
پی ایف ایف نے تاریخی ڈی ایف سی اقدام کے ذریعے 124 اضلاع تک سیف گارڈنگ پہنچا دی
صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں ایک اور تاریخی پیش رفت،
اس اقدام کا مقصد کھلاڑیوں کا تحفظ فٹ بال مقابلوں کی منصوبہ بندی اور انعقاد کا بنیادی حصہ بنانا ہے
مقابلے کے آغاز ہی سے سیف گارڈنگ کے اقدامات نافذ ہوں گے،
جبکہ مضبوط رپورٹنگ اور فیڈ بیک کا نظام بھی قائم کیا جائے گا
پاکستان فٹ بال فیڈریشن (PFF) نے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک محفوظ فٹ بال ماحول بنانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈسٹرکٹ فٹ بال چیمپئن شپ (DFC) 2026 سے قبل ایک خصوصی سیف گارڈنگ پروگرام شروع کر دیا ہے۔
پی ایف ایف سیف گارڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام ڈسٹرکٹ سیف گارڈنگ فوکل پرسنز کے لیے تین روزہ آن لائن تربیتی پروگرام کا آج آغاز ہوا۔
اس پروگرام کا مقصد پہلی مرتبہ کسی پی ایف ایف مقابلے کے ساتھ ضلع کی سطح پر ایک باقاعدہ سیف گارڈنگ نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔ ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن (SAFF) کی سیف گارڈنگ کوآرڈینیٹر ایشا فاطمہ نے بھی ڈھاکہ، بنگلہ دیش سے آن لائن شرکت کی۔
یہ اقدام پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں ایک اور اہم پیش رفت ہے، جو فٹ بال انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ایک ایسے فٹ بال نظام کی تشکیل کے عزم کا حصہ ہے جس کی بنیاد شمولیت، شرکت، تحفظ اور جواب دہی پر ہو۔
پی ایف ایف کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی فیڈریشن مقابلے کے لیے مخصوص سیف گارڈنگ پروٹوکول اور تربیت یافتہ سیف گارڈنگ اہلکار مقابلے کے آغاز ہی سے اس کے نظام کا حصہ ہوں گے، جبکہ اس ذمہ داری کو فیڈریشن کی سطح سے ان اضلاع تک لے جایا جا رہا ہے جہاں ڈی ایف سی کھیلی جائے گی۔
پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی نے کہا: “فٹ بال کو جدید بنانا صرف یہ نہیں کہ ہم کھیل کیسے کھیلتے ہیں یا مقابلوں کا انعقاد کیسے کرتے ہیں۔ یہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ہم کھیل کے اردگرد کون سے معیارات قائم کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: “فیفا کا ‘Football for All’ کا وژن یہ ہے کہ ہر شخص کو ایسے ماحول میں فٹ بال کھیلنے کا موقع ملے جو محفوظ، باعزت اور سب کے لیے یکساں ہو۔ ڈی ایف سی کے ذریعے ہم اس وژن کو گراس روٹ اور ضلعی سطح پر حقیقت بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔”
سیف گارڈنگ کیا ہے؟ فٹ بال میں سیف گارڈنگ کا مطلب ایسا ماحول بنانا ہے جہاں بچوں اور دیگر شرکاء کو نقصان، بدسلوکی، استحصال، امتیازی سلوک، غنڈہ گردی اور غفلت سے محفوظ رکھا جائے، اور کسی نقصان کے ہونے سے پہلے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے ان کا تدارک کیا جائے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بچے ایک محفوظ اور باعزت ماحول میں کھیل سکیں، تربیت حاصل کریں، سفر کریں اور مقابلوں میں حصہ لے سکیں، جبکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے بالغ افراد مناسب پیشہ ورانہ اصولوں اور حدود کی پابندی کریں۔
ڈی ایف سی کے لیے اس کا مطلب مقابلے کے پورے ماحول میں عملی اقدامات کرنا ہے۔
ان میں یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ چینجنگ رومز، واش رومز اور دیگر نجی مقامات صاف، مناسب اور مطلوبہ نگرانی کے تحت ہوں؛ بچوں کے لیے چینجنگ ایریاز، گراؤنڈ، طبی سہولیات،
رہائش اور ٹرانسپورٹ کے درمیان محفوظ راستے موجود ہوں؛ روشنی، داخلے اور محدود علاقوں کی جانچ کی جائے؛ اور کھلاڑیوں کو اپنی تشویش یا شکایت نجی اور محفوظ طریقے سے سامنے رکھنے کا موقع حاصل ہو۔
اس کے علاوہ کھلاڑیوں کے لیے صاف پینے کا پانی، گرم موسم میں مناسب پانی اور آرام، خوراک کی محفوظ فراہمی اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد بھی سیف گارڈنگ کا حصہ ہے۔
مقابلے کے دوران فوکل پرسنز صرف میدان میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھیں گے بلکہ چینجنگ رومز، واش رومز، انتظار گاہوں، ٹرانسپورٹ اور ٹیموں کی نقل و حرکت جیسے کم نظر آنے والے مقامات پر بھی توجہ دیں گے۔ وہ غنڈہ گردی، امتیازی زبان، جارحانہ کوچنگ، تضحیک اور دیگر نامناسب رویوں پر بھی نظر رکھیں گے۔
کھلاڑیوں کو بتایا جائے گا کہ ان کا سیف گارڈنگ فوکل پرسن کون ہے اور وہ کس طرح اپنی تشویش سامنے لا سکتے ہیں۔ دوسری جانب فوکل پرسنز کو یہ تربیت دی جا رہی ہے کہ ان کا کام الزامات کی تحقیقات کرنا نہیں بلکہ تحفظ فراہم کرنا، بات سننا، ضروری معلومات ریکارڈ کرنا اور متعلقہ نظام کے تحت رپورٹ کرنا ہے۔
پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد نیاز کھوکھر نے کہا کہ یہ اقدام فیڈریشن کے مقابلوں کے انتظام کے طریقہ کار میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ “سیف گارڈنگ محض کاغذ پر موجود کوئی چیز نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی اسے کسی مسئلے کے پیدا ہونے کے بعد یاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ لڑکوں اور لڑکیوں، دونوں کے لیے ہونا چاہیے۔
اسے ڈی ایف سی کی منصوبہ بندی، انعقاد اور انتظام کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ ضلعی سطح پر فوکل پرسنز کی تربیت کے ذریعے ہم یہ ذمہ داری براہِ راست ان کمیونٹیز تک لے جا رہے ہیں جہاں فٹ بال کھیلی جا رہی ہے۔”
سیف گارڈنگ کو ضلعی سطح تک لے جانا
اب تک فٹ بال میں سیف گارڈنگ سے متعلق آگاہی اور اس پر عملدرآمد زیادہ تر فیڈریشن کی سطح تک محدود رہا ہے۔ ڈی ایف سی کا یہ اقدام اس صورتحال کو تبدیل کرتے ہوئے سیف گارڈنگ سے متعلق علم، پالیسی اور عملی طریقہ کار کو براہِ راست اضلاع تک لے جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ سیف گارڈنگ فوکل پرسنز کو وینیوز، سفر، رہائش اور میچ شیڈول سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی، طبی اور ہنگامی انتظامات کی تصدیق، محفوظ انتظار اور رپورٹنگ کے مقامات کی نشاندہی، اور متعلقہ افراد کو متوقع رویے اور رپورٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
پی ایف ایف کی سیف گارڈنگ آفیسر عروج سہیل نے کہا:
“سیف گارڈنگ تحفظ کی ایک چھتری ہے۔ اس کا مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جہاں بچوں اور نوجوان کھلاڑیوں کو تحفظ حاصل ہو، جہاں خطرات کو کسی واقعے میں تبدیل ہونے سے پہلے شناخت کیا جائے، اور جہاں ان کے اردگرد موجود ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔”
فوکل پرسنز کھلاڑیوں، کوچز، آفیشلز اور ٹیم اسٹاف کے لیے نمایاں اور قابلِ رسائی رابطہ ہوں گے۔ وہ خطرات کی نشاندہی، محفوظ طریقوں کے فروغ، رپورٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہی اور متعلقہ سیف گارڈنگ نظام کے تحت خدشات پر کارروائی میں کردار ادا کریں گے۔
تربیتی پروگرام کے پہلے مرحلے میں پاکستان بھر کے مختلف اضلاع کے نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ بلوچستان کی بھی بھرپور نمائندگی رہی۔
ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن کی سیف گارڈنگ کوآرڈینیٹر ایشا فاطمہ نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ کے دوران خیالات اور تجربات کا تبادلہ فٹ بال میں ہر فرد کے لیے ایک محفوظ ماحول بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
تین روزہ پروگرام جاری رہے گا، جس کے دوران پی ایف ایف ڈسٹرکٹ سیف گارڈنگ فوکل پرسنز کو ڈی ایف سی چیمپئن شپ 2026 کے دوران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مزید تربیت فراہم کرے گا۔
ڈی ایف سی چیمپئن شپ پی ایف ایف کے لیے ایک نیا معیار قائم کرے گی، جہاں مقابلے کے آغاز ہی سے سیف گارڈنگ کو اس کے نظام کا حصہ بنایا جائے گا اور یہ ذمہ داری فیڈریشن سے براہِ راست ان اضلاع تک پہنچائی جائے گی جہاں فٹ بال کھیلی جاتی ہے۔



