کرکٹ

اوول ٹیسٹ: جو روٹ اور ہیری بروک نے ریکارڈز کی نئی تاریخ رقم کردی

اوول ٹیسٹ: جو روٹ اور ہیری بروک نے ریکارڈز کی نئی تاریخ رقم کردی

بھارت کے خلاف اوول میں جاری پانچویں اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے دو مایہ ناز بلے بازوں، جو روٹ اور ہیری بروک نے نہ صرف شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کے کئی اہم ریکارڈز بھی اپنے نام کرلیے، جس سے انگلش ٹیم فتح کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔

میچ کی دوسری اننگز میں جو روٹ نے 105 رنز کی دلکش اننگز کھیل کر جہاں انگلینڈ کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا، وہیں اپنے ہوم گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے کا نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔

یہ ان کی انگلینڈ میں 24ویں ٹیسٹ سنچری تھی، جس کے ساتھ ہی وہ رکی پونٹنگ، جیک کیلس اور مہیلا جے وردھنے جیسے عظیم بیٹرز سے آگے نکل گئے، جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں 23، 23 سنچریاں اسکور کی تھیں۔

جو روٹ نے یہ سنگ میل چوتھے دن کے تیسرے سیشن میں بھارتی بالر آکاش دیپ کی گیند پر دو رنز لے کر عبور کیا۔ 152 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے بننے والی اس سنچری نے انہیں ایک ہی ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریوں کا ریکارڈ کا اعزاز بھی دیا۔ روٹ نے بھارت کے خلاف اپنی 13ویں سنچری مکمل کی، جو کہ اس سے قبل جیک ہوبز کے آسٹریلیا کے خلاف 12 سنچریوں سے زیادہ ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ روٹ نے بھارت کے خلاف مسلسل تیسرے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی ہے۔ لارڈز ٹیسٹ میں 104 اور مانچسٹر میں 150 رنز کی اننگز کے بعد اوول میں 105 رنز نے ان کے شاندار تسلسل کو برقرار رکھا۔

اس کے علاوہ روٹ نے چوتھی اننگز میں نصف سنچری اسکور کر کے ’’چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ ففٹی پلس اسکورز‘‘ (13) کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔ اس فہرست میں اب وہ شیونارائن چندرپال، گریم اسمتھ اور کرس گیل کے ہم پلہ ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ہیری بروک نے بھی اپنی جارحانہ بیٹنگ سے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ انہوں نے صرف 50 اننگز میں اپنی دسویں ٹیسٹ سنچری مکمل کر کے گزشتہ 70 برسوں میں سب سے کم اننگز میں یہ کارنامہ سر انجام دینے والے کھلاڑی بن گئے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی پوری تاریخ میں صرف آٹھ کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے اس سے کم اننگز میں 10 سنچریاں مکمل کی ہیں۔

بروک کی یہ سنچری 91 گیندوں پر بنی، جو چوتھی اننگز میں ساتویں تیز ترین سنچری قرار پائی۔ اس فہرست میں سب سے تیز سنچری انگلینڈ کے ہی گلبرٹ جیساپ (76 گیندوں، 1902) اور جونی بیئرسٹو (77 گیندوں، 2022) نے بنائی تھی۔

پوری ٹیسٹ سیریز بھی ریکارڈز سے بھرپور رہی۔ اس میں مجموعی طور پر 21 انفرادی سنچریاں اسکور ہوئیں، جو کہ ٹیسٹ کرکٹ کی کسی بھی سیریز میں سب سے زیادہ سنچریوں کا مشترکہ ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ 1955 میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی سیریز کے پاس تھا۔

اسی سیریز میں نو مختلف بلے بازوں نے 400 سے زائد رنز بنائے، جو کہ کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس کے علاوہ، 19 سنچری پارٹنرشپس بھی قائم ہوئیں،

جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کی برابری کرتی ہیں۔ اس سے پہلے 1957-58 کی ویسٹ انڈیز بمقابلہ پاکستان سیریز اور 1967-68 کی وزڈن ٹرافی میں بھی اتنی ہی پارٹنرشپس بنی تھیں۔

اوول کے تاریخی میدان پر ایک اور اہم سنگ میل تب عبور ہوا جب انگلینڈ نے اپنی ٹیسٹ تاریخ کی 100ویں سنچری اس گراؤنڈ پر مکمل کی۔ اوول، اب لارڈز کے بعد دوسرا انگلش میدان بن چکا ہے جہاں ٹیم نے 100 یا اس سے زائد ٹیسٹ سنچریاں اسکور کی ہیں، لارڈز میں اب تک یہ تعداد 141 ہے۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ آسٹریلیا کے تین میدان میلبورن (116)، ایڈیلیڈ (110)، اور سڈنی (108) اس فہرست میں شامل ہیں، جہاں آسٹریلوی بیٹرز بھی سو سے زائد ٹیسٹ سنچریاں بنا چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!