متنازع نوٹیفکیشن کے بعد ایشین گیمز ٹرائلز میں صرف 11 کھلاڑیوں کی شرکت،
پی ٹی ٹی ایف پر سوالات اٹھنے لگے

متنازع نوٹیفکیشن کے بعد ایشین گیمز ٹرائلز میں صرف 11 کھلاڑیوں کی شرکت،
پی ٹی ٹی ایف پر سوالات اٹھنے لگے
لاہور: پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن (PTTF) کی جانب سے ایشین گیمز 2026 کے لیے جاری کیے گئے متنازع نوٹیفکیشن کے بعد ٹرائلز میں کھلاڑیوں کی انتہائی کم شرکت نے فیڈریشن کی منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایشین گیمز ٹرائلز میں صرف 6 مرد اور 5 خواتین کھلاڑیوں نے شرکت کی، جبکہ ملک بھر میں درجنوں قومی سطح کے کھلاڑی موجود ہیں۔
کھیل کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اتنی کم تعداد میں شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ٹرائلز کے انعقاد کے طریقہ کار اور دیے گئے مختصر نوٹس پر کھلاڑیوں اور والدین میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔
یاد رہے کہ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کھلاڑیوں کو محدود وقت میں ٹرائلز کے لیے طلب کیا گیا تھا،
جبکہ ایشین گیمز میں شرکت کے لیے بین الاقوامی سفر اور دیگر اخراجات بھی کھلاڑیوں کے ذمے ڈالے گئے تھے۔ اس پالیسی پر مختلف کھلاڑیوں اور والدین نے کھلے عام اعتراضات اٹھائے تھے۔
اسپورٹس مبصرین کے مطابق قومی ٹیم کے انتخاب جیسے اہم عمل میں صرف 11 کھلاڑیوں کی شرکت نہ صرف مقابلے کے معیار پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ فیڈریشن کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
کھلاڑیوں اور والدین کا مؤقف ہے کہ اگر قومی سطح کے ایونٹس میں مناسب منصوبہ بندی، بروقت نوٹس اور مالی معاونت فراہم نہ کی جائے تو باصلاحیت کھلاڑی بین الاقوامی مواقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کی شرکت اور شفاف مقابلے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے حالات میں جہاں محدود تعداد میں کھلاڑی ٹرائلز تک پہنچ سکیں۔
اس صورتحال کے بعد کھیلوں کے حلقوں میں پی ٹی ٹی ایف کی کارکردگی پر بحث شروع ہو گئی ہے اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے معاملے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں قومی ٹیموں کے انتخاب کا عمل زیادہ شفاف، منظم اور سب کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔



