
ڈیجیٹل اسکورنگ اور ڈومیسٹک کرکٹ میں سلیکشن کا بحران: تحریر؛فواد مصطفی
پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میں گزشتہ سات، آٹھ سال کے دوران ڈیجیٹل اسکورنگ کا آغاز یقیناً ایک مثبت قدم تھا۔ اس کے ذریعے میچز کے اسکورز، اسکور شیٹس اور مختلف اعدادوشمار آسانی سے دستیاب ہونے لگے۔ لیکن اس سہولت کے ساتھ ایک ایسا مسئلہ بھی پیدا ہوا جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا کی دستیابی کے بعد سلیکٹرز کا گراؤنڈ میں جا کر کھلاڑیوں کو اپنی آنکھ سے دیکھنے کا رجحان کم ہوگیا۔ اسکورز اور اعدادوشمار سامنے ہوتے تھے، اس لیے سلیکشن کا عمل بتدریج نمبرز پر زیادہ انحصار کرنے لگا۔ گویا جس نے سب سے زیادہ رنز کیے، وہ سلیکشن کا مضبوط امیدوار بن گیا۔
اس کا ایک بڑا نقصان جونیئر کرکٹ میں مڈل آرڈر بیٹرز کو ہوا۔ اوپنرز کو عام طور پر زیادہ مواقع ملتے ہیں، اس لیے وہ زیادہ رنز بنا کر ٹاپ اسکوررز بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً ہر ریجن سے زیادہ تر اوپنرز سلیکٹ ہوتے رہے، جبکہ مڈل آرڈر بیٹرز کو اتنے مواقع ہی نہیں ملے کہ وہ اپنی صلاحیت ثابت کرسکیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بڑی تعداد میں اوپنرز سسٹم میں آتے رہے اور بعد میں انہی کھلاڑیوں کو مڈل آرڈر میں کھلایا جانے لگا۔ لیکن ایک قدرتی اوپنر اور قدرتی مڈل آرڈر بیٹر کے کھیلنے کا انداز اور ضروری صلاحیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مڈل آرڈر میں آنے والے بیٹر کو مختلف صورتحال، مختلف معیار کی بولنگ اور دباؤ میں بیٹنگ کرنا پڑتی ہے۔
آج اگر ہم پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو دیکھیں تو یہ کمی واضح محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے پاس کئی ایسے بیٹرز ہیں جو بنیادی طور پر اوپنرز رہے ہیں، لیکن انہیں ٹیم کی ضرورت کے مطابق مڈل آرڈر میں بھیجا جاتا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی مضبوط بیٹنگ سسٹم کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ رنز کی بنیاد پر سلیکشن کی گئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ رنز کس طرح بنائے گئے، اس کا جائزہ کم لیا گیا۔ صرف اسکور شیٹ یہ نہیں بتاتی کہ بیٹر نے کس پچ پر، کس معیار کی بولنگ کے خلاف، کس صورتحال میں اور کس دباؤ کے دوران رنز کیے۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی میچ وننگ صلاحیت کیا ہے اور مشکل صورتحال میں وہ کس طرح کھیلتا ہے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا یقیناً جدید کرکٹ کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ڈیٹا کو سلیکٹر کی مدد کرنی چاہیے، سلیکٹر کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔
ہمیں ایسے سلیکٹرز کی ضرورت ہے جو گراؤنڈز میں جائیں، کھلاڑیوں کو براہِ راست دیکھیں اور صرف اسکور بورڈ نہیں بلکہ کھلاڑی کا کھیل، اس کی تکنیک، فیصلہ سازی، شاٹس کا معیار اور مختلف حالات میں اس کی کارکردگی بھی پرکھیں۔
اور افسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ سیزن شروع ہوچکا ہے۔ انڈر 19، گریڈ ون اور گریڈ ٹو کرکٹ کھیلی جارہی ہے، لیکن سلیکشن کمیٹی گراؤنڈز سے غائب نظر آتی ہے۔ اگر ہمیں واقعی ٹیلنٹ تلاش کرنا اور ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنانا ہے تو سلیکٹرز کو گراؤنڈ میں موجود ہونا ہوگا۔
ڈیٹا ضروری ہے، لیکن سلیکشن کا فیصلہ صرف نمبرز پر نہیں ہوسکتا۔ ایک اچھے سلیکٹر کی نظر، کرکٹ کی سمجھ اور گراؤنڈ میں کھلاڑی کو دیکھنے کا عمل ہی حقیقی ٹیلنٹ کی پہچان کر سکتا ہے۔



