
پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن اور ایل جی یو کے زیرِ اہتمام ’سیلف ڈیفنس ورکشاپ‘ کا انعقاد
لاہور: پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن (PMAA) نے لاہور گیریژن یونیورسٹی (LGU) کے اشتراک سے ایک جامع سیلف ڈیفنس (خود حفاظتی) ورکشاپ کا انعقاد کیا۔
اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد طالبات کو مارشل آرٹس کی عملی تکنیکس، تزویراتی آگاہی اور ذاتی تحفظ کی مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا۔
یہ تقریب ایل جی یو کے ‘وومن ایمپاورمنٹ کلب’ اور ‘سسٹینیبل ڈیولپمنٹ گولز (SDG) ٹیم’ کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی، جس میں نظریاتی مفاہمت اور عملی مشقوں کا بہترین امتزاج پیش کیا گیا تاکہ ناگہانی صورتحال میں طالبات کے اعتماد اور تیاری کو تقویت مل سکے۔
تقریب کا آغاز ایس ڈی جی ٹیم کی اراکین شانزے اور غلام فضہ کے ابتدائی کلمات سے ہوا، جنہوں نے خواتین کی حفاظت، خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 5 (صنفی مساوات) کے حصول میں خود حفاظتی کی تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
لاہور گیریژن یونیورسٹی کے وائس چانسلر میجر جنرل (ریٹائرڈ) محمد خلیل ڈار، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے نوجوان خواتین کے لیے سیلف ڈیفنس کی تعلیم کو انتہائی اہم قرار دیا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایل جی یو اور پی ایم اے اے کے درمیان یہ طویل المدتی شراکت داری قائم رہے گی تاکہ یونیورسٹی کی سطح پر مارشل آرٹس اور خود حفاظتی کے باقاعدہ تربیتی پروگرامز کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔
تربیتی سیشن کی قیادت پی ایم اے اے کے چیف سنسئی انوار محی الدین نے کی، جبکہ سینئر انسٹرکٹرز چوہدری حنظلہ اور سمیہ محی الدین نے ان کا ساتھ دیا۔
ماہرینِ فن نے خود حفاظتی کے بنیادی پہلوؤں بشمول حالات کی آگاہی، خطرات کا اندازہ، دفاعی حکمتِ عملی اور جسمانی ردِعمل کی مؤثر تکنیکس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے دوران طالبات کو دفاعی نقل و حرکت، مکوں (Punches)، کہنی کے وار (Elbow Strikes)، حملے سے بچاؤ اور ممکنہ خطرات کو ناکام بنانے کے عملی طریقوں کی تربیت دی گئی۔
تاہم، انسٹرکٹرز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آگاہی، سیلف کانفیڈنس اور خطرے سے بچاؤ ہی خود حفاظتی کی بہترین صورتیں ہیں، جبکہ جسمانی دفاع کو صرف آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنسئی انوار محی الدین نے جسمانی دفاع کے سائنسی و فزیکل اصولوں کو بیان کرتے ہوئے کہا: "طاقت اور درد کا کوئی جینڈر نہیں ہوتا۔ ایک تند و تیز،
بر وقت اور درست نشانہ لگایا گیا مکا یا کہنی کا وار اپنے سے جسمانی طور پر انتہائی طاقتور حملہ آور کو بھی لمحات میں مفلوج کر سکتا ہے۔ کامیابی کا انحصار خود اعتمادی، تکنیک اور فوری فیصلہ سازی پر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی مقابلا ہمیشہ آخری راستہ ہونا چاہیے۔ "بہترین سیلف ڈیفنس وہ ہے جس میں تصادم کی نوبت ہی نہ آئے،” انہوں نے طالبات کو نصیحت کی کہ وہ جہاں تک ممکن ہو تنازعات سے بچنے اور معاملہ رفع دفع کرنے کو ترجیح دیں۔
انہوں نے یہ عزم بھی دہرایا کہ ان کی ایسوسی ایشن پاکستان کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے اور ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم اپنی باصلاحیت نوجوان خواتین کو حقیقی معنوں میں ’صنفِ آہن‘ میں ڈھالیں۔
اس موقع پر ‘وومن ایمپاورمنٹ کلب’ اور ‘SDG-5 انیشیٹو’ کی صدر رمیشہ شعیب کی مرتب کردہ ‘سیلف ڈیفنس ہینڈ بک’ بھی شرکاء میں تقسیم کی گئی۔ اس بُک لیٹ میں ذاتی تحفظ کی رہنمائی، سیلف ڈیفنس سے متعلق قانونی حقوق، ہنگامی رابطوں کے نمبرز اور روزمرہ کی حفاظتی تدابیر شامل ہیں۔
ورکشاپ کا اختتام ایل جی یو اور پی ایم اے اے کے اس اعادہ کے ساتھ ہوا کہ خواتین کو بااختیار، خود اعتماد اور محفوظ بنانے کے لیے مارشل آرٹس اور خود حفاظتی کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔



