کرکٹمضامین

پاکستان کرکٹ ٹیم۔ ناقص کارکردگی اور تجربوں کا تسلسل جاری ہے

تحریر : عمران یوسف زئی

پاکستان کرکٹ ٹیم۔ ناقص کارکردگی اور تجربوں کا تسلسل جاری ہے

تحریر : عمران یوسف زئی

پاکستان کرکٹ ٹیم میں دو چیزیں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، پے در پے شکستیں اور نت نئے تجربے، رواں ماہ کے آخر میں پاکستان نے ایشیا کپ سے پہلے افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سہ ملکی سیریز کھیلنی ہے جس کے لئے سکواڈ کا اعلان کر دیا گیا ہے،

اور قومی کرکٹ ٹیم اسی سکواڈ کے ساتھ ایشیا کپ میں بھی میدان میں اترے گی۔ ٹی 20 فارمیٹ کے کپتان سلمان علی آغا کو کپتان برقرار رکھا گیا ہے

ان کے ساتھ ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد حارث، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان مرزا، شاہین آفریدی اور سفیان مقیم 17 رکنی سکواڈ کا حصہ ہیں

جبکہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو سکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا اور یہ ایک لمبے عرصے کے بعد کوئی بڑا انٹرنیشنل ایونٹ ہے جس میں بابر اور رضوان کو ٹیم سے باہر رکھا گیا ہے۔

اس کے اثرات تو سہ ملکی سیریز میں ہی نظر آ جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ماڈرن کرکٹ کے دعویدار سہ ملکی سیریز اور ایشیا کپ میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھا سکیں گے؟

سب سے پہلے بات کرتے ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کی، بڑے نام ہونے کے باوجود پچھلی کافی اننگز سے ان دونوں کھلاڑیوں نے کوئی ایسی متاثر کن کارکردگی نہیں دکھائی جس کی بنیاد پر ان کی ٹیم سے بے دخلی کو ناانصافی کہا جا سکے۔

بابراعظم بلاشبہ ایک بڑے کھلاڑی ہیں لیکن ان کی آخری ٹی 20 ففٹی 14 مئی 2024 کو بنی تھی جب انہوں نے آئرلینڈ کے خلاف 75 رنز بنائے تھے۔ اس کے بعد پچھلے پندرہ ماہ اور 11 اننگز میں وہ ایک بھی ففٹی نہیں بنا سکے۔

بابراعظم کی گزشتہ 20 اننگز پر نظر ڈالیں تو اس میں انہوں نے صرف 538 رنز بنائے ہیں، جس میں محض 3 نصف سنچریاں شامل ہیں جس میں سے دو آئرلینڈ اور ایک نیوزی لینڈ کے خلاف ہے۔

اگر بات کی جائے محمد رضوان کی تو گزشتہ 20 اننگز میں انہوں نے 592 رنز بنائے ہیں جس میں 5 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ محمد رضوان نے آخری ففٹی 10 دسمبر 2024 کو جنوبی افریقہ کے خلاف سکور کی تھی۔

2025 کا آغاز ہوتے ہی یہ دونوں کھلاڑی ٹی 20 فارمیٹ سے باہر ہیں۔ اس کے باوجود دونوں کی ایوریج اور اسٹرائیک ریٹ اس وقت بھی ٹیم میں موجود کئی کھلاڑیوں سے زیادہ بہتر ہے۔

دونوں کھلاڑی ایک طویل عرصے اپنی پرفارمنس کے حوالے سے سخت وقت گزار رہے ہیں لیکن یہ کیسے بھلایا جا سکتا ہے کہ انہی دونوں کھلاڑیوں نے کئی میچز میں پاکستان کو فتح دلوائی ہے۔

2024 میں پاکستان کی ٹیم اپنے ٹی 20 کیریئر میں پہلی مرتبہ آئی سی سی کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آئی تو یہ بابراعظم ہی کی قیادت کا کمال تھا۔ ٹی 20 فارمیٹ میں بابر اعظم لگ بھگ 40 اور محمد رضوان 47.41 کی ایوریج سے سکور کرتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ بابراعظم اور محمد رضوان ٹی 20 فارمیٹ میں پاکستان کی جانب سے چار سب سے بڑی پارٹنرشپس کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ دونوں نے اکتوبر 2021 میں بھارت کے خلاف 152 رنز ناٹ آؤٹ کی پارٹنرشپ بنائی تھی۔

اس کے علاوہ دسمبر 2021 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 158، اپریل 2021 میں جنوبی افریقہ کے خلاف 197 اور ستمبر 2022 میں انگلینڈ کے خلاف 203 رنز ناٹ آؤٹ کی پارٹنرشپ بھی بنا چکے ہیں۔

اب نظر ڈالتے ہیں سہ ملکی سیریز اور ایشیا کپ کے لئے اعلان کردہ سکواڈ پر جس کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے جو اب تک 20 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کی 18 اننگز میں 27.14 کی اوسط سے 380 رنز بنا چکے ہیں جبکہ بولنگ میں انہوں نے صرف 20 میچز میں 4 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

خوشدل شاہ کو رواں سال جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف سہ ملکی سیریز سمیت چیمپیئنز ٹرافی میں بھی موقع دیا گیا تاہم وہ کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

خوشدل شاہ نے اب تک 37 ٹی 20 میچز میں 17.91 کی اوسط سے صرف 430 رنز بنائے ہیں جس میں کوئی سنچری یا ففٹی شامل نہیں ہے۔ جبکہ بولنگ میں وہ صرف 6 وکٹیں حاصل کر سکے ہیں، اس کے باوجود انہیں آل راؤنڈر کے کوٹے پر ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے۔

گزشتہ 10 اننگز کی بات کی جائے تو خوشدل نے صرف 86 رنز بنائے ہیں اور محض 3 وکٹیں حاصل کر سکے ہیں۔ اسی خراب کارکردگی پر انہیں ٹیم سے باہر کیا گیا تھا اور اب ایک بار پھر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، کس بنیاد پر؟

اس کاجواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ آئیے ایک نظر 2025 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ قومی ٹیم نے رواں سال کے 8 ماہ میں اب تک 29 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جس میں شاہینوں نے صرف 10 میچز جیتے ہیں، 18 میں انہیں شکست ہوئی اور ایک میچ بارش کی نذر ہو کر کینسل ہو گیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے رواں سال میں تین ٹیسٹ میچز کھیلے جس میں سے ایک جیتا اور دو میں گرین شرٹس کو شکست ہوئی۔ ٹی 20 کی بات کی جائے تو قومی ٹیم نے مجموعی طور پر 14 میچز کھیلے جس میں فتح اور شکست کا تناسب ففٹی ففٹی ہے یعنی 7 میچز ہم نے جیتے اور 7 میچز ہارے۔

سب سے زیادہ برا حال ون ڈے فارمیٹ میں ہے جس میں ہم نے مجموعی طور پر 12 میچز کھیلے ہیں صرف 2 جیتے ہیں جبکہ 9 میچز میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، چیمپیئنز ٹرافی میں بنگلہ دیش کے خلاف لاہور میں کھیلا جانے والا ایک میچ بارش کے باعث ملتوی ہو گیا تھا۔

قومی کرکٹ ٹیم کی اس زوال پذیری کے اسباب جاننے اور ان کا سدباب کرنے کی بجائے نت نئے تجربوں کا سلسلہ جاری ہے، دیکھتے ہیں 29 اگست سے شروع ہونے والی سہ ملکی سیریز اور 9 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشیا کپ 2025 میں شاہینوں کی کارکردگی کیا رہتی ہے۔

شیڈول کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان 29 اگست کو سہ ملکی سیریز کا پہلا میچ کھیلا جائے گا۔ 30 اگست کو پاکستان کی ٹیم متحدہ عرب امارات کے مدمقابل ہوگی۔

2 ستمبر کو افغانستان اور 4 ستمبر کو یو اے ای کے ساتھ میچز ہونگے۔ سہ ملکی سیریز کی دو ٹاپ ٹیمیں 7 ستمبر کو فائنل میں مدمقابل ہونگی، اس فائنل میں ایک ٹیم پاکستان کی ہوگی یا نہیں اس کا فیصلہ قومی ٹیم کی کارکردگی کرے گی۔

ایشیا کپ میں پاکستان ٹیم پہلا میچ 12 ستمبر کو اومان، 14 ستمبر کو روایتی حریف بھارت اور تیسرا میچ 17 ستمبر کو میزبان یو اے ای کے خلاف کھیلے گی۔

شائقین کرکٹ دعا ہی کر سکتے ہیں کی ان دونوں ایونٹس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی بہتر رہے تاہم جیسی ٹیم منتخب کی گئی ہے اس سے کسی غیر معمولی کارکردگی کی امید رکھنا بھی عبث ہے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!