دیگر سپورٹسمضامین

سرکاری کھیلوں کی دنیا میں خواتین کا نام و نشان: صرف مردوں کے لیے کھلنے والا شو!

سرکاری کھیلوں کی دنیا میں خواتین کا نام و نشان: صرف مردوں کے لیے کھلنے والا شو!

مسرت اللہ جان

اگر آپ نے کبھی سوچا کہ خیبر پختونخوا کے ملاپ شدہ اضلاع میں کھیلوں کی دنیا کیا شکل اختیار کر گئی ہے، تو میں آپ کو بتاو کہ یہ تصویر بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی تاریخی میوزیم میں صرف مردوں کی تصویریں لگی ہوں اور خواتین کی تصویر دیکھنے کے لیے آپ کو چشمہ یا دوربین چاہیے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، باجوڑ میں 3708 مرد کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں، خیبر میں 4506، مہمند میں 3016،کرم میں 3706،اورکزئی میں 2204، نارتھ وزیرستان میں 3504 اورساﺅتھ وزیرستان میں 3464۔ خواتین؟ صفر۔ بلکل صفر۔

اگر آپ نے اسکول کی میتھ کی کلاس میں کبھی زیرو کے بارے میں سیکھا ہے، تو یہی زیرو خواتین کی نمائندگی ہے۔ اب، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید خواتین صرف ابھی رجسٹر نہیں ہوئیں، یا شاید سرکاری ریکارڈ میں ان کا نام "سرچ کرنے کے قابل نہیں” کے زمرے میں آ گیا ہو۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی نمائندگی صرف اس وقت نظر آتی ہے جب آپ جادو کی چھڑی لے کر سرکاری کاغذ کے جنگل میں جھانکیں، اور پھر بھی جواب اکثر یہ ہوتا ہے: "مہربانی کرکے تین مہینے انتظار کریں، پھر پتہ چل جائے گا کہ خواتین بھی کہیں کھیل رہی ہیں یا صرف ہوا میں اڑ رہی ہیں۔”

کچھ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ یہ سراسر حکومتی پالیسی کی کمی ہے۔ خواتین کے کھیلوں کے لیے کوئی منصوبہ بندی، کوئی پالیسیاں، کوئی عملی اقدامات نہیں۔ بس مرد کھیلیں، ان کا ریکارڈ بن جائے،

اور خواتین؟ انہیں بس ‘گھریلو سپورٹس مین’ کے طور پر مان لیا جائے۔ اور اگر آپ نے کہیں پوچھا کہ خواتین کے لیے کوئی پروگرام ہے، تو جواب یہ ملے گا: "کیا واقعی خواتین بھی کھیلنا چاہتی ہیں؟”

تصور کریں، 3464 مرد کھلاڑی ساﺅتھ وزیرستان میں کھیلوں کی تربیت لے رہے ہیں، ورزش کر رہے ہیں، ٹورنامنٹس میں حصہ لے رہے ہیں، اور اسی دوران خواتین صرف ایک نظریاتی زمرے میں موجود ہیں:

"غائب لیکن رسمی ریکارڈ کے لیے ضروری”۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے آپ کے کمپیوٹر میں 1 ٹیرابائٹ کی جگہ صرف کاغذ کے فولڈرز رکھ دیے جائیں اور کہا جائے: "سب کچھ محفوظ ہے۔”

اب اگر ہم ان اعداد و شمار کو کلکولیٹر کی مدد سے تھوڑا سا مزاحیہ زاویے سے دیکھیں، تو ہر مرد کھلاڑی کے لیے سرکاری ریکارڈ میں ایک "خالی سیٹ” مخصوص ہے، جو خواتین کی نمائندگی کے لیے وقف ہے۔ اور یہ خالی سیٹ ہمیشہ خالی رہے گا، کیونکہ سرکاری طور پر خواتین صرف ایک فائل میں موجود ہیں، کھیل کے میدان میں نہیں۔

باجوڑ کے 204 کھیلوں کے کلب ہیں۔ ہر کلب میں تقریباً 18 مرد کھلاڑی رجسٹرڈ ہیں۔ خواتین؟ شاید وہ کلب کے کچن میں چائے بنا رہی ہوں یا اپنے بال سنوار رہی ہوں، کیونکہ ان کے لیے تو کھیلوں کا کوئی وجود ہی نہیں۔خیبر کے 346 کلب اور مہمند کے 260 کلب بھی اسی منطق پر چلتے ہیں: زیادہ سے زیادہ مرد، زیرو خواتین۔

کیا خواتین کھیلنا نہیں چاہتیں؟ نہیں، یہ سوال بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کھیلنا چاہتی ہیں، لیکن انہیں موقع ہی نہیں دیا گیا۔ سرکاری دستاویزات میں تو مرد کھلاڑی ایسے ہیں جیسے وہ Olympiad میں حصہ لے رہے ہوں،

لیکن خواتین صرف ایک نظریاتی زمرے میں محفوظ ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ محض رسمی اعداد و شمار ہیں۔ اور وہ صحیح کہتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بالکل ویسے ہیں

جیسے کسی شادی کے کارڈ پر لکھا ہو: "سب خوش ہیں”، حالانکہ حقیقت میں دادی اور چچا جی کے درمیان خفیہ بحث ہو رہی ہو کہ کون سب سے زیادہ کیک کھائے گا۔کیا یہ کھیلوں کی ترقی ہے یا صرف فائلیں مکمل کرنے کا ڈرامہ؟ سوال واقعی یہ ہے۔

مردوں کے لیے ہر چیز موجود ہے: کلب، کوچز، ٹورنامنٹس، اور سرکاری ریکارڈ۔ خواتین کے لیے صرف "غائب، لیکن ضروری”۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے آپ کسی ریسٹورنٹ میں جائیں اور مینو میں ہر ڈش کی قیمت لکھی ہو،

لیکن اصل میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ملے۔مزید دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب آپ متعلقہ کھیلوں کی ایسوسی ایشنز سے خواتین کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو جواب اکثر ہوتا ہے: "ہم دیکھیں گے” یا "مہینے بعد آپ کو جواب ملے گا”۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپ کسی ڈاکٹر سے کہہ دیں: "میری صحت کی رپورٹ چاہیے” اور وہ کہیں: "شاید سال بعد مل جائے۔”

اور عوامی بیانات؟ وہ تو الگ ہی مذاق ہیں۔ سرکاری سطح پر عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خواتین کے کھیلوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ لیکن زمین پر حقیقت یہ ہے کہ خواتین کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے آپ کسی کتاب میں پڑھیں کہ "یہاں ہر کوئی خوش ہے” اور حقیقت میں ہر کوئی اداس ہو۔

اب ذرا ان اعداد و شمار کا مزاحیہ تجزیہ کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ہر مرد کھلاڑی کے پیچھے ایک "خالی خواتین کا سیکشن” ہے۔ تو باجوڑ میں 3708 مرد کھلاڑی اور 3708 خالی خواتین کا سیکشن۔

مہمند میں 3016 مرد کھلاڑی اور 3016 خالی سیکشن۔ اگر ان سب کو ایک ساتھ جمع کریں، تو آپ کے پاس ایک حیران کن شماریاتی کھیل بن جائے گا: مرد کھیلتے ہیں، خواتین "شماریاتی طور پر” کھیلتی ہیں۔

یہ سب سن کر شاید کوئی سوچے کہ خواتین کی کمی صرف کاغذ پر ہے۔ لیکن حقیقت میں خواتین کھیلنا چاہتی ہیں، وہ صرف سرکاری نظام کے جال میں پھنس گئی ہیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے کسی نے 100 بچوں کے لیے سائیکلیں خریدیں لیکن سب کو ایک ہی بچہ چلا رہا ہو۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خواتین کی نمائندگی نہیں ہونے کی وجہ ثقافتی عوامل ہیں۔ لیکن اگر یہ سچ بھی ہے، تو سرکاری ریکارڈ میں خواتین کا بالکل نہ ہونا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

اگر واقعی کھیل خواتین کے لیے ممکن نہیں تو سرکاری اعداد و شمار میں انہیں زیرو کیوں لکھا گیا؟ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے آپ اپنے بینک اکاونٹ میں صفر روپے دیکھیں اور بینک کہے: "یہاں آپ کی جمع رقم ہے۔”

مزید مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ کھیلوں کے اس نظام میں خواتین کے لیے کوئی سرکاری پروگرام موجود نہیں، لیکن مردوں کے لیے تربیتی کیمپ، کوچز، ٹورنامنٹس، اور سہولیات موجود ہیں۔ خواتین کے لیے بس ایک نظر انداز شدہ خالی جگہ ہے،

جسے "صوبائی کھیلوں کے کاغذی فارمیٹ میں ضروری” کے طور پر رکھا گیا ہے۔اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ صرف اعداد و شمار کا مسئلہ ہے، تو غلط سوچ رہے ہیں۔ یہ کھیلوں کی زمین پر بھی نظر آتا ہے۔ مرد کھلاڑی ٹورنامنٹس میں حصہ لیتے ہیں، کھیلوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں، اور سرکاری سرٹیفیکیٹ حاصل کرتے ہیں۔ خواتین؟ ان کے لیے سرکاری سطح پر صرف کاغذی عزت ہے۔

یہ سب دیکھ کر ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی کھیلوں کی ترقی ہو رہی ہے یا صرف رسمی نمبرز کے لیے مردوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے؟ خواتین کو نظر انداز کر کے مردوں کی تعداد بڑھانا بالکل ویسا ہی ہے جیسے کسی میوزیم میں صرف مردوں کی تصویریں لگائیں اور خواتین کی تصویریں لگانے کی ہمت نہ کریں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملاپ شدہ اضلاع میں کھیلوں کی دنیا واقعی مردوں کے لیے ہے۔ خواتین کی موجودگی محض کاغذی ریکارڈ تک محدود ہے، اور زمین پر وہ صرف غیر موجود ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف مزاحیہ ہے بلکہ سنجیدہ بھی ہے،

کیونکہ یہ خواتین کی کھیلوں میں شمولیت کے حق کو نظر انداز کرتی ہے۔لہذا اگلی بار جب آپ کسی ملاپ شدہ ضلع کے کھیلوں کے اعداد و شمار دیکھیں، تو یاد رکھیں: ہزاروں مرد کھلاڑی موجود ہیں، لیکن خواتین؟ وہ صرف ایک خالی خانہ ہیں، جو سرکاری دستاویزات کو مکمل کرنے کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

یہ سب کچھ سن کر، ایک ہی چیز سامنے آتی ہے: کھیلوں کی ترقی صرف مردوں کے لیے ہے، اور خواتین کے لیے صرف سرکاری ریکارڈ میں ایک "خالی خانہ”۔ یہ مکمل طور پر ایک مزاحیہ لیکن حقیقت پر مبنی ڈرامہ ہے، جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ملاپ شدہ اضلاع میں کھیلوں کی دنیا واقعی کتنی عجیب اور غیر متوازن ہے۔

آخر میں ایک بات یاد رکھیں: اگلی بار جب آپ کسی کھیلوں کے ایونٹ میں جائیں اور مرد کھلاڑیوں کی تعداد دیکھیں، تو اپنے دماغ میں خواتین کے لیے ایک خالی سیٹ رکھیں۔ یہ خالی سیٹ اس بات کی علامت ہے کہ سرکاری دنیا میں خواتین موجود ہیں، لیکن حقیقت میں نہیں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!