قائداعظم ٹرافی کا فائنل پیر سے شروع ہوگا
فائنل میں دفاعی چیمپئن سیالکوٹ اور کراچی بلوز مدمقابل۔

قائداعظم ٹرافی کا فائنل پیر سے شروع ہوگا
فائنل میں دفاعی چیمپئن سیالکوٹ اور کراچی بلوز مدمقابل۔
لاہور 30 نومبر۔ دفاعی چیمپئن سیالکوٹ اور کراچی بلوز کی ٹیمیں قائداعظم ٹرافی کرکٹ ٹورنامنٹ کے پانچ روزہ فائنل میں مدمقابل ہونگی جو پیر کے روز سے قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
کراچی بلوز لیگ میچوں میں سب سے زیادہ 161 پوائنٹس حاصل کرکے فائنل میں پہنچی ہے جبکہ سیالکوٹ نے155 پوائنٹس کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کرکے فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
یاد رہے کہ سیالکوٹ نے گزشتہ سیزن کے فائنل میں پشاور کو دلچسپ مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔
دونوں ٹیمیں بیٹنگ اور بولنگ کے شعبوں میں متوازن ہیں۔ کراچی بلوز کی بیٹنگ کو نوجوان وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ سے زبردست حوصلہ ملا ہے جو اس ٹورنامنٹ میں 4 سنچریوں اور 3 نصف سنچریوں کی مدد سے 930 رنز بناکر سرفہرست ہیں۔شان مسعود نے2 سنچریوں اور2 نصف سنچریوں کی مدد سے 562رنز سکورکیے ہیں۔
بولنگ میں کراچی بلوز کے ثاقب خان 38وکٹیں حاصل کرکے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز میں مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں۔ سیالکوٹ کی جانب سے اذان اویس نے تین سنچریوں اور تین نصف سنچریوں کی مدد سے 790 رنز بنائے ہیں۔ محمد حریرہ کے ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے 560 رنز ہیں۔
محمد حریرہ کا یہ مسلسل پانچواں قائداعظم ٹرافی فائنل ہوگا۔گزشتہ سال وہ سیالکوٹ کی طرف سے کھیلے تھے۔ 2023میں وہ فیصل آباد کی طرف سے کھیلے تھے جبکہ 2020 اور2021 میں انہوں نے ناردن کی نمائندگی کی تھی۔
بولنگ میں محمد علی28 اور مہران ممتاز 24وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
سیالکوٹ کے کپتان اسامہ میر کا کہنا ہے کہ ٹیم اسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ یہ ٹورنامنٹ کھیل رہی ہے جس طرح اس نے پچھلے سیزن میں کھیلا تھا اور چیمپئن بنی تھی۔اس مرتبہ فاسٹ اور سپن دونوں طرح کی وکٹوں پر ہمارے بولرز کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ہم نو میچوں میں صرف ایک میچ ہارے ہیں اس لیے وہ اپنی ٹیم سے بہت خوش ہیں۔
اسامہ میر کا کہنا ہے کہ ٹیم کا کامبی نیشن اچھا ہے۔ہر شعبے میں ہمارے پاس کھلاڑی موجود ہیں جس کی وجہ سے ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے ۔ فائنل ایک پریشر گیم ہوگا اور یہ پورے سیزن کا نچوڑ ہے لہذا کوشش یہی ہوگی کہ فائنل کو فائنل کی طرح کھیلیں اور اسے یادگار فائنل بنایا جائے۔
کراچی بلوز کے کپتان سعود شکیل کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں ٹیم کا سفر خاصا طویل رہا ہے پہلے حنیف محمد ٹرافی کھیلی اور پھر اس ٹورنامنٹ میں فائنل تک پہنچے ہیں۔کھلاڑیوں کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو بھی مواقع دیے گئے ہیں۔
قائداعظم ٹرافی میں کراچی کی شاندار روایت رہی ہے یہ بات بھی ذہن میں تھی ۔فائنل ایک نیا میچ ہوگا کھلاڑیوں سے یہی کہوں گا کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتیں دکھانے کی کوشش کریں کیونکہ فائنل کھیلنے کے مواقع بار بار نہیں آتے۔
چند کھلاڑیوں کے لیے اس نئے قذافی سٹیڈیم میں کھیلنے کا بھی پہلا موقع ہوگا تو انہیں اس لمحے کو انجوائے کرنا چاہیے۔
سیالکوٹ سکواڈ۔ اسامہ میر ( کپتان ) ۔ محمد حریرہ ۔ اذان اویس ( انڈر 21 ) عبداللہ شفیق ۔ محسن ریاض ( نائب کپتان ) ۔ عبدالرحمن۔ محمد ولید۔ حمزہ نذر۔ افضال منظور۔ مہران ممتاز۔ حسن علی۔ اطہرمحمود۔ محمد حسنین۔ محمد علی۔ محمد حسنین خان۔
پلیئرز سپورٹ سٹاف۔ نوید لطیف ( ہیڈ کوچ )۔ شاہد یوسف ( اسسٹنٹ کوچ ) فیصل خان ( فیلڈنگ کوچ ) محمد ابراہیم ( پرفارمنس انالسٹ ) محمد طارق ( فزیوتھراپسٹ ) شہباز خورشید ( سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ ) حسن ندیم (ٹیم منیجر
کراچی بلوز سکواڈ۔ سعود شکیل ( کپتان ) شان مسعود ۔سعد بیگ ۔ عبداللہ فضل ۔ہارون ارشد۔ عثمان خان ۔ دانش عزیز۔ رمیز عزیز۔ غازی غوری۔ کاشف بھٹی۔ محمد اصغر۔ثاقب خان ۔ محمد عمر۔ محمد حمزہ ۔ مشتاق احمد۔
پلیئرسپورٹ سٹاف۔ اقبال امام ( ہیڈکوچ) طاہر محمود ( اسسٹنٹ کوچ ) واجد علی ( فیلڈنگ کوچ ) ڈاکٹر احمد علی خان ( فزیوتھراپسٹ۔وقارعلی سید ( سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ ) شاکر خلجی ( انالسٹ ) محمد احمد نقوی ( ٹیم منیجر) ۔



