
سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی گاڑیاں: کھیل کے میدان سے لے کر دفتر کے ڈرامے تک
مسرت اللہ جان
خیبرپختونخواہ کے سپورٹس ڈائریکٹریٹ میں یہ وقت ہے جب نہ صرف کھیل کی بات ہوتی ہے، بلکہ گاڑیوں کی کہانی بھی اپنی ایک الگ لیگ کھیل رہی ہے۔ ہاں، آپ نے صحیح پڑھا، بیس گاڑیاں، اٹھارہ مختلف افراد کے قبضے میں، اور دو ابھی بھی لاپتہ۔ یہ صورتحال دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہ گاڑیاں بھی اپنے آپ میں آزاد ہیں اور اپنے مالک کا انتظار کر رہی ہیں۔
اب ذرا صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ بیس گاڑیوں میں سے اٹھارہ موجود ہیں، اور باقی دو گاڑیاں اب بھی شہر کے کسی کونے میں چھپی ہوئی ہیں، شاید سوچ رہی ہوں کہ کب واپس آئیں یا کب کسی نئے مالک کے پاس جائیں۔ ذرائع کے مطابق شکایات موصول ہونے کے بعد محکمہ ایکسائز سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کی رجسٹری اور موجودہ مالک کی تصدیق کی جا سکے۔
اب ذرا سوچیں کہ یہ گاڑیاں کس کس کے پاس ہیں؟ کچھ سیاسی بنیادوں پر دی گئی ہیں، کچھ سابق افسران کے پاس، اور کچھ ایسے افراد کے پاس ہیں جو تو ڈیپارٹمنٹ چھوڑ چکے ہیں۔ ہاں، یہ وہ افراد ہیں جو شاید اب کسی دوسرے دفتر میں کام کر رہے ہوں، یا کہیں اور مصروف ہیں،
لیکن ان کے ساتھ گاڑی بھی “مصروف” ہے۔اب آتے ہیں اصل “کارڈز” یا گاڑیوں پر: کلٹس، بولان، ویگنار، کلٹس اے جی ایس، سنگل کیبن اور کلٹس وی ایکس آر۔ یہ نام صرف گاڑیوں کے ماڈل نہیں، بلکہ ہر گاڑی کے ساتھ چھوٹا سا ڈرامہ جڑا ہوا ہے۔ لگتا ہے جیسے ہر گاڑی اپنے مالک سے کہہ رہی ہو: “میں کب واپس جا رہی ہوں؟” اور مالک جواب میں سوچ رہے ہوں: “شاید ہمیں یاد نہیں، لیکن کوئی بات نہیں، میں اس کا فائدہ لے رہا ہوں!”
اب فرض کریں، ڈیپارٹمنٹ کے کئی افسران اور کچھ سابق افسران ہیں، جنہیں ہم عام ناموں سے جانیں گے سابق ڈی جی سطح کے ایک افسر کے پاس دو گاڑیاں ہیں، جو شاید یہ سوچ کر لے گئے ہوں کہ دفتر کے سفر کے لیے کم ہیں۔
ایک پراجیکٹ ڈائریکٹر کے پاس ایک گاڑی ہے، جو اب کسی اور منصوبے میں مصروف ہیں۔ سابق سیکرٹری سطح کے ایک افسر کے پاس بھی ایک گاڑی موجود ہے، اور وہ کسی اور عہدے پر “ملازمتی سہولت” لے رہے ہیں۔ کچھ افسران جو ڈیپارٹمنٹ چھوڑ چکے ہیں، ان کے پاس گاڑیاں ہیں، اور وہ اب بھی ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مزاحیہ بات یہ ہے کہ تین افراد کے پاس ڈیپارٹمنٹ کی دو گاڑیاں ہیں اور وہ دیگر عہدوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ یعنی نہ صرف گاڑیاں ان کے لیے “سہولت کارڈ” ہیں، بلکہ ان کی چھوٹی سی گاڑیوں کی لیگ بھی چل رہی ہے۔ ہر گاڑی شاید سوچ رہی ہو: “میں اگلے ہفتے کس کے پاس ہوں گی؟”
اب دلچسپ مناظر دیکھیں: ایک گاڑی DC کے دفتر کے باہر کھڑی ہے، جبکہ DC اندر میٹنگ میں مصروف ہیں، اور باہر گاڑی اپنی “واپسی” کا انتظار کر رہی ہے۔ ایک اور گاڑی پراجیکٹ آفس کے باہر رکھی ہے، اور وہاں کے افسران سوچ رہے ہیں کہ یہ گاڑی کس کے پاس جائے گی۔
کچھ گاڑیاں تو سیاست کی بنیاد پر دی گئی ہیں، جن کا کہنا ہے: “ہم کسی کو نہیں دیں گے، یہ ہمارے لیے ہے!”یہ سب کچھ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ گاڑیاں بھی انسانوں کی طرح اپنے فیصلے کر رہی ہیں۔
کہیں کلٹس وی ایکس آر کسی نئے دفتر کی طرف رخ کر رہی ہے، تو بولان شاید اپنے سابق مالک کے ساتھ کسی میٹنگ میں مصروف ہے۔ ہر گاڑی کا ایک چھوٹا سا “سفر” ہے، جو کبھی کسی عدالت کی رپورٹ میں، کبھی کسی افسر کی یادداشت میں درج ہوگا۔
اب ذرا اس کی قانونی حیثیت پر بات کریں: سب گاڑیاں عوامی وسائل ہیں، اور انہیں صحیح استعمال کرنا ہر افسر کی ذمہ داری ہے۔ بیس گاڑیاں، اٹھارہ مالک، دو لاپتہ اور ایک سیاسی داستان — یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ احتساب اور شفافیت صرف الفاظ نہیں، بلکہ عمل میں بھی ہونا چاہیے۔اور پھر کچھ DC بھی ہیں جو الگ جگہ پر بیٹھے ہیں،
اپنے دفتر کے کام میں مصروف، جبکہ باہر گاڑیاں انتظار میں ہیں۔ لگتا ہے جیسے یہ گاڑیاں بھی DC سے کہہ رہی ہوں: “ہم کب واپس آئیں؟ کب ہمیں قانونی حیثیت ملے گی؟” اور DC جواب میں سوچ رہے ہوں: “ہماری مصروفیات کے بعد یہ سب سنبھالیں گے!”
گاڑیوں کی صورتحال اتنی پیچیدہ ہے کہ ہر گاڑی ایک چھوٹا سا کردار بن گئی ہے: کچھ سیاسی بنیادوں پر دی گئی ہیں کچھ سابق افسران کے پاس ہیں کچھ افراد کے پاس ہیں
جو اب مختلف عہدوں پر ہیں اور دو گاڑیاں ابھی بھی غائب ہیں یہ کالم پڑھ کر شاید آپ سوچیں کہ یہ سب مذاق ہے یا حقیقت؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک حقیقی مگر طنزیہ منظر نامہ ہے۔ سپورٹس ڈائریکٹریٹ کی گاڑیاں صرف ڈپارٹمنٹ کے لوگو نہیں ہیں، بلکہ عوام کے وسائل ہیں، جن کی حفاظت اور درست استعمال لازمی ہے۔
آخر میں، ایک سبق جو یہ پورا معاملہ سکھاتا ہے: چاہے کھیل کے میدان میں ہو، یا سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے پارکنگ لاٹ میں، احتساب اور شفافیت کبھی بھی مذاق نہیں بن سکتی۔
بیس گاڑیاں، اٹھارہ مالک، دو لاپتہ اور ایک سیاسی داستان — یہ سب کچھ ایک طنزیہ مگر حقیقت پسندانہ کہانی ہے، جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ گاڑی صرف چلانے کے لیے نہیں، بلکہ قانونی اور اخلاقی دائرہ کار میں رہ کر استعمال کرنے کے لیے ہے۔



