ریسلینگمضامین

بچپن کی بزدلی سے عالمی دلیری تک جان سینا ۔ کامیابی کے سفر کی غیر معمولی داستان

رپورٹ ; عمران یوسفزئی

بچپن کی بزدلی سے عالمی دلیری تک

جان سینا ۔ کامیابی کے سفر کی غیر معمولی داستان

رپورٹ ; عمران یوسفزئی

یہ کہانی ہے ایک چھوٹے سے لڑکے کی جس نے بہت بڑے خواب دیکھے اور نہ صرف دیکھے بلکہ انہیں پورا کرنے کے لئے اپنی جان لڑا دی اور دوستو! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اللہ کسی کی بھی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا۔

23 اپریل 1977 کو امریکی ریاست میساچوسٹس میں پیدا ہونے والا جان فیلیکس بچپن میں بہت کمزور اور کسی حد تک ڈرپوک بھی تھا، پہلے چھوٹی عمر میں محلے میں اور پھر سکول جانا شروع کیا

تو وہاں بھی بڑے اور صحت مند بچوں سے پٹنا اس کی روٹین میں شامل تھا، 12 سال کی عمر تک اس کے ساتھ یہی سب ہوتا رہا اور پھر ایک دن یوں ہوا کہ اس نے اپنے اندر کے خوف کو شکست دیدی

اور اپنے سے بڑی عمر کے بچے کو پیٹ ڈالا اور یہی اس کی زندگی کا سب بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھا، اس سال کرسمس پر جان فیلیکس نے اپنے والد سے کھلونوں کی بجائے ویٹ لفٹنگ بینچ کی فرمائش کر ڈالی اور پھر ہائی سکول ختم ہونے تک وہ کمزور سا بچہ ایک شاندار اور مضبوط باڈی بلڈر بن چکا تھا۔

لیکن کون جانتا تھا کہ بچوں کی مار پیٹ سے تنگ آ کر باڈی بلڈنگ شروع کرنے والا جان فیلیکس چند ہی سالوں میں مشہور زمانہ ریسلر جان سینا بنے گا وہ جان سینا جو 20 سال میں 17 مرتبہ عالمی چیمپئن بنا۔

لیکن اس عالمی ریکارڈ تک پہنچنے کا راستہ بھی کافی کٹھن ثابت ہوا اس لئے کہ کامیابی ہمیشہ قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے اور اپنی منزل تک بھی وہیں پہنچ پاتے ہیں جو راستے کی مشکلات اور تکالیف کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

جان سینا ہائی سکول کے بعد باڈی بلڈنگ کے کھیل کو پروفیشن بنانے کی غرض سے کیلیفورنیا آ گئے جہاں وینس بیچ میں انہیں ایک جم میں ملازمت ملی یہاں انہوں نے نہ صرف تولئے تہہ کرنے بلکہ ٹوائلٹ صاف کرنے کا کام بھی کیا،

معاشی تنگی کا یہ حال تھا کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی فلیٹ یا مکان کرائے پر نہیں لے سکتے تھے یہ بات بھی آپ کے لئے حیرت کا باعث ہوگی کہ جان سینا کو کئی سال اپنی 91 ماڈل کی گاڑی کی بیک سیٹ پر سونا پڑا۔

کچھ عرصے میں انہیں اندازہ ہو گیا کہ باڈی بلڈنگ ان کی منزل کا ایک راستہ ضرور ہے لیکن منزل نہیں ہے چنانچہ 1999 میں جان سینا نے باقاعدہ طور پر ریسلنگ کے میدان میں قدم رکھا اور اس کھیل کی تربیت لینا شروع کی،

یہ وہ دور تھا جب "دی راک”، "دی انڈر ٹیکر” اور "سٹون کولڈ” جیسے مایہ ناز ریسلرز اس کھیل کی جان ہوا کرتے تھے۔ چھوٹی موٹی ریسلنگ کے مقابلوں میں جان سینا نے حصہ لینا اور جیتنا شروع کیا لیکن ابھی تک اس ہیرے پر کسی جوہری کی نظر نہیں پڑی تھی۔ 200

1 میں جان سینا نے ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن (ڈبلیو ڈبلیو ایف) جو بعد میں ڈبلیو ڈبلیو ای میں تبدیل ہو گئی، کے ساتھ وابستگی اختیار کی۔ یہ 27 جون 2002 کا دن تھا جب سمیک ڈاؤن کے مقابلے جاری تھے اپنے وقت کے معروف ریسلر اور اولمپک گولڈ میڈلسٹ کرٹ اینگل اپنے کئی حریفوں کو پچھاڑنے کے بعد رنگ میں کھڑے ہو کر کسی اور حریف کو للکار رہے تھے

ایسے میں ایک نوجوان بھاگتے ہوئے آیا اور رنگ کی رسی کے نیچے سے پھسلتا ہوا کرٹ اینگل کے سامنے جا کھڑا ہوا، یہ جان سینا تھا۔ کرٹ اینگل نے حیرت سے اس نوجوان کو دیکھا اور پوچھا کہ تم میں ایسی کیا

خاص بات ہے جو تمہیں اس رنگ میں کھینچ لائی، اس وقت جان سینا نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا۔ "روتھ لیس ایگریشن” (بے رحمانہ جارحیت) اور اگلے ہی لمحے کرٹ اینگل کو تھپڑ رسید کر دیا۔

ریسلنگ ایرینا میں ایک سناٹا چھا گیا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ رنگ میں گھسنے والا نوجوان ایسا بھی کر سکتا ہے، اس کے بعد مقابلہ شروع ہوا اور گو کہ اس میچ میں جان سینا کو شکست ہوئی تھی

لیکن رنگ میں گھس کر کرٹ اینگل جیسے ریسلر کو للکارنے کی ہمت نے جان سینا کے لئے کامیابی کے راستے کھول دیئے تھے۔ اس کے بعد اگلے بیس سال میں جان سینا نے 17 مرتبہ عالمی چیمپئن کی بیلٹ اٹھائی جو اس کھیل کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

وہ 2003 سے 2025 تک ڈبلیو ڈبلیو ای کے سب سے زیادہ مشہور اور پسند کئے جانے والے کردار رہے۔ انہوں نے ریسلنگ کے تیس سے زائد عالمی ٹائٹل جیتے جن میں ریکارڈ 14 مرتبہ ڈبلیو ڈبلیو ای چیمپیئن شپ سمیت 3 مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ، 4 مرتبہ ڈبلیو ڈبلیو ای یونائیٹڈ سٹیٹس چیمپیئن شپ، ایک مرتبہ ڈبلیو ڈبلیو ای انٹرنیشنل چیمپئن شپ، دو مرتبہ ورلڈ ٹیگ ٹیم چیمپیئن شپ اور ریسلنگ کے کئی دیگر عالمی مقابلے شامل ہیں۔

جان سینا 35 ویں ٹرپل کراؤن اور 25 ویں گرینڈ سلیم چیمپیئن بھی رہے ہیں۔ جان سینا نے 2006 میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور کامیڈی و ایکشن دونوں طرح کی فلموں میں کردار ادا کئے، ریسلنگ کی طرح یہاں بھی کامیابی نے ان کے قدم چومے اور وہ بڑی سکرین کے بڑے اداکاروں میں شمار ہونے لگے،

ان کی مشہور فلموں میں "دی میرین”، "ٹرین وریک”، "بلاکرز”، "بمبل بی”، "دی سوسائیڈ سکواڈ” اور مشہور زمانہ فاسٹ اینڈ فیوریس سیریز کی فلم "ایف 9” بھی شامل ہے۔ جان سینا نے 2022 سے 2025 تک سپر ہیرو کی سیریز پیس میکر میں بھی مرکزی کردار ادا کئے۔

بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ ان کی زندگی کے قدرے پوشیدہ لیکن بہت ہی شاندار دو اور پہلو بھی ہیں، اپنی جوانی اور کیریئر کے ابتدا میں باڈی بلڈنگ کے ساتھ ساتھ انہیں گلوکاری کا بھی شوق تھا اور وہ ایک بہترین ریپر (Rapper) بھی رہے ہیں، اس شوق کو بھی انہوں نے فراموش نہیں کیا

اور 2005 میں اپنا ایک ریپ البم "یو کانٹ سی می” ریلیز کیا جس نے خوب دھوم مچائی اور 200 بل بورڈز میں یہ البم 15 ویں پوزیشن پر رہی۔ اس کے علاوہ جان سینا کی زندگی کا ایک اور خوبصورت پہلو ان کی خدا ترسی اور مخلوق سے محبت بھی ہے،

انہوں نے "میک آ وش” (Make a Wish) فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے 650 سے زائد خواہشات پوری کی ہیں جو اس فاؤنڈیشن سے وابستہ افراد میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ فاؤنڈیشن کینسر کے ایسے مریض بچوں کی ایک ایسی خواہش پوری کرتی ہے جو کینسر کی آخری اسٹیج پر ہوں،

ایسے میں وہ جس چیز یا جس بھی شخصیت سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں یہ فاؤنڈیشن اسے پورا کرتی ہے۔ جان سینا نے اپنے پروفیشنل کیریئر کی آخری فائیٹ 13 دسمبر 2025 کو لڑی اور ڈبلیو ڈبلیو ای  کے 17 بار کے عالمی چیمپئن جان سینا کے شاندار کیریئر کا اختتام ہفتے کی رات واشنگٹن کے کیپٹل ون ایرینا میں  گنتھر کے ہاتھوں شکست سے ہوا۔

سینا نے تین ایٹی ٹیوڈ ایڈجسٹمنٹس دیے، جن میں ایک ڈرامائی ٹاپ-روپ موو بھی شامل تھی تاہم تمام کوششوں کے باوجود وہ فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ آخرکار  گنتھر نے سینا کو سلیپر ہولڈ میں جکڑ کے شکست دے دی۔

میچ کے دوران خصوصی تقریب میں کئی مشہور شخصیات اور ریسلنگ کے لیجنڈز بھی موجود تھے جن میں کرٹ اینگل، راب وان ڈیم، ٹرش سٹریٹس اور ایو ٹورس شامل تھے۔ میچ کے بعد جذباتی مناظر دیکھے گئے جب نم آلود آنکھوں کے ساتھ جان سینا نے شائقین سے مخاطب ہو کر کہا: ’یہ سب کچھ ہی میرے پاس تھا۔‘

(This was all I have) اس کے بعد دیگر ریسلرز نے رینگ میں آ کر سینا کے کندھوں پر چیمپئن شپ بیلٹ رکھے جس میں سی ایم پنک اور کوڈی روڈز بھی شامل تھے.

شائقین نے ’تھنک یو سینا‘ کے نعرے لگائے اور سینا نے ٹرپل ایچ سے گلے مل کر آخری ویڈیو ٹریبیوٹ دیکھا اور یوں ایک شاندار ریسلر، ایک بہترین اداکار، ایک زبردست ریپر اور ایک نرم دل انسان کا خوبصورت کیریئر اپنے اختتام کو پہنچا، بلاشبہ ان تمام شعبوں میں جان سینا کو دیر تک یاد رکھا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!