
کرکٹ کے ناقابل شکست ریکارڈز جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتے
کرکٹ میں ریکارڈ بننا اور ٹوٹنا معمول کی بات ہے، مگر کچھ ریکارڈ ایسے ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتے۔
بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں ریکارڈز بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، لیکن ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چند ایسے انمول ریکارڈز ہیں جو ناقابل شکست ہیں۔
سب سے عمر رسیدہ کپتان:
انگلینڈ کے ولیم جی گریس 50 سال اور 138 دن کی عمر میں 1899 میں آسٹریلیا کے خلاف کپتانی کرنے والے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی ہیں۔
سب سے معمر کرکٹر کا ڈیبیو:
انگلینڈ کے جیمز ساؤتھٹرن نے 49 سال اور 119 دن کی عمر میں 1899 میں آسٹریلیا کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کا آغاز کیا، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔
سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی کی پہلی ٹیسٹ سنچری:
جنوبی افریقہ کے ڈیو نورس نے 42 سال کی عمر میں پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 1921 میں جوہانسبرگ میں آسٹریلیا کے خلاف 111 رنز بنائے۔
سب سے زیادہ عمر میں سنچری بنانے کا ریکارڈ:
انگلینڈ کے جیک ہوبز نے 46 سال کی عمر میں ٹیسٹ سنچری بنائی، جو آج کے دور میں ایک تقریباً ناممکن کارنامہ ہے۔
سب سے زیادہ فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کا ریکارڈ:
ولفریڈ رہوڈز نے 1,110 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور 39,969 رنز بنائے۔ وہ انگلینڈ کے لیے صرف 58 ٹیسٹ میچز کھیل سکے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ:
ولیم جی گریس نے 870 فرسٹ کلاس میچز کھیلے اور 54,211 رنز بنائے، جو کہ ایک ناقابل یقین ریکارڈ ہے۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ:
ولفریڈ رہوڈز نے 4,204 وکٹیں لے کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ قائم کیا، اور ابھی تک کوئی بولر 4,000 وکٹوں کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔
یہ ریکارڈز کرکٹ کی تاریخ میں ایسے سنگ میل ہیں جو شاید کبھی نہ ٹوٹیں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے دور میں شائقین کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا اور ان کی کامیابیاں کرکٹ کی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔



