
ڈیلی الاؤنس یا قومی جذبہ؟ تحریر/ طاہر لطیف
آج صبح ایک سابق اولمپئن نے مجھے واٹس ایپ پر ایک آڈیو بھیجی، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ موجودہ قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ اور کھلاڑی حنان کی گفتگو پر مبنی ہے۔ آڈیو میں ڈیلی الاؤنسز سے متعلق شکوے سننے کو ملے۔
کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ہمیشہ وعدے تو کیے، لیکن کبھی ان پر عملدرآمد نہیں کیا۔ ان کے مطابق، انہیں ایک ایسے نمائندے کی ضرورت ہے جو ان کی بات سنے اور جواب دہ ہو۔
یہ آڈیو سن کر میرے دماغ میں سوال ابھرا کہ کیا قومی کھیل کا جذبہ اب صرف پیسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے؟ کیا قومی جرسی پہننے کا مطلب اب محض تنخواہ اور الاؤنسز کا حصول ہے؟ کیا وطن سے محبت کا تقاضا صرف مالی فوائد بن چکے ہیں؟
یہ وہی کھلاڑی ہیں جو وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر وزیراعظم ہاؤس گئے، جہاں انہیں نہ صرف بھرپور عزت دی گئی بلکہ فی کھلاڑی 10 لاکھ روپے انعام بھی دیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی دعوت دی، عزت دی اور فی کھلاڑی 11 لاکھ روپے انعام دیا۔
آرمی چیف کی جانب سے ان کھلاڑیوں کے لیے سی ایم ایچ کے میڈیکل کارڈ جاری کیے گئے، جن کے تحت کھلاڑی اور ان کے اہل خانہ کو مکمل، مفت اور غیر محدود علاج کی سہولت حاصل ہے۔
موجودہ ہاکی فیڈریشن کے دور میں ٹیم نے سات بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کی، جن پر مجموعی طور پر 28 کروڑ روپے کے اخراجات آئے، جبکہ حکومت کی جانب سے صرف 13 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ باقی رقم کہاں سے آئی؟
یہ فیڈریشن کی کوششوں کا نتیجہ ہے، اور کھلاڑیوں کو اس پر شکر گزار ہونا چاہیے کہ 2024 کے بعد سے اب تک کوئی ایونٹ مس نہیں کیا گیا، چاہے وہ سینئر ٹیم کا ہو یا جونئیر کا۔ اگر یہ ٹورز نہ ہوتے تو ڈیلی الاؤنسز کا سوال ہی نہ اٹھتا۔
2016 میں ویسٹ انڈیز نے ڈیرن سیمی کی قیادت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیتا، وہ بھی بغیر بورڈ کی مالی معاونت کے۔ وہ ٹیم اپنی مدد آپ کے تحت بھارت گئی اور چیمپئن بن کر واپس آئی۔ یہی ہوتا ہے قومی جذبہ۔ اگر ہم پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں تو صرف ڈیلی الاؤنسز پر ناراضی کیوں؟
یقیناً ڈیلی الاؤنسز کھلاڑیوں کا حق ہیں اور انہیں وقت پر ملنے چاہییں، لیکن فرض، جذبہ اور عزت ان سب سے کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک کمزور مالی نظام کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ہر مرحلے پر حکومت کی مالی معاونت کی محتاج ہے۔
ذرائع کے مطابق فیڈریشن نے موجودہ صورتحال میں بھی حکومت سے فنڈز کی درخواست دے رکھی ہے، اور امید ہے کہ جیسے ہی فنڈز جاری ہوں گے،
کھلاڑیوں کو ان کے واجبات ادا کر دیے جائیں گے۔ تاہم، یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ حکومت سے فنڈز جاری ہونے کا ایک پراسیس ہوتا ہےاور اس میں وقت لگتا ہے۔



