی سوالات، اور انجام ہمیشہ کی طرح

جب کرکٹر سرمایہ کاری کے میدان میں اترے ; 

غیر معمولی منافع، معمولی سوالات، اور انجام ہمیشہ کی طرح

مسرت اللہ جان ; پاکستان میں کرکٹ محض کھیل نہیں، ایک مکمل طرزِ فکر ہے۔ یہاں جیت قومی فخر بنتی ہے اور ہار پر پوری قوم کوچ بن جاتی ہے۔ مگر اس بار معاملہ بیٹ اور بال کا نہیں، بلکہ کروڑوں روپے، غیر معمولی منافع، اور غیر معمولی خاموشی کا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے سابق اور موجودہ کئی نامور قومی کرکٹرز ایک مبینہ بڑے مالی فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔ کہانی میں سب کچھ ہے۔ شہرت، دوستی، لالچ، خاموشی، اور آخر میں وہی پرانا پاکستانی سوال کہ شکایت کہاں گئی۔

اطلاعات کے مطابق کرکٹرز نے کسی بھی سرکاری یا قانونی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔ نہ پولیس، نہ ایف آئی اے، نہ نیب، اور نہ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ زحمت دی گئی کہ بھئی ہمارے ساتھ بھی کچھ ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب ایک خفیہ سیریز تھی، جس کی اسکور کارڈ عوام کو دکھانے کی اجازت نہیں۔

کہانی کا آغاز ایک سابق کپتان سے ہوتا ہے، جی ہاں وہی کپتان جسے فالو کرنا ہمارے ہاں صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہتا۔ سرمایہ کاری کی گئی، منافع آیا، اور پھر دیکھا دیکھی دوسرے کرکٹرز بھی اس کاروباری شخص کے ساتھ لگ گئے۔

کسی نے براہ راست کروڑوں دیے، کسی نے دوستی کے نام پر، اور کسی نے شاید اس یقین کے ساتھ کہ جب بڑے نام کھیل رہے ہوں تو پچ خراب نہیں ہو سکتی۔ یہاں عقل، تجربہ اور مالی مشیر تینوں نے اجتماعی طور پر چھٹی لے لی۔

غیر معمولی منافع کا وعدہ ایسا تھا کہ لگتا تھا یہ کاروبار نہیں بلکہ کوئی خصوصی پاور پلے ہے، جہاں رسک آؤٹ نہیں ہوتا۔ ابتدا میں واقعی پیسے آئے۔ اعتماد بڑھا۔ مسکراہٹیں آئیں۔ واٹس ایپ میسجز میں اعداد و شمار چمکنے لگے۔

اور پھر اچانک، کھیل کا رخ بدل گیا۔ کاروباری شخص منظر سے غائب۔ فون بند۔ پیغامات کا کوئی جواب نہیں۔ منافع بند۔ اور چند ہفتوں بعد احساس ہوا کہ اب غیر معمولی منافع نہیں، صرف اصل رقم کی واپسی کی دعا باقی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض کرکٹرز کو کچھ رقم واپس بھی ملی، شاید اس لیے کہ امید مکمل طور پر نہ مرے، مگر زیادہ تر اب بھی ہاتھ مل رہے ہیں۔ معاملہ مزید دلچسپ اس وقت ہو جاتا ہے

جب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مشہور کرکٹ ایجنٹ بھی اسی قطار میں کھڑا ہے۔ وہی ایجنٹ جو کنٹریکٹس میں ایک ایک لفظ پر بحث کرتا ہے، یہاں شاید صرف اعتماد پر دستخط ہو گئے۔

مبینہ فراڈ کرنے والا شخص امریکا میں مقیم بتایا جاتا ہے اور کئی پاکستانی کرکٹرز سے اس کی ذاتی دوستی تھی۔ یہی دوستی شاید سب سے مہنگی ثابت ہوئی۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کہاں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے کرکٹرز نے بنیادی سوال کیوں نہیں کیے۔ کاروبار کیا ہے؟ رجسٹرڈ کہاں ہے؟ منافع آ کہاں سے رہا ہے؟ اور سب سے اہم بات، اگر یہ اتنا آسان تھا تو پوری دنیا کیوں نہیں کر رہی تھی۔

پاکستان میں غیر معمولی منافع ہمیشہ خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں گھنٹی بجتی نہیں، سیدھا کیش نکل جاتا ہے۔ کرکٹر چونکہ میدان میں رسک لیتا ہے، شاید اسی عادت نے مالی معاملات میں بھی اسے نڈر بنا دیا۔ مگر یہاں فاسٹ بالر نہیں ہوتا، یہاں غلط فیصلہ سیدھا کلین بولڈ کر دیتا ہے۔

سب سے حیران کن پہلو اب بھی وہی خاموشی ہے۔ اتنا بڑا نقصان، اتنے بڑے نام، اور مکمل سکوت۔ یہ خاموشی چیخ چیخ کر سوال پوچھ رہی ہے۔ کیا بدنامی کا خوف ہے؟ کیا ٹیکس کا مسئلہ ہے؟

یا یہ ڈر کہ اگر شکایت کی تو کہیں اور حساب نہ مانگ لیا جائے؟ پاکستان میں اکثر بڑے مالی فراڈ اسی خاموشی کے سائے میں پنپتے ہیں، کیونکہ فراڈ سے زیادہ طاقتور چیز یہاں شرمندگی کا خوف ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کردار بھی اس کہانی میں محض ایک تماشائی کا ہے، بلکہ شاید اسے خبر ہی نہیں دی گئی۔ حالانکہ یہ معاملہ براہ راست کھلاڑیوں کے مالی تحفظ سے جڑا ہے۔

اگر قومی سطح کے کرکٹر اس طرح کے فراڈ کا شکار ہو سکتے ہیں تو ڈومیسٹک کرکٹرز اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ بورڈ اگر واقعی کھلاڑیوں کا سرپرست ہے تو اسے ایسے معاملات میں رہنمائی اور تحفظ کا نظام بنانا ہوگا، ورنہ ہر نیا ٹیلنٹ کسی نہ کسی کاروباری “دوست” کے ہاتھوں آزمائش بن جائے گا۔

یہ بھی ماننا پڑے گا کہ شہرت اور دولت اکثر انسان کو یہ غلط فہمی دے دیتی ہے کہ وہ ہر کھیل جیت سکتا ہے۔ کرکٹر میدان میں جتنا پراعتماد ہوتا ہے، مالی معاملات میں اتنا ہی سادہ لوح ثابت ہو جاتا ہے۔ غلط مشورے، جلدی فیصلے، اور غیر معمولی لالچ ایک ایسا امتزاج ہیں جو بڑے بڑے ناموں کو بھی زمین پر لے آتا ہے۔

اب کرکٹرز اصل رقم واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر رابطہ ممکن نہیں۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، مگر انجام کچھ زیادہ خوشگوار نظر نہیں آتا۔ اگر یہ معاملہ بھی دب گیا، اگر کوئی مثال قائم نہ ہوئی، تو اگلا فراڈ پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ آئے گا، کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ یہاں نقصان خاموشی میں برداشت کر لیا جاتا ہے۔

طنز اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ ہنسنے کا نہیں، سیکھنے کا ہے۔ کرکٹ میں امپائر انگلی اٹھاتا ہے، کاروبار میں نہیں۔ وہاں خود فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ گیند کھیلنی ہے یا چھوڑنی۔ اور جب گیند مشکوک ہو، تو بہترین شاٹ دفاع ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!