ہاکی

مدارس کے طلباء اور ہاکی: حقارت یا موقع کی کمی؟

مدارس کے طلباء اور ہاکی: حقارت یا موقع کی کمی؟

مسرت اللہ جان

ذاتی طور پر میں کسی بھی کھیل کی سیاست میں نہیں پڑتا، اور ہر فرد کے کمنٹس کرنے کا حق تسلیم کرتا ہوں، مگر یہ انتہائی افسوسناک ہے جب کوئی خاص طبقے کو مورد الزام ٹھہراتا ہے یا ان کے کردار کو چھوٹا سمجھتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ہاکی کے حوالے سے ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آیا جب ایک صاحب نے ایک مبینہ کمنٹ میں مدرسے کے طلبا کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ ان کا اشارہ یہ تھا کہ مدارس کے طلبا ہاکی کھیلنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ خیال نہ صرف تعصبی ہے بلکہ حقیقت کے منافی بھی ہے۔

پاکستان میں ہاکی کی تاریخ میں کئی ایسے کھلاڑی سامنے آئے ہیں جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود ملک کا نام روشن کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدارس کے طلبا کیوں اس فہرست میں شامل نہیں ہوتے؟ اس کا جواب نہ صرف مواقع کی کمی بلکہ کھیلوں کے نظام میں چھپی منافقت میں بھی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں پشاور یونیورسٹی کے طلبائ کی واک دکھائی گئی۔ اس طرح کے مواقع میڈیا میں اکثر دکھائی دیتے ہیں، لیکن مدارس کے طلبا کی ایسی کامیابیاں کبھی منظر عام پر نہیں آتیں۔

یہ ایک طویل عرصے سے چلنے والا رویہ ہے: مدارس کے طلبا کو کھیلوں میں مواقع نہیں ملتے، یا اگر کبھی کوئی مقابلہ منعقد ہوتا ہے تو وہ عارضی نوعیت کا ہوتا ہے اور مستقل سطح پر ان کے لیے سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔

ضم اضلاع کے سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے حوالے سے بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ کبھی کبھار مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور بہترین کھلاڑی سامنے آتے ہیں، مگر ان کے لیے مستقل میدان یا ترقی کے مواقع موجود نہیں۔

مدارس کے طلبا کو نہ صرف مواقع کی کمی کا سامنا ہے بلکہ بعض اوقات انہیں کھیلوں کی دنیا میں داخل ہونے پر حقارت بھری نگاہوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو محض تعصب یا ذاتی رائے سے بڑھ کر ہے؛ یہ نظامی کمی ہے جو اس طبقے کے نوجوانوں کو محدود کرتی ہے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مدارس کے طلبا تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں میں بھی شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ پاکستان کی سطح پر کئی ایسے مقابلے ہیں جہاں مدارس کے کھلاڑیوں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی۔

مثال کے طور پر، شمالی اور جنوبی پنجاب کے چند مدارس کے طلبا نے صوبائی ہاکی ٹورنامنٹس میں بہترین کھلاڑی کا خطاب جیتا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بھی کچھ مدارس کے طلبا نے قومی سطح پر نوجوان ہاکی ٹورنامنٹس میں حصہ لیا اور نمایاں کارکردگی دکھائی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ مدارس کے طلبا صلاحیت کے لحاظ سے کسی بھی عام سکول یا یونیورسٹی کے طلبا سے کم نہیں ہیں۔

مسئلہ صرف کارکردگی کا نہیں، بلکہ مواقع اور نظام میں چھپی منافقت کا ہے۔ کچھ لوگ کھیلوں میں ذاتی یا سیاسی مفادات کے تحت مخصوص طبقوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ مدارس کے طلبا کو اکثر صرف مذہبی تعلیم کے لیے جانا جاتا ہے،

جبکہ حقیقت میں وہ کھیلوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ انہیں مستقل اور منصفانہ مواقع نہ دینا نہ صرف ان کے حق پر ڈاکہ ہے بلکہ پورے ملک کے کھیلوں کے نظام کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مدارس کے طلبا اپنے نصاب کی وجہ سے زیادہ وقت کھیلوں میں صرف نہیں کر پاتے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو قرآن کی تعلیم اور دینی علوم کے لیے وقت مختص کرتے ہیں۔

اس کے باوجود، جب انہیں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، تو وہ اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے چند مدارس کے طلباءنے صوبائی اسکول ہاکی ٹورنامنٹس میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی، اور ان کی ٹیموں نے مختلف مقابلوں میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔

مزید یہ کہ مدارس کے طلبا کا کھیلوں میں نہ آنا صرف ان کی انتخابی ترجیح نہیں ہے، بلکہ نظام کی ناکامی بھی ہے۔ کچھ لوگ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جہاں وہ رسمی طور پر کھیلوں کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں لیکن مدارس کے طلبا کو حقیقی مواقع فراہم نہیں کرتے۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ نوجوان، جو صلاحیت کے لحاظ سے کسی بھی میدان میں مقابلہ کر سکتے ہیں، اپنے خوابوں سے دور رہ جاتے ہیں۔

یہاں یہ بھی ذکر ضروری ہے کہ کھیلوں میں مدارس کے طلبا کی شمولیت نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کے لیے مفید ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات ہیں۔

جب ایک مذہبی پس منظر کے نوجوان کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں اور نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں، تو یہ معاشرتی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ یہ نظریہ کہ مدارس کے طلبا کھیل نہیں کھیل سکتے، محض ایک تعصب ہے اور حقیقت کے منافی ہے۔

پاکستان میں ہاکی جیسے کھیل کی تاریخ میں مدارس کے طلبا کی شمولیت بڑھانے کے لیے چند اقدامات کیے جا سکتے ہیں: ضم اضلاع اور صوبائی سطح پر مدارس کے طلبا کے لیے مستقل کھیلوں کے ٹورنامنٹس کا انعقاد۔

مدارس کے طلباءکے لیے کوچنگ اور سہولتیں فراہم کرنا تاکہ وہ اپنی صلاحیت کا بھرپور استعمال کر سکیں۔ میڈیا میں مدارس کے کھلاڑیوں کی کامیابیاں اجاگر کرنا تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو اور تعصب کم ہو۔ تعلیمی اور کھیلوں کے نظام میں اصلاحات تاکہ مدارس کے طلبا کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔

آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ مدارس کے طلباء کی صلاحیتیں کم نہیں ہیں، بلکہ نظام میں موجود رکاوٹیں اور معاشرتی تعصب انہیں محدود کر دیتے ہیں۔

ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے تعصبات کو پیچھے چھوڑیں اور نوجوانوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق مواقع فراہم کریں۔ ہاکی یا کسی بھی کھیل میں مدارس کے طلباء کو شامل کرنا نہ صرف انصاف ہے بلکہ پاکستان کے کھیلوں کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم تعصب، منافقت اور مواقع کی کمی کے اس چکر کو ختم کریں اور ہر نوجوان کو برابر کا موقع دیں، چاہے وہ کسی بھی تعلیمی یا مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔

مدارس کے طلباء، جنہوں نے کئی قومی اور صوبائی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیت دکھائی ہے، وہ اس ملک کے کھیلوں کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہمیں انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ مواقع فراہم کر کے ان کی صلاحیت کو نکھارنا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!