فٹ بال

ورلڈ کپ کی آمد آمد؛ امریکی ویزا پابندیوں کے خلاف ‘اے آئی پی ایس’ کا فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ

ورلڈ کپ کی آمد آمد؛ امریکی ویزا پابندیوں کے خلاف ‘اے آئی پی ایس’ کا فیفا سے فوری مداخلت کا مطالبہ

لوزان: فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے باقاعدہ آغاز میں محض چند ہی دن باقی ہیں، مگر پسِ پردہ ایک بڑا جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) تنازع سر اٹھا چکا ہے۔

انٹرنیشنل اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن نے امریکی امیگریشن پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے، فیفا سے منظور شدہ صحافیوں پر عائد سفری پابندیوں کو "ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے اور فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی (فیفا) پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے۔

یہ سنگین ہوتا ہوا بحران اب ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقاریب پر اثر انداز ہونے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، کیونکہ دنیا بھر سے آئے ہوئے میڈیا پروفیشنلز اس وقت شدید ترین بیوروکریٹک الجھنوں کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔

معاملے کو سنجیدگی سے اٹھاتے ہوئے، جمعہ 5 جون کو اے آئی پی ایس کے صدر جانی میرلو نے ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے فیفا کے اعلیٰ میڈیا حکام بشمول ڈائریکٹر میڈیا ریلیشنز برائن سوانسن اور ہیڈ آف میڈیا آپریشنز جوچن اسٹین ہاف کو ایک انتہائی اہم خط ارسال کیا ہے۔

موصول ہونے والے اس مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ایک نظامی ناکامی ہے، جو ٹورنامنٹ کے عالمی اتحاد اور یکجہتی کے بنیادی جذبے کے سراسر منافی ہے۔

جانی میرلو نے سیاسی بیان بازی اور زمینی حقائق کے تضاد کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا: "سیاستدان ہمیشہ کہتے ہیں کہ کھیل متحارب ممالک کے نوجوانوں کو آپس میں جوڑتے اور پل کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اس معاملے میں ہم بالکل الٹی سمت میں جا رہے ہیں۔”

یہ پابندیاں نہ صرف تاخیر کا سبب بن رہی ہیں بلکہ اس سے کھیلوں کی صحافت کا پورا ڈھانچہ اور لاجسٹکس بھی درہم برہم ہو کر رہ گئی ہیں،

کیونکہ یہ ورلڈ کپ تاریخ میں پہلی بار تین شمالی امریکی ممالک (امریکہ، کینیڈا، میکسیکو) میں مشترکہ طور پر منعقد ہو رہا ہے۔ اے آئی پی ایس کے مطابق، ویزا کی ان بندشوں کا سب سے زیادہ شکار ایران اور مختلف افریقی ممالک کے صحافی ہو رہے ہیں۔

ایک انتہائی پریشان کن اقدام کے تحت کئی صحافیوں کو صرف "سنگل انٹری” (محدود مدت کے لیے ایک بار داخلے کا) امریکی ویزا جاری کیا گیا ہے۔

چونکہ 2026ء کا ورلڈ کپ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان منقسم ہے، اس لیے اگر کوئی بھی صحافی اپنی ٹیم کی کوریج کے لیے سرحد پار کر کے کینیڈا یا میکسیکو جائے گا، تو وہ ٹورنامنٹ کے بقیہ میچوں کی کوریج کے لیے دوبارہ قانونی طور پر امریکہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

عالمی پریس کورپس پر اس صورتحال کے نفسیاتی اور مالی اثرات ابھی سے مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ شدید تاخیر کے باعث بہت سے صحافیوں کی پہلے سے بک کی گئی فلائٹس کینسل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے آزاد میڈیا ہاؤسز اور رپورٹرز کو آخری لمحات میں بھاری سفری اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔

اے آئی پی ایس اسے محض انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ آزادیِ صحافت پر ایک براہ راست حملہ تصور کرتی ہے، بالخصوص اس ملک کی طرف سے جو اس کا میزبان ہے۔ جانی میرلو نے زور دیتے ہوئے کہا: "ہمارا ماننا ہے کہ تمام ساتھیوں کو اس ایونٹ میں شرکت اور کام کرنے کی اجازت ملنا انتہائی ضروری ہے،

کیونکہ آزاد پریس کھیل کے تشخص کے لیے لازم ہے، خاص طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسے ملک میں جہاں پریس کی آزادی کو ایک بنیادی حق مانا جاتا ہے۔”

اب جبکہ ٹورنامنٹ کے آغاز کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے، گیند پوری طرح فیفا کے کورٹ میں ہے کہ وہ امریکی حکام پر دباؤ ڈال کر اس مسئلے کا فوری اور حتمی حل نکالے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!