دیگر سپورٹس

خیبرپختونخوا: کھیلوں کی سرگرمیوں پر اخراجات کی تفصیلات جاری

 کھیلوں کی سرگرمیوں پر 42 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد خرچ، اخراجات کی تفصیلات جاری

پشاور (سپورٹس لنک رپورٹ) ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپورٹس خیبرپختونخوا نے مالی سال 2025-26 کے دوران کھیلوں کی سرگرمیوں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کھیلوں کی مختلف سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 42 کروڑ 54 لاکھ 250 روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 17 کروڑ 45 لاکھ 99 ہزار 750 روپے استعمال نہ ہو سکے۔ مزید 20 کروڑ روپے کی ازسرنو تخصیص (Re-appropriation) کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ڈیرہ جات فیسٹیول کے لیے مختص 15 کروڑ روپے اور ہارس اینڈ کیٹل شو کے لیے مختص 12 کروڑ روپے میں سے 5 کروڑ روپے ریونیو اشیا کی خریداری اور کھلاڑیوں کی سہولیات کے لیے منتقل کیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 7 کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔

پشاور پولو ٹورنامنٹ کے لیے مختص 7 کروڑ روپے میں سے ایک کروڑ روپے خرچ ہوئے اور 6 کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔ بونیر گلِ دَ نمیر فیسٹیول کے لیے مختص 70 لاکھ روپے میں سے 53 لاکھ 64 ہزار 100 روپے خرچ کیے گئے جبکہ 16 لاکھ 35 ہزار 900 روپے بچائے گئے۔

چترال میں آئس ہاکی اور آئس اسکیٹنگ مقابلوں کے لیے 80 لاکھ روپے جبکہ جشن ہزارہ کے لیے مختص 6 کروڑ 80 لاکھ 18 ہزار روپے میں سے 3 کروڑ 13 لاکھ 32 ہزار روپے خرچ ہوئے اور 3 کروڑ 66 لاکھ 86 ہزار روپے کی بچت ہوئی۔

خیبرپختونخوا مرد و خواتین انٹر ریجنل گیمز کے لیے مختص 25 کروڑ روپے میں سے 24 کروڑ 76 لاکھ 72 ہزار 150 روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 23 لاکھ 27 ہزار 850 روپے بچ گئے۔ نیشنل جونیئر چیمپئن شپ پر 3 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق انٹر مدارس گیمز پر 21 لاکھ 15 ہزار روپے، افرادِ باہم معذوری گیمز پر 62 لاکھ 3 ہزار روپے،

اقلیتی نوجوانوں کے سپورٹس گالا پر 16 لاکھ 82 ہزار روپے، جبکہ زمونگ کور، آغوش الخدمت فاونڈیشن، خپل کور اور امن کور بونیر کے بچوں کے سپورٹس فیسٹیول پر ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

یومِ پاکستان، یومِ آزادی اور دیگر قومی دنوں کی تقریبات پر 60 لاکھ روپے جبکہ رمضان المبارک کے دوران پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور بونیر میں کرکٹ و فٹبال ٹورنامنٹس پر مجموعی طور پر 70 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

خواجہ سرا کھلاڑیوں کے لیے مختص 9 لاکھ 82 ہزار روپے میں سے 9 لاکھ 32 ہزار روپے خرچ ہوئے اور 50 ہزار روپے کی بچت ہوئی۔ بنوں کبڈی کپ پر 30 لاکھ روپے،

مستحق کھلاڑیوں کی تعلیمی معاونت پر 50 لاکھ روپے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور انعامات پر ایک کروڑ روپے، جبکہ تحصیل، ضلعی، ریجنل، صوبائی اور قومی سطح کے مقابلوں کے انعقاد پر 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

اسی طرح صوبے کے لیے میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں کے نقد انعامات پر ایک کروڑ روپے،

ضرورت مند کھلاڑیوں کی سپانسرشپ پر ایک کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ کوچنگ ڈویلپمنٹ اور ایجوکیشن کے لیے مختص 50 لاکھ روپے میں سے 11 لاکھ روپے خرچ ہوئے اور 39 لاکھ روپے کی بچت ریکارڈ کی گئی۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!