
ایرانی فٹبالر کا جشن سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا
ایران کے مایہ ناز فٹبالر محمد محبی نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ مقابلے میں اہم گول اسکور کرنے کے باوجود اپنے جشن منانے کے انداز کے باعث توجہ کا مرکز بن گئے، جہاں ان کی ایک مخصوص حرکت نے سوشل میڈیا اور فٹبال حلقوں میں بحث چھیڑ دی۔
ورلڈ کپ مہم کے آغاز پر کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے میں ایران اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جو مقررہ وقت کے اختتام پر 2-2 گول سے برابر رہا۔ اس میچ میں محمد محبی نے ایران کی جانب سے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہوئے وہ گول اسکور کیا جس نے حریف ٹیم کی برتری کا خاتمہ کر دیا۔
میچ کے دوران گول کرنے کے بعد محمد محبی نے خوشی کا اظہار ایک منفرد انداز میں کیا، تاہم ان کے جشن کی ایک حرکت نے تنازع کو جنم دے دیا۔ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے بندوق کی علامت بناتے ہوئے فضا میں فائرنگ جیسا تاثر دینے کی کوشش کی، جس پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
بعد ازاں ایرانی کھلاڑی نے اپنے جشن کو جاری رکھتے ہوئے ہاتھوں سے دل کا نشان بھی بنایا، جسے بعض شائقین نے مداحوں کے لیے محبت اور تشکر کے اظہار سے تعبیر کیا۔
میچ کے بعد جب محمد محبی سے ان کے جشن کے انداز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی قسم کا متنازع پیغام دینا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ لاس اینجلس میں موجود ایرانی شائقین نے پورے مقابلے کے دوران شاندار ماحول پیدا کیا اور ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، اسی محبت اور حمایت کے جواب میں انہوں نے یہ جشن منایا۔
ایرانی کھلاڑی کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک مقیم اپنے ہم وطن مداحوں کے جذبے اور تعاون کے دل سے معترف ہیں۔
اگرچہ محمد محبی کی وضاحت سامنے آ چکی ہے، تاہم ان کے جشن کے انداز پر بحث کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جبکہ فٹبال شائقین کی ایک بڑی تعداد اس معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب میدان میں ان کی کارکردگی کو بھی سراہا جا رہا ہے، جس کی بدولت ایران نے اپنے پہلے میچ میں شکست سے بچتے ہوئے ایک اہم نتیجہ حاصل کیا۔



