فیڈریشنز کی بدمعاشی، کھلاڑیوں کے حقوق اور فوری اصلاحات
تحریر: شاہد الحق (کھیل دوست)

فیڈریشنز کی بدمعاشی، کھلاڑیوں کے حقوق اور فوری اصلاحات
تحریر: شاہد الحق (کھیل دوست)
پاکستانی کھیلوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑی میدان میں حریف سے کم اور اپنی ہی فیڈریشنز کے بدمعاش قوانین اور رویوں سے زیادہ لڑتے ہیں۔
فیڈریشنز کا بنیادی کام کھیل کو فروغ دینا، کھلاڑیوں کو سہولیات دینا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، لیکن عملی طور پر یہ ادارے کھلاڑیوں پر دھونس جمانے اور ان سے پیسے بٹورنے کے اڈے بن چکے ہیں۔
بدمعاش قوانین: کھلاڑی غلام، فیڈریشن بادشاہ
پاکستان میں اکثر فیڈریشنز کے قوانین شفاف نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو غلام بنانے کے ہتھیار ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی معاشی بہتری یا کھیل میں نکھار کے لیے کسی اور کلب، ٹیم یا لیگ سے کھیلنے کی کوشش کرے تو فیڈریشن فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ کھلاڑی پر بغیر نوٹس، تحقیق یا مؤقف سنے پابندی لگا دی جاتی ہے۔
پھر جب کھلاڑی احتجاج کرے تو اسے کہا جاتا ہے: "کونسل کا فیصلہ آنے تک آپ نہیں کھیل سکتے”۔ یہ فیصلے کئی کئی ماہ لٹکائے جاتے ہیں اور اس دوران کھلاڑی کا پورا کیریئر خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
مزید ظلم یہ ہے کہ پابندی ہٹانے کے لیے کھلاڑی سے ہزاروں روپے جرمانہ لیا جاتا ہے، وہ بھی بغیر رسید۔ سوال یہ ہے کہ جب فیڈریشنز کھلاڑی کو کوئی مالی فائدہ دیتی ہی نہیں تو ایک غریب کھلاڑی اتنا بھاری جرمانہ کہاں سے بھرے؟
یہ فیڈریشنز خود تو شاذونادر ہی ٹورنامنٹ منعقد کرتی ہیں، لیکن دوسروں کو بھی اجازت نہیں دیتیں۔ اگر کوئی کلب اپنی مدد آپ کے تحت ایونٹ کرا لے تو اس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو فوراً بین کر دیا جاتا ہے۔
اصل کھیل یہ ہے کہ: ٹورنامنٹ کرانے کی فیس بٹورنا کھلاڑیوں پر جرمانے لگانا فنڈز کا غیر شفاف استعمال خانہ پوری کے لیے ’’چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ‘‘ کا بہانہ نتیجہ یہ کہ فیڈریشنز کھیل نہیں بلکہ بزنس سینٹرز بن گئی ہیں۔
کھلاڑیوں پر ذہنی ٹارچر اور جاسوسی کچھ عہدیدار اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے کھلاڑیوں کی جاسوسی تک کرتے ہیں۔ واٹس ایپ یا ای میل پر کھلاڑیوں کے سوالات اور شکایات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
اس رویے کے باعث کھلاڑی کھیل سے لطف اندوز ہونے کے بجائے مستقل دباؤ اور ذہنی ٹینشن میں رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو وہ بغاوت پر اتر آتے ہیں یا ہمیشہ کے لیے کھیل کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں کے لیے تباہ کن ہے بلکہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی بھی کرتا ہے۔
بین الاقوامی مثالیں: ہمیں سیکھنے کی ضرورت
کرکٹ: انٹرنیشنل کرکٹ میں کھلاڑی فری لانسر کی طرح مختلف لیگز کھیل سکتے ہیں۔ انہیں صرف اپنے بورڈ کو اطلاع دینی ہوتی ہے، اجازت نہیں مانگنی پڑتی۔ پاکستان کو بھی یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔
فٹبال (FIFA): کھلاڑیوں کی منتقلی (Transfers) اور حقوق کے واضح قوانین موجود ہیں، جس سے کھلاڑیوں کی معاشی و پیشہ ورانہ آزادی یقینی بنتی ہے۔
NBA اور یورپین باسکٹ بال: کھلاڑی کلب اور لیگز بدل سکتے ہیں، ان کے کنٹریکٹس اور ٹرانسفر فی سسٹم واضح اور شفاف ہیں۔
اولمپک چارٹر: کھیل کو بنیادی انسانی حق قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2014 کی قرارداد بھی اس حق کی ضمانت دیتی ہے۔ پاکستان نے بھی اس پر دستخط کر رکھے ہیں، لیکن عمل نہیں ہو رہا۔
اصلاحات اور تجاویز: راستہ یہی ہے
1. رسائی اور شکایات کا نظام
کھلاڑیوں کو براہِ راست فیڈریشن عہدیداروں تک رسائی دی جائے۔ ایک خودکار اور شفاف شکایتی نظام بنایا جائے جس پر فوری ایکشن ہو۔
2. فیصلے صرف مؤقف سننے کے بعد
کسی بھی کھلاڑی پر پابندی یا جرمانہ لگانے سے پہلے اس کا مؤقف سننا اور ثبوت فراہم کرنا لازمی قرار دیا جائے۔
3. شفاف قوانین اور آگاہی
تمام قوانین فیڈریشن کی ویب سائٹ اور کلب کی سطح پر تحریری شکل میں دستیاب ہوں تاکہ کھلاڑیوں کو پہلے سے آگاہی ہو۔
4. جرمانے کے بجائے حقیقت پسندانہ سزائیں
ہزاروں روپے کے جرمانے ختم کیے جائیں
کرکٹ کی طرز پر سزا دی جائے: میچ فیس یا وظیفے کا کچھ حصہ جرمانے کے طور پر کاٹا جائے، یا ایک میچ/ٹورنامنٹ پر پابندی لگائی جائے
اس سے کھلاڑی کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوگا اور وہ کھیل چھوڑنے پر مجبور بھی نہیں ہوگا۔
5. احتساب اور فنڈز کی شفافیت
فیڈریشنز کے تمام مالی معاملات اور آڈٹ رپورٹس عوامی سطح پر شائع کی جائیں۔ کھلاڑی اور عوام جان سکیں کہ ان سے بٹوری گئی رقوم کہاں خرچ ہو رہی ہیں۔
6. کھلاڑیوں کی آزادی
عام کلب اور علاقائی کھلاڑیوں کو ڈیپارٹمنٹل کھلاڑیوں کی طرح پابندیوں میں جکڑنے کے بجائے آزادی دی جائے۔ وہ اپنے کوچ کو اطلاع دے کر کسی بھی لیگ یا ایونٹ میں کھیل سکیں، جیسا کہ کرکٹ کے کلب سسٹم میں ہوتا ہے۔
یہ ملک کھلاڑیوں کا ہے، فیڈریشنز کا نہیں۔ کھلاڑیوں کو غلام بنانے والے قوانین پاکستان کے کھیلوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اگر فوری طور پر اصلاحات نہ کی گئیں تو کھیلوں میں بغاوت بڑھے گی اور باصلاحیت نوجوان ہمیشہ کے لیے محروم رہ جائیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، وزارتِ کھیل اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور فیڈریشنز کو کٹہرے میں لائیں۔ یاد رکھیں، کھلاڑی کے بغیر کھیل نہیں اور کھیل کے بغیر قوم نہیں۔
شاھدالحق ایک سینئر سپورٹس جرنلسٹ اور ویلاگر ھیں جو کئی قومی ٹیموں کے فٹنس کوچ اور باسکٹ بال کھلاڑی رہے کھیلوں کوچ کھلاڑی کے حقوق کے علمبردار اور کھیلوں کی طاقت سے ترقی و امن کے پیرو کار ھیں۔



