
حسینہ واجد کی حمایت شکیب الحسن کو مہنگی پڑ گئی، بنگلہ دیش کے لیے کھیلنے پر پابندی عائد
سابق کپتان نے مفرور سابق وزیراعظم کے میڈیا پروگرام میں شرکت کیا کی، بنگلہ دیشی حکومت نے قومی ٹیم میں واپسی کے دروازے ہی بند کرنے کا اعلان کردیا۔
شکیب 2027 کا ورلڈ کپ کھیلنے کا خواب دیکھ رہے تھے، لیکن اب ان کی واپسی تقریباً ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کےمطابق بنگلہ دیش کے سابق اسٹار آل راؤنڈر شکیب الحسن کی قومی ٹیم میں واپسی کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگ گیا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے ساتھ بھارت میں ہونے والے میڈیا پروگرام میں بذریعہ فون شرکت کے بعد شکیب الحسن کے لیے دوبارہ قومی ٹیم میں کھیلنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
بنگلہ دیش حکومت نے سابق کپتان اور اسٹار کرکٹر شکیب الحسن کی قومی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات مسترد کر دیے ہیں۔ یاد رہے شکیب الحسن نے بدھ کے روز بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے ایک میڈیا پروگرام میں بذریعہ ٹیلی فون شرکت کی،
جہاں بنگلہ دیش کی معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے صحافیوں سے گفتگو کی تھی۔شکیب الحسن کی جانب سے اس پروگرام میں شرکت کے بعد بنگلہ دیش میں شدید ردِعمل سامنے آیا،
جس پر حکومت نے بھی سابق کرکٹر کے حوالے سے اپنا مؤقف سخت کر لیا ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر نوجوانان و کھیل امین الحق نے کہا کہ حکومت شکیب الحسن کے معاملے میں اب تک نسبتاً نرم، لچکدار اور برداشت کا مظاہرہ کر رہی تھی،
تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد اس رویے کو برقرار رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔امین الحق کا کہنا تھا کہ جو شخص آمر کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر کھڑا ہوچکا ہو، اس کے لیے اب قومی ٹیم میں واپسی کا کوئی موقع نہیں۔
39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 400 سے زائد بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں اور پانچ عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ شکیب الحسن سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ سے وابستہ رہے
اور رکنِ پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس کریک ڈاؤن سے متعلق قتل کے مقدمات میں شکیب سمیت سابق حکومت سے وابستہ متعدد افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب شکیب الحسن کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سیکیورٹی کی ضمانت فراہم کی جائے تو وہ بنگلہ دیش واپس آنے اور مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وہ اس امید کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ انہیں دوبارہ اپنے ملک کی نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے اور وہ 2027 کے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے لیے کھیلنا چاہتے ہیں۔
شکیب نے اس سے قبل ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ ایک مکمل سیریز کھیل کر اپنے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام کریں، تاہم موجودہ صورتحال میں ان کی یہ خواہش پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
رپورٹس کے مطابق شکیب اس وقت سری لنکا میں فرنچائز کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ان کے گھر پر پیٹرول بم حملے کی اطلاع بھی سامنے آ چکی ہے،
جس کے بعد ان کی سیکیورٹی اور بنگلہ دیش واپسی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔شکیب الحسن نے 2023 کے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی قیادت بھی کی تھی اور اب وہ 2027 کے ورلڈ کپ میں دوبارہ ملک کی نمائندگی کرنے کے خواہاں ہیں،
تاہم بنگلہ دیش حکومت کے تازہ بیان کے بعد ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات انتہائی غیر یقینی ہوگئے ہیں۔
بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہونے والے شکیب الحسن کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ دوبارہ قومی ٹیم کی جرسی پہن سکیں گے یا سیاسی تنازع ان کے بین الاقوامی کیریئر کا مستقل اختتام ثابت ہوگا۔



