دیگر سپورٹسمضامین

زوم، قانون اور کھیل: عبوری کابینہ یا عبوری تماشا؟

زوم، قانون اور کھیل: عبوری کابینہ یا عبوری تماشا؟

مسرت اللہ جان

پاکستان میں کھیل صرف میدان میں نہیں کھیلے جاتے، اصل مقابلہ فائلوں، میٹنگز اور بیانات میں ہوتا ہے۔ تائیکوانڈو فیڈریشن کے حالیہ معاملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ہاں کھیلوں کی سیاست میں اصول ثانوی اور مجبوریوں کو “قانون” کا نام دے دیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے واضح وارننگ دی کہ صدر کے چھ ٹینیور اور جنرل سیکرٹری کے تین ٹینیور مکمل ہو چکے ہیں۔ پیغام سادہ تھا: کابینہ تبدیل کریں، ورنہ بین کے لیے تیار رہیں۔ یہاں تک سب ٹھیک تھا۔ مسئلہ وہاں سے شروع ہوا جہاں اس وارننگ کو جمہوری اصلاح کے بجائے فوری بچاؤ آپریشن سمجھا گیا۔

فوری طور پر ایک آن لائن، یعنی زوم میٹنگ بلائی گئی۔ دلیل یہ دی گئی کہ صورتحال ایمرجنسی ہے۔ ایجنڈا بتایا گیا کہ تیسری ٹینیور اور پی ایس بی کی پالیسی زیر بحث آئے گی۔ لیکن اسی ایک میٹنگ میں اپریل تک کے لیے عبوری کابینہ کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ عبوری کابینہ کیوں بنی، سوال یہ ہے کہ کیسے بنی۔

کیا کسی فیڈریشن کا آئین یہ اجازت دیتا ہے کہ ایک آن لائن میٹنگ میں، بغیر مناسب نوٹس، بغیر واضح انتخابی طریقہ کار، ایک پوری عبوری کابینہ مسلط کر دی جائے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو براہ کرم وہ شق دکھا دی جائے۔ اور اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر یہ سب کس قانون کے تحت ہوا؟

یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا پاکستان اسپورٹس بورڈ کو یہ سب نظر نہیں آیا؟ یا نظر آیا مگر دیکھا ان دیکھا کر دیا گیا؟ یا پھر یہ سمجھ لیا گیا کہ کھلاڑی، کوچ، اور عوام سب کچھ خاموشی سے قبول کر لیں گے کیونکہ ماضی میں بھی یہی ہوتا آیا ہے؟

یہ پہلی بار نہیں کہ “ایمرجنسی” کا لفظ استعمال کر کے آئین کو سائیڈ پر رکھا گیا ہو۔ ہمارے ہاں ایمرجنسی ایک ایسا جادوئی لفظ ہے جو ہر غیر آئینی عمل کو وقتی طور پر جائز بنا دیتا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں ایمرجنسی کا مطلب اختیار بڑھانا نہیں بلکہ ذمہ داری بڑھانا ہوتا ہے۔

زوم میٹنگ کا حوالہ بھی دلچسپ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سہولت کے لیے بنی تھی، شفافیت کے لیے، وقت بچانے کے لیے۔ لیکن ہمارے ہاں اسے آئینی شارٹ کٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر انگریز، جن کے بنائے ہوئے قوانین اور نظام کا ہم آج بھی حوالہ دیتے نہیں تھکتے، یہ دیکھ لیں کہ ہم زوم کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں تو شاید وہ بھی یہی کہیں کہ “یہ تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔”

یہاں وہ مشہور حکایت یاد آتی ہے جس میں ایک شخص اپنا کام کر کے شیطان کو گالی دیتا ہے، اور شیطان جواب دیتا ہے کہ بھائی، مجھے مفت میں بدنام مت کرو، یہ طریقہ تو میرے ذہن میں بھی نہیں تھا۔ تائیکوانڈو فیڈریشن کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔ جو کچھ ہوا، وہ اتنا سیدھا بھی نہیں اور اتنا معصوم بھی نہیں۔

اصل مسئلہ افراد کا نہیں، نظام کا ہے۔ اگر آج ایک فیڈریشن زوم میٹنگ میں عبوری کابینہ بنا سکتی ہے، تو کل کوئی اور فیڈریشن بھی یہی کرے گی۔ پھر ہم کس منہ سے شفافیت، گڈ گورننس اور میرٹ کی بات کریں گے؟

کھلاڑی اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ نظرانداز شدہ فریق ہیں۔ ان سے نہ پوچھا جاتا ہے، نہ بتایا جاتا ہے۔ فیصلے اوپر ہوتے ہیں اور اثر نیچے پڑتا ہے۔ کوچز، ریفریز اور ضلعی ایسوسی ایشنز صرف تماشائی بن کر رہ جاتی ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ پی ایس بی کی پالیسی کے تحت ہوا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر پالیسی کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔ شفافیت کا یہی واحد راستہ ہے۔ ورنہ یہ تاثر مضبوط ہو گا کہ پالیسی ایک لفظ ہے، جسے ضرورت کے مطابق موڑا جاتا ہے۔

کھیلوں کی فیڈریشنز کوئی نجی کمپنیاں نہیں کہ چند لوگ بند کمرے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں۔ یہ ادارے عوامی مفاد، قومی نمائندگی اور نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہاں ہر قدم آئین، قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

ہم شاید فوری طور پر کچھ نہ کر سکیں، لیکن سوال اٹھانا، لکھنا اور ریکارڈ پر لانا ہمارا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ وقت آ گیا ہے کہ کھیلوں کی فیڈریشنز میں صرف نام اور عہدے نہیں، بلکہ متعلقہ کھیل سے وابستگی، تجربہ اور دیانت داری کو معیار بنایا جائے۔ ورنہ ہر چند ماہ بعد ہم یہی پوچھتے رہیں گے: کیا قانون اندھا ہے؟ یا ہم سب کو اندھا سمجھ لیا گیا ہے؟

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!