
خیبرپختونخوامیں خواتین کرکٹ کامستقبل روشن ہے،
مستقل مزاجی اورکوالیفائیڈکوچز ناگزیر ہیں، عرفان الدین بابو
کھلاڑی میلوں سے نہیں، مسلسل محنت اور درست کوچنگ سے پروان چڑھتی ہے
اگر ادارے سنجیدہ ہوں تو خیبرپختونخوا کی خواتین بھی جانتا جلیل اور ثناء میر جیسی مثال بن سکتی ہیں
پیسہ مقابلوں پر خرچ ہو رہا ہے، لیکن درست کوچنگ نہ ہونے سے فائدہ صفر ہے، عرفان الدین بابو
کی میڈیا سے گفتگو
رپورٹ: غنی الرحمن
پشاور: خیبرپختونخوا کے باصلاحیت اور کوالیفائیڈ کرکٹ کوچ عرفان الدین بابو نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں خواتین کرکٹ کا مستقبل نہ صرف روشن ہے بلکہ اگر درست سمت میں عملی اقدامات کیے جائیں تو یہاں سے قومی سطح کی کھلاڑیوں کا ابھرنا کوئی مشکل امر نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سرکاری و نجی ادارے خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے سنجیدہ بنیادوں پر منصوبہ بندی کریں، جبکہ خواتین کھلاڑی بھی دل جمعی، نظم و ضبط اور مستقل محنت کے ساتھ کھیل کو اپنائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے گراؤنڈ پر خواتین ٹیموں کے مابین جاری میچ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر کوچ عرفان الدین بابو نے خواتین کرکٹرز کو کرکٹ کے بنیادی اصولوں، کھیل کے جدید تقاضوں اور فیلڈنگ، بیٹنگ اور بالنگ کے حوالے سے مفید لیکچر اور عملی ٹپس بھی دیں۔
عرفان الدین بابو کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا کی خواتین کھلاڑیوں کو درست کوچنگ، مناسب مواقع اور تسلسل کے ساتھ کھیلنے کا ماحول فراہم کیا جائے تو وہ دن دور نہیں جب یہ کھلاڑی جانتا جلیل کی طرح نہ صرف اپنا بلکہ خیبرپختونخوا اور پاکستان کا نام بھی روشن کریں گی۔
انہوں نے خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے وقتی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف کھیلوں کے میلوں اور نمائشی مقابلوں سے کھلاڑی تیار نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی،
مستقل ٹریننگ اور جہدِ مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گراس روٹس لیول پر ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیز میں کوالیفائیڈ کوچز تعینات کیے جائیں۔
عرفان الدین بابو نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بیشتر تعلیمی اداروں میں کرکٹ سمیت دیگر کھیلوں کے لیے مستند اور تربیت یافتہ کوچز موجود نہیں، جس کی وجہ سے باصلاحیت کھلاڑی سامنے نہیں آ پا رہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ میچز دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کئی خواتین کھلاڑی کرکٹ کے بنیادی قوانین اور رولز سے مکمل آگاہ نہیں، جو کوچنگ کے فقدان کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقابلوں کے انعقاد پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے، مگر جب کوچنگ کا معیار بہتر نہ ہو تو اس سے نہ کھلاڑی کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کھیل کو، بلکہ یہ عمل وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔
ان کا مطالبہ تھا کہ اگر واقعی خواتین کرکٹ کو آگے بڑھانا ہے تو کوچنگ سسٹم کو بنیاد بنایا جائے اور منصوبہ بندی کو وقتی کے بجائے مستقل بنایا جائے۔



