دیگر سپورٹس

پنشن نہ ملی تو بوڑھا ملازم دنیا سے چلا گیا، نظام پر سوالیہ نشان!

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ملازم کی افسوسناک داستان

34 سال پاکستان اسپورٹس بورڈ کی خدمت، بڑھاپے میں پنشن سے محرومی، آخرکار موت!

اسلام آباد: پاکستان اسپورٹس بورڈ کا ایک اور ریٹائرڈ ملازم لالہ نور نواص خان سابقہ گرونڈ مین مارکر دنیا فانی سے رخصت ہو گیا۔ افسوس! جس ادارے کی خدمت میں اپنی زندگی کے 34 قیمتی سال گزار دیے،

بڑھاپے میں اسی ملازم کا واحد سہارا پنشن تھا، جو پچھلے 4 مبینہ طور پر بند کر دی گئی۔ شدید بیماری، مہنگی ادویات اور اسلام آباد کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے پر لالہ نور نواص خان اپنے آبائی گاؤں جانے پر مجبور ہو گیا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد تقریباً دس سال تک پنشن ہی اس کا سہارا رہی، مگر زندگی کے آخری 4 ماہ میں وہ بھی میسر نہ رہی۔ اور پینشن کی ٹینشن موت کا سبب بن گئ۔

پنشن کی بندش کے بعد تقریباً دس ریٹائرڈ ملازمین وفات پا چکے ہیں۔

یہ محض انتظامی معاملہ نہیں، ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ سیکرٹری آئی پی سی معین الدین وانی سے منسوب پنشن بندش کے حکم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ آخر بزرگ، بیمار اور عمر بھر ادارے کی خدمت کرنے والے ملازمین کا قصور کیا ہے؟

شرم کا مقام ہے! جن ہاتھوں نے 34 سال ادارے کی خدمت کی، بڑھاپے میں انہی ہاتھوں کو دوائی کے لیے بھی محتاج ہونا پڑا۔ متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں،

پنشن کی بندش کا جائزہ لیں اور متاثرہ ملازمین کے حقوق بحال کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلی خبر بھی کسی بے بس پنشنر کے جنازے کی ہو!

اللہ تعالیٰ مرحوم لالہ نور نواص خان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا کرے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!