ٹٰینس

پاکستان میں ٹینس کا سب سے بڑا ایونٹ، ٹرافی کی رونمائی

کپتانوں کا اجلاس، باضابطہ ڈرا کی تقریب اور ٹرافی کی رونمائی اسلام آباد میں منعقد

کپتانوں کا اجلاس، باضابطہ ڈرا کی تقریب اور ٹرافی کی رونمائی اسلام آباد میں منعقد

اسلام آباد ; بل جین کنگ کپ (BJKC) ایشیا/اوشیانا گروپ تھری (بی) 2026 کے سلسلے میں کپتانوں کا اجلاس، باضابطہ ڈرا کی تقریب اور ٹرافی کی رونمائی کل مووَن پک ہوٹل اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

یہ پاکستان کی ٹینس تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ ملک میں پہلی مرتبہ خواتین کی اس باوقار بین الاقوامی ٹیم ٹینس چیمپئن شپ کی میزبانی کی جا رہی ہے۔

تقریب میں آٹھ شریک ممالک بحرین، بھوٹان، ایران، اردن، کویت، مالدیپ، پاکستان اور قطر کے کپتانوں اور نمائندوں نے شرکت کی، جس کے ساتھ ہی مقابلوں کے لیے باقاعدہ طور پر تیاریاں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئیں۔

تقریب میں پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر جناب اعصام الحق قریشی، کویت ٹینس فیڈریشن کے صدر جناب عبدالرضا جے الغریب، پی ٹی ایف کے سیکرٹری جنرل کرنل ضیاء الدین طفیل (ریٹائرڈ)،

مووَن پک ہوٹل اسلام آباد کے جنرل منیجر جناب نکولس ورڈن، کوریا سے تعلق رکھنے والے ورلڈ ٹینس ریفری جناب جیمِن یو، اور پی ٹی ایف کے ڈائریکٹر کرنل گل رحمان نے شرکت کی۔ اس موقع پر پی ٹی ایف اور مووَن پک ہوٹل کی انتظامیہ کے نمائندے، 37ویں نارتھ کے اہلکار اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ٹینس فیڈریشن کے صدر جناب اعصام الحق قریشی نے تمام شریک ممالک، ٹیم کپتانوں، کھلاڑیوں، آفیشلز اور معزز مہمانوں کو اسلام آباد آمد پر خوش آمدید کہا۔

انہوں نے پاکستان کو پہلی مرتبہ بل جین کنگ کپ ایشیا/اوشیانا گروپ تھری مقابلوں کی میزبانی سونپنے پر ورلڈ ٹینس کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی خواتین کے ٹیم مقابلے کی میزبانی پاکستان کی بین الاقوامی ٹینس ایونٹس منعقد کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

یہ ایونٹ خواتین کی ٹینس کے فروغ اور پاکستانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کھلاڑیوں کے خلاف اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے قیمتی مواقع فراہم کرنے کے عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

بل جین کنگ کپ ایشیا/اوشیانا گروپ تھری (بی) 2026 کے مقابلوں کا آغاز آج، 21 اکتوبر 2026 کو پاکستان ٹینس فیڈریشن (پی ٹی ایف) ٹینس کمپلیکس، گارڈن ایونیو، اسلام آباد میں ہوگا، جہاں آٹھ ممالک کی ٹیمیں اس باوقار بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!