دیگر سپورٹس

خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز 20 جنوری سے شروع ہوں گی، تاشفین حیدر

گیمز میں پانچ ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی 35 مردانہ اور 18 خواتین کے کھیلوں میں شرکت کریں گے، ڈی جی سپورٹس

خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز 20 جنوری سے شروع ہوں گی، تاشفین حیدر

گیمز میں پانچ ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی 35 مردانہ اور 18 خواتین کے کھیلوں میں شرکت کریں گے، ڈی جی سپورٹس

پشاور (سپورٹس لنک رپورٹ) خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز 20 جنوری سے پشاور میں شروع ہوں گی۔ صوبے کے اس میگا اسپورٹس ایونٹ میں پانچ ہزار سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز شرکت کریں گے۔ گیمز کے دوران مردوں کے 35 جبکہ خواتین کے 18 مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر نے پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اسپورٹس آپریشن جمشید بلوچ، پراجیکٹ ڈائریکٹر ارباب فیض، چیف کوچ شفقت اللہ اور ایڈمنسٹریٹر یوسف آفریدی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

ڈی جی اسپورٹس نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے اس میگا اسپورٹس ایونٹ کا افتتاح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی تاریخی عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں کریں گے۔

مشیر کھیل خیبرپختونخوا تاج محمد ترند کی خصوصی ہدایات پر سیکرٹری اسپورٹس محمد آصف کی سربراہی میں انڈر 21 گیمز کے لیے تمام کھیلوں کے ٹرائلز ریجنل سطح پر مکمل کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیم ایونٹس میں فاتح ٹیم کو ایک لاکھ جبکہ رنر اپ ٹیم کو پچاس ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خصوصی افراد کے لیے بھی مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں وہیل چیئر کرکٹ اور بوشے شامل ہیں۔

ڈی جی اسپورٹس کا کہنا تھا کہ اس بڑے اسپورٹس ایونٹ کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور کھلاڑیوں کو ڈیلی الاو ¿نس اور کٹس بروقت فراہم کی جائیں گی۔

مردوں کے مقابلے پشاور اسپورٹس کمپلیکس، حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس، کوہاٹ اور مردان اسپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہوں گے جبکہ خواتین کے مقابلے عبدالولی خان اسپورٹس کمپلیکس چارسدہ، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، پشاور بورڈ گراو ¿نڈ اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں ہوں گے۔

انڈر 21 گیمز میں مردوں کے کھیلوں میں بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، سکواش، ایتھلیٹکس، والی بال، کراٹے، فٹ بال، جمناسٹکس، تھرو بال، باسکٹ بال، باکسنگ، تائیکوانڈو، ہاکی، جوڈو، ہینڈ بال، ووشو، آرچری،

جوجِٹسو، ٹینس، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، سنوکر، لیکروس، ٹیگ بال، ماس ریسلنگ، فٹسال، کک باکسنگ، باڈی بلڈنگ، فل کانٹیکٹ کراٹے، کبڈی، موئے تھائی، بیس بال، رسہ کشی، رگبی اور زورخانہ شامل ہیں۔

جبکہ خواتین کے کھیلوں میں بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، سکواش، ایتھلیٹکس، والی بال، کراٹے، باسکٹ بال، تائیکوانڈو، جوڈو، ہاکی، نیٹ بال، کرکٹ، آرچری، ہینڈ بال، جوجِٹسو، تھرو بال، فٹسال اور سافٹ بال شامل ہیں۔

اس موقع پر ڈائریکٹر اسپورٹس آپریشن جمشید بلوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو رہائش، ٹی اے/ڈی اے، یونیفارم، شوز اور دیگر سامان فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی گیمز ہوں گی جن میں پانچ ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انڈر 21 گیمز کے علاوہ ڈیرہ جات ایونٹس، پشاور میں ہارس اینڈ کیٹل شو، جشن ہزارہ، یتیم بچوں کا اسپورٹس فیسٹیول، بونیر گل د نمبر فیسٹیول، روایتی کھیلوں، پولو، آئس ہاکی اور اسکیٹنگ کے مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ چھ نیشنل جونیئر چیمپئن شپس، ٹرانس جینڈر اسپورٹس ایونٹ، انٹر مدارس مقابلے، افراد باہم معذوری ایونٹ اور اقلیتی اسپورٹس فیسٹیول بھی منعقد کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!