
تالیاں، تقریریں اور بینک اکاؤنٹس
تحریر : مسرت اللہ جان
پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں خیبرپختونخوا کے ہیروز کے اعزاز میں منعقدہ تقریب بظاہر ایک شاندار ایونٹ تھا۔ اسٹیج سجا ہوا تھا، کرسیاں قطار میں تھیں،
کیمرے آن تھے اور مائیک… مائیک بیچ بیچ میں وہی کر رہا تھا جو ہمارے نظامِ کھیل کی روایت ہے، یعنی غائب۔ کبھی آواز آتی، کبھی تقریر اندازے سے سمجھنی پڑتی۔ مگر اس کے باوجود تالیاں بجتی رہیں۔ اب یہ تالیاں تقریروں پر تھیں یا مائیک کے ہر بار واپس آنے پر، یہ آج تک واضح نہیں ہو سکا۔
تقریریں اچھی ہوں گی، اس لیے تالیاں بجیں۔ یہ مفروضہ رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اصل دلچسپ لمحہ وہ تھا جب مشیر کھیل کی تقریر کے دوران انعامات کا ذکر آیا۔ تالیاں ذرا زور سے بجیں،
کچھ کھلاڑی چونکے، کچھ نے ایک دوسرے کو دیکھا، اور تب ہمیں پتہ چلا کہ انعام “دگنا” ہو گیا ہے۔ واہ۔ یہ وہ دگنا پن تھا جو صرف تقریر میں ممکن ہوتا ہے۔ عملی دنیا میں اس کے لیے بینک اکاؤنٹ، چیک، اور فائل نمبر بھی درکار ہوتے ہیں۔
اعلان کے مطابق گولڈ میڈلسٹ کو چھ لاکھ، سلور کو چار لاکھ اور برانز میڈل جیتنے والوں کو تین لاکھ روپے ملیں گے۔ اعلان اچھا ہے، نیت بھی شاید اچھی ہو، لیکن ایک معصوم سا سوال ہے۔ یہ رقم نقد دی جائے گی یا سیدھی کھلاڑیوں کے بینک اکاؤنٹس میں۔ اس سوال کی وجہ بدگمانی نہیں بلکہ تجربہ ہے۔
قائداعظم گیمز میں ایک لاکھ روپے کے انعامات کا انجام سب کو یاد ہے۔ لوگ شکار ہو گئے۔ کسی سے فیس مانگی گئی، کسی سے کٹ، کسی سے خاموش تعاون۔ نیشنل گیمز کے مختلف کھیلوں کے کھلاڑیوں کی شکایات بھی موجود ہیں کہ انعام کی رقم لینے کے لیے “دینی پڑتی” ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کھلاڑی بولتے نہیں۔ ڈرتے ہیں۔ ڈرایا جاتا ہے کہ اگر زیادہ زبان چلائی تو پابندی لگا دی جائے گی، کیریئر ختم، فائل بند۔
یہ وہ ماحول ہے جس میں کھلاڑی تمغہ جیتتا ہے اور انعام لیتے وقت سانس روک لیتا ہے۔ تقریب میں مشیر کھیل تاج محمد ترند مہمان خصوصی تھے۔ سیکرٹری اسپورٹس محمد آصف، ڈی جی اسپورٹس تاشفین حیدر، صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہمایون ظفر اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
سب نے کھلاڑیوں کو سراہا، سب نے محدود وسائل کے باوجود شاندار کارکردگی کی بات کی، اور سب نے مستقبل کے وعدے کیے۔ چترال میں آئس ہاکی، انڈر 21 گیمز، 2026 میں بین المدارس اور اقلیتی گیمز، جونیئر گیمز، علاقائی کھیل، ثقافت، سب کچھ شامل تھا۔
باتیں اچھی تھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں باتیں ہمیشہ اچھی ہوتی ہیں۔ اس تقریب میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا جو غیر معمولی تھا۔ سیکرٹری اسپورٹس اور ڈی جی اسپورٹس نے پہلی مرتبہ کھلے دل سے شکوہ کیا کہ پانچ سال سے گرانٹ نہیں ملی۔ یہ بات سچ ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ سچ ہمیشہ سچ رہتا ہے، چاہے وہ اسٹیج سے بولا جائے یا فائل میں دفن ہو۔
لیکن پھر آخر میں وہی پرانا جملہ آ گیا۔ اگر کسی کو بری لگی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔ یہاں ذرا رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر بات سچ ہے تو پھر بری لگے گی۔ اور اگر بری لگے گی تو معافی کیوں مانگتے ہیں۔
سچ بولنے کے بعد معافی مانگنا ہمارے نظام کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں کہ آگ گرم ہے، اور پھر فوراً کہہ دیں اگر کسی کو جلا ہو تو معذرت۔
تقریب کے انتظامات پر بھی بات بنتی ہے۔ پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں لگایا گیا بینر اپنی مثال آپ تھا۔ ایک لفظ غلط لکھا گیا۔ بعد میں اس غلطی کو سرخ رنگ سے درست کیا گیا۔
پھر شاید سرخ رنگ بھی بھاری پڑ گیا، تو پورا لفظ ہی مٹا کر سبز رنگ کے الفاظ ایلفی کے ساتھ چپکا دیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بینر اب کم اور اسکول کے بلیک بورڈ پر استاد کی مار کے بعد کی تحریر زیادہ لگ رہا تھا۔ ڈائریکٹوریٹ والے جانتے ہیں وہ لفظ کیا تھا۔ عوام کو بس اتنا پتہ ہے کہ درستگی بھی ہمارے ہاں عارضی ہوتی ہے۔
اب ذرا کارکردگی کی بات کر لیں۔ 35ویں نیشنل گیمز کراچی میں خیبرپختونخوا نے مجموعی طور پر 69 میڈلز جیتے۔ پانچ گولڈ، اٹھارہ سلور اور چھیالیس برانز۔ کاغذ پر یہ تعداد متاثر کن لگتی ہے،
لیکن ماضی سے موازنہ کریں تو تصویر مکمل ہوتی ہے۔ کچھ کھیلوں میں ہم نیچے آئے، کچھ میں اوپر۔ بیڈمنٹن میں گولڈ سے نیچے آنا ایک سوالیہ نشان ہے۔ کچھ کھیلوں میں صرف اس لیے میڈل آئے کہ وہاں مقابلہ کم تھا۔ یہ تلخ بات ہے مگر حقیقت ہے۔
کراٹے، باڈی بلڈنگ، ٹیبل ٹینس، سیلنگ اور جوڈو میں گولڈ آئے۔ یہ خوشی کی بات ہے۔ مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کامیابیاں نظام کی بدولت کم اور انفرادی محنت کی وجہ سے زیادہ ہیں۔ ہمارے کھلاڑی خود کوچ، خود مینیجر اور خود اسپانسر بن کر کھیلتے ہیں۔
تقریب میں بار بار یہ کہا گیا کہ تمام اضلاع میں کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ جملہ ہر حکومت، ہر مشیر اور ہر سیکرٹری کی تقریر کا مستقل حصہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ سہولیات فائل میں بنتی ہیں، گراونڈ میں نہیں۔ آج بھی کئی اضلاع میں اسٹیڈیم کی دیواریں زیادہ مضبوط ہیں، اندر کھیل کمزور ہیں۔
آخر میں ایک بات پھر انعامات پر۔ اگر واقعی گولڈ کے چھ لاکھ، سلور کے چار اور برانز کے تین لاکھ دینے ہیں تو خدارا یہ رقم سیدھی کھلاڑی کے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیں۔ بغیر کسی فارم، بغیر کسی کٹ، بغیر کسی خاموش معاہدے کے۔ کھلاڑی کو اس کا حق ایسے ملنا چاہیے جیسے تمغہ ملا تھا، صاف اور کھلے دل سے۔
تقریب ختم ہو گئی، تالیاں رک گئیں، مائیک بند ہو گیا، اور وعدے حسب روایت فضا میں معلق رہ گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تقریر فائل بنے گی یا خبر، اور انعام اعلان رہیں گے یا رقم۔
اگر یہ سب سچ ہے تو ہاں، بری تو لگے گی۔ اور اگر بری لگ رہی ہے تو شاید مسئلہ بات کرنے والے میں نہیں، سننے والوں میں ہے۔
اگر پھر بھی کسی کو بری لگی ہے، تو معافی نہیں، اصلاح کی ضرورت ہے


