
کیا اب ٹیم میں بابر، شاہین اور رضوان کی واپسی مشکل ہے؟
ویب ڈیسک ; سابق کپتان بابر، شاہین اور رضوان کی واپسی مشکل ہے یا کوئی راستہ باقی ہے؟ اس حوالے سے سابق کرکٹر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر اور تجزیہ کار عتیق الزمان نے حالیہ انٹرویو میں پاکستانی کرکٹ کے چند اہم اور حساس معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے بعد بنگلا دیش کے خلاف کھیلی جانے والی ٹی 20 سیریز میں جن نوجوان کھلاڑیوں کو آزمایا گیا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی جیسے سینئر کھلاڑیوں کے لیے قومی ٹی 20 اسکواڈ میں واپسی کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
ان کے اس بیان نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیوں کہ یہ تینوں کھلاڑی پاکستان کے حالیہ برسوں میں سب سے نمایاں اور مقبول ترین چہروں میں شامل رہے ہیں۔
عتیق الزمان نے سب سے زیادہ حیرانی محمد رضوان کے معاملے پر ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا کھلاڑی جس نے طویل عرصے تک قومی ٹیم کے لیے وکٹ کیپنگ کے فرائض انجام دیے، مسلسل پرفارم کیا اور جسے ابھی حال ہی میں وائٹ بال فارمیٹس میں کپتان بھی مقرر کیا گیا تھا، اسے اچانک ٹیم سے باہر کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
عتیق الزمان کا کہنا تھا کہ شاید سلیکٹرز کے ذہن میں کچھ اور پلان ہو، لیکن عوام اور ماہرین کرکٹ کے لیے یہ فیصلہ غیر واضح اور غیر منطقی دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے ایک طنزیہ تبصرہ بھی کیا کہ ہمارے ہاں ایک روایت بن چکی ہے کہ اگر کسی کھلاڑی کو ٹیم سے نکالنا ہو تو اس کے سر پر پہلے قیادت کا تاج رکھ دیا جاتا ہے۔ گویا قیادت ایک انعام کے بجائے سزا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
اس تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، خاص طور پر ان فیصلوں سے جو بظاہر کسی منصوبہ بندی یا تسلسل سے محروم نظر آتے ہیں۔



