ہاکی

ہاکی ٹیم کو عالمی معیار کی فٹنس اور ٹریننگ فراہم کریں گے ; محی الدین وانی

ہاکی ٹیم کیلئے وسائل کی کمی نہیں ہونے دیں گےصدر پاکستان ہاکی فیڈریشن

ہاکی ٹیم کو عالمی معیار کی فٹنس اور ٹریننگ فراہم کریں گے ; محی الدین وانی

ہاکی ٹیم کیلئے وسائل کی کمی نہیں ہونے دیں گےصدر پاکستان ہاکی فیڈریشن

اسلام آباد(پی پی اے) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی نے کہا ہے کہ قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو جدید تربیت، فٹنس ایکسرسائز، نیند کے مناسب سائیکل، ریکوری اور غذائی ضروریات کے حوالے سے بھی خصوصی رہنمائی فراہم کی جائے گی،

اکتوبر میں تقریباً پورا مہینہ ٹیم کی تیاریوں کے لیے مختص کیا جا رہا ہے، جبکہ غیر ملکی دورے کے لیے وسائل کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے، مختلف ٹرفس پر کھلاڑیوں کو پریکٹس اور ورکنگ لیول کا ایکسپوژر دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ،تاکہ عالمی سطح کے مقابلوں سے قبل ٹیم مکمل طور پر تیار ہو سکے،

ہم ہر سطح پر ہاکی کو سپورٹ کریں گے ابھی کوریا کی ٹیم پاکستان آئی ہےاس سال کے آخر میں چائنہ کی ہاکی ٹیم بھی پاکستان آ رہی ہے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اسلام آباد و یمن ہا کی ٹیم کو خراج تحسین کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

تقریب میں محی الدین وانی، سابق ایم ڈی پی ٹی وی اختر وقار عظیم شریک ورلڈ چمپئن اینڈ اولمپئین طاہر زمان ، پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتان انجم آفتاب،صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال،

سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی،سینئر صحافی ذوالفقار بیگ اور تقریب کے انعقاد میں اہم کردار ادا کرنے والے سینئر سپورٹس صحافی ناصر اسلم راجہ سمیت خواتین ہاکی کھلاڑیوں اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہاکی چیمپئن شپ کے اعلان کے وقت غیر ملکی دورے کی حتمی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی،

تاہم ٹورنامنٹ کا علم ہونے کے بعد مختصر وقت میں ٹیم تیار کی گئی، سات سے آٹھ دن میں ٹیم کھڑی کرکے مقابلوں میں اتارا گیا جس کے باعث تیاری کے لیے مطلوبہ وقت نہیں مل سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی کارکردگی پر تنقید اپنی جگہ، لیکن کھلاڑیوں کو موٹیویشن برقرار رکھنا ہوگی، کھیل میں کبھی ٹیم اوپر جاتی ہے اور کبھی نیچے آتی ہے، تاہم کامیابی کے لیے مسلسل محنت اور کوشش ترک نہیں کی جا سکتی،

انہوں نے تجویز دی کہ یکم ستمبر سے آسٹریلین ٹرینر کی خدمات بھی حاصل کی جائیں اور فٹنس ٹریننگ کے پروگرام کو قومی ٹیم کی تیاریوں کا حصہ بنایا جائے، کھلاڑیوں کو ایسی ورزشیں اور ٹریننگ کرائی جائیں گی

جن سے ان کی فٹنس بہتر ہو اور انجری کی صورت میں وہ جلد صحت یاب ہو سکیں،انہوں نے کہا کہ ماضی میں کھلاڑیوں کو انجری کے بعد ریکوری میں مشکلات کا سامنا رہا ہے،اس لیے اب فٹنس کے ساتھ ساتھ انجری پریوینشن اور ریکوری پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

کھلاڑیوں کے صبح کے ٹریننگ سیشنز کو بھی مانیٹر کیا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ عالمی معیار کی ٹیمیں کس نوعیت کی فٹنس اور اسکل ڈرلز کر رہی ہیں،

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح کی ٹیموں اور کوچز کی ٹریننگ ویڈیوز سے بھی فائدہ اٹھایا جائے، یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر دنیا کے بہترین کوچز کے ٹیوٹوریلز دستیاب ہیں،

جنہیں دیکھ کر جدید ٹریننگ کے طریقہ کار کو اپنایا جا سکتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کی غذائی ضروریات کے حوالے سے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی جائے گی،

ہر کھلاڑی کی ہائٹ اور جسمانی ضرورت کے مطابق پروٹین اور دیگر غذائی اجزا کی مقدار طے کی جائے گی، جبکہ اسٹریچنگ اور دیگر ضروری ایکسرسائزز کو بھی ٹریننگ پروگرام میں شامل کیا جائے گا،

انہوں نے یقین دلایا کہ قومی ہاکی ٹیم کو عالمی معیار کی تیاری کے لیے وسائل کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر کسی ایک ذریعے سے مطلوبہ وسائل دستیاب نہ ہوئے تو متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں گے،

لیکن کھلاڑیوں کی تیاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مقصد قومی ٹیم کو مضبوط بنانا اور اسے عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کے قابل بنانا ہے، جس کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، کوچز اور کھلاڑیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

صرف میچ کھیلنا کافی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی ریکوری، آرام، نیند اور فٹنس سائیکل کو بھی باقاعدہ مانیٹر کرنا ہوگا۔ عالمی سطح کے کھلاڑیوں کی طرح ہمارے کھلاڑیوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا

کہ میچ کے بعد ریکوری کیسے کی جاتی ہے اور اگلے مقابلے کے لیے جسم کو کس طرح تیار رکھا جاتا ہے۔محی الدین وانی نے قومی ٹیم میں منتخب ہونے والی اسلام آباد کی کھلاڑی صالح گلفام سمیت دیگر کھلاڑیوں کو بھی خصوصی ہیٹ پہنا کران کی حوصلہ افزائی بھی کی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!