فٹ بال

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا پی ایف ایف کو آئین فیفا قوانین کے مطابق ڈھالنے کا حکم

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا پی ایف ایف کو آئین فیفا قوانین کے مطابق ڈھالنے کا حکم

اسلام آباد: (نوازگوھر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے پاکستان فٹ بال فیڈریشن (پی ایف ایف) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آئین اور انتظامی فریم ورک میں فیفا کے تقاضوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ضروری ترمیم کرے۔

اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی نے ملک بھر میں گراس روٹ لیول پر فٹ بال کے مضبوط نظام کی تشکیل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ اہم فیصلے پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی کے 14ویں اجلاس کے دوران کیے گئے،

جس کی صدارت قائم مقام چیئرمین شیخ آفتاب احمد نے کی۔ اجلاس میں پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے آن لائن شرکت کی اور ملک میں فٹ بال کے امور پر کمیٹی کے سوالات کے جوابات دیے۔

پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد شاہد نیاز کھوکھر نے فیڈریشن کی موجودہ صورتحال، انتخاب کے عمل اور فیفا کے ساتھ رابطوں سے متعلق بریفنگ دی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایف ایف کے انتخابات فیفا کی ہدایات اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق مکمل ہو چکے ہیں اور نو منتخب باڈی فعال ہے۔

تاہم، فیفا کی ضروریات اور بین الاقوامی بہترین طرزِ عمل کی مکمل پاسداری کے لیے اب بھی آئینی اور انتظامی اصلاحات درکار ہیں۔ کمیٹی نے زور دیا کہ نئی قيادت ان اصلاحات کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنائے۔

حکومتی اور آئینی امور کے علاوہ کمیٹی نے گراس روٹ لیول پر کھیل کی ترقی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ کمیٹی کے مطابق پاکستان میں فٹ بال کی بحالی کا آغاز اسکول، کالج، تحصیل،

ضلع اور ڈویژن کی سطح سے ہونا چاہیے تاکہ باقاعدہ نظام کے تحت نئے ٹیلنٹ کی نشاندہی کی جا سکے۔ کمیٹی نے دور دراز اور محروم علاقوں میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ محض سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہنر مند کھلاڑی ضائع نہ ہوں۔

کمیٹی نے وفاق، صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے سپورٹس سیکرٹریز کی بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے پی ایف ایف اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط رابطے اور فنڈز کے شفاف و ضرورت پر مبنی استعمال پر زور دیا۔

اجلاس میں اراکینِ قومی اسمبلی بابر نواز خان، وسیم قادر، سردار محمد یعقوب خان ناصر، حاجی رسول بخش چانڈیو، سیدہ شہلا رضا، ڈاکٹر مہربان رزاق بھٹو، خوشحال خان کاکڑ اور خواجہ اظہار الحسن نے شرکت کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!