مضامین

کھیل، جنگ اور امن – آئی او سی کی نو منتخب صدر کرسٹی کووینٹری کے نام ایک کھلا خط

 کھیل، جنگ اور امن – آئی او سی کی نو منتخب صدر کرسٹی کووینٹری کے نام ایک کھلا خط

تحریر: کھیل دوست۔ شاہد الحق ; spofit@gmail.com

جب کرسٹی کووینٹری نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کی پہلی خاتون صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں تو دنیا کے کئی خطے آگ کی لپیٹ میں تھے۔

روس-یوکرین جنگ ہو یا غزہ میں اسرائیلی بمباری، ایران پر امریکی حملے ہوں یا جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی — دنیا آج امن سے زیادہ تنازع کا میدان بنی ہوئی ہے۔ بھوک افلاس اور بے روزگاری کے بجائے کچھ ممالک محلق ہتھیاروں سے لیس ھونے کو ترجیح دیتے ھیں اور دنیا کی ترقی کا رخ ظلم اور بربریت کی طرف گامزن ھے۔

ایسے میں IOC کا اصل کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف کھیلوں کے میگا ایونٹس کرانا کافی ہے، یا عالمی انصاف، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے بھی کوئی قدم اٹھانا ضروری ہے؟

اولمپک چارٹر کی شق نمبر 2 میں واضح ہے:
"اولمپزم کا مقصد انسانیت کی ہم آہنگ ترقی کے لیے کھیل کو امن کی بنیاد بنانا ہے۔”
مگر جنوبی ایشیا میں کھیل اب سفارتی جنگ کا نیا میدان بن چکا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور کھیل کو سیاسی ہتھیار بنانا جنگ سے کھیلوں کو قید کر نا اولمپیازم کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہی تو ھے۔

حال ہی میں بھارت کی جانب سے بھارت میں شیڈول جونیئر ہاکی ورلڈ کپ کا انعقاد اور اس کی معطلی اور پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے مسلسل اجتناب، کھیل کو سیاست کا ہتھیار بنانے کی بدترین مثالیں ہیں۔ اولمپک چارٹر کہتا ہے:

ایسے وقت میں، میری تجویز ہے کہ نئی صدر کرسٹی کووینٹری اپنی دیرینہ خدمات اور امن کی سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے "ڈریم پیس ایرینا” منصوبے کو زندہ کریں — وہی منصوبہ جو کئی سال پہلے پاکستان اور بھارت کے واہگہ بارڈر پر تجویز کیا گیا تھا تاکہ کھیلوں کے ذریعے سرحدی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

یہ کورٹ، صرف ایک علامتی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسا مقام ہے جہاں دونوں ملکوں کے نوجوان، کھلاڑی اور فنکار مل بیٹھ کر کھیل کے ذریعے بات کریں ،نہ کہ لڑیں۔

> "کھیل انسانی ترقی اور امن کے لیے ہے بغیر کسی تعصب و رنگ،نسل، زبان صرف برابری کی بنیاد پر سب کا بنیادی حق ھے”

لیکن افسوس کہ ان اصولوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور IOC خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
روس پر فوری پابندیاں، اسرائیل اور امریکہ کو استثنیٰ؟

یوکرین پر حملے کے بعد روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس پر سخت پابندیاں لگا دی گئیں، حتیٰ کہ پیرس 2024 میں ان کی شرکت صرف "غیر جانبدار حیثیت” میں ممکن ہوسکی۔

لیکن یہی اصول اسرائیل پر لاگو کیوں نہیں ہوتے؟ کیا غزہ میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کی شہادتیں کم جرم ہیں؟ کیا ایران پر امریکی بمباری کھیل کے امن کے فلسفے سے میل کھاتی ہے؟

کیا بھارت کی پاکستان پر سویلینز پر بمباری اور دو ایٹمی ممالک کے درمیان جاری جنگ بین الاقوامی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی نہیں اور دنیا کے امن و ترقی میں حائل نہیں؟

جب امریکی حکومت خود ایک فعال جنگ میں ملوث ہو اور دنیا بھر میں کشیدگی کو ہوا دے رہی ہو، تو کیا لاس اینجلس 2028 اولمپکس کی اخلاقی حیثیت قائم رہتی ہے؟

اگر روس کی ریاستی پالیسیوں کا بوجھ ان کے ایتھلیٹس اٹھا سکتے ہیں، تو پھر بھارت، اسرائیل اور امریکہ کو یہ چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے؟

IOC کا دوہرا معیار — ایک خاموش تضاد نہیں؟

یہ واضح ہو چکا ہے کہ IOC ایک عالمی اسپورٹس ادارہ ہوتے ہوئے بھی طاقتور ممالک کے سامنے سر جھکاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں نئی صدر کرسٹی کووینٹری کو تبدیلی لانی ہوگی۔ اگر وہ واقعی اولمپک اقدار کی پاسدار ہیں تو پھر انہیں مندرجہ ذیل اقدامات اٹھانے ہوں گے:

1. دوہرا معیار ختم کیا جائے: ہر ملک کے لیے ایک ہی پالیسی ہو، چاہے وہ بھارت، امریکہ ہو، روس یا اسرائیل۔

2. کھیل اور جنگ کا ناطہ ختم کیا جائے: کسی بھی ملک کی جارحیت کی صورت میں IOC غیر جانبدار پالیسی اپنائے، نہ کہ سیاسی مفادات کی محافظ بنے۔

3. "ڈریم پیس اولمپک ایرینا” کا قیام بھارت و پاکستان کے واہگہ/ اٹاری بارڈر پر ہو: تاکہ پاکستان اور بھارت کھیل کے ذریعے تعلقات بحال کریں اور دنیا کے سامنے امن کا پیغام دیں۔اور اولمپیازم کی بہترین مثال قائم ھو۔

4. لاس اینجلس اولمپکس کی شفافیت پر نظرثانی: ایک ایسا اولمپکس جو جنگ کے سائے میں ہو، اسے امن اور اتحاد کی علامت نہیں کہا جا سکتا۔

یہ ہی ایک خواب… جو صرف کرسٹی حقیقت بنا سکتی ہیں کیونکہ کھیلوں کے ذریعے امن و ترقی کی وہ ھمیشہ علمبردار رہی ھیں۔

کرسٹی کووینٹری کی قیادت میں اولمپک تحریک کو صرف کھیلوں کے مقابلے نہیں بلکہ امن کے مشن کے طور پر زندہ ہونا ہوگا۔ ان کا ذاتی کیریئر، ان کا افریقی پس منظر اور خواتین و بچوں کی بہبود سے وابستگی انہیں ایک نیا موقع دیتا ہے کہ وہ کھیل کو دنیا میں امن اور ہم آہنگی کی علامت کے طور پر بحال کریں۔

اولمپک تحریک صرف میڈلز اور کھیلوں کا نام نہیں، یہ انسانی اقدار، برابری، امن اور اُمید کا نام ہے۔ اگر IOC اس وقت بھی خاموش رہا، تو یہ تحریک صرف ایک عالمی طاقتوں کی امتیازی تنظیم بن کر رہ جائے گی۔ جو صرف سامراجیت کو فروغ دینے میں معاون کا کردار ادا کرتی ھو۔

کرسٹی کووینٹری، آپ سے گزارش ہے کہ آپ صرف IOC کی سربراہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کی امن دوست اور انصاف پسند برادری کی نمائندہ ہیں۔
کھیل کو جنگ سے بچائیں،
مساوات کو سیاست سے آزاد کریں،
اور اولمپزم کو اس کی اصل روح میں زندہ کریں۔

"آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں ایک دیوانہ ھوں اور صرف خواب دیکھتا ہوں، لیکن میں اکیلا نہیں ہوں…”

آخر میں، میں کرسٹی کووینٹری سے کہتا ہوں کہ وہ صرف خواب نہ دیکھیں، بلکہ ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دیں — کیونکہ آج دنیا کو کسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ "امن کے لیے کھیل” ہے،

خاص طور پر پاکستان اور بھارت جیسے خطے میں جہاں ہر گیند، ہر رن، ہر گول ایک نیا راستہ کھول سکتا ہے — جنگ سے نہیں، "کھیل سے جیتنے کا راستہ”۔ ڈریم پیس اولمپک ایرینا کا راستہ!

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!