مضامین

خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز: کھیل، نظم و ضبط اور شمولیت کا نیا باب

خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز: کھیل، نظم و ضبط اور شمولیت کا نیا باب

مسرت اللہ جان

خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے فروغ کی ایک سنجیدہ اور منظم کوشش کے طور پر انڈر 21 گیمز کا آغاز پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں ایک شاندار، رنگا رنگ اور بامقصد افتتاحی تقریب سے ہوا۔

یہ تقریب صرف ایک رسمی آغاز نہیں تھی بلکہ اس میں صوبے کی اسپورٹس پالیسی، انتظامی بہتری، کھلاڑیوں کی عزت اور شمولیتی سوچ واضح طور پر نظر آئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میگا ایونٹ کا باضابطہ افتتاح کیا، جبکہ صوبے بھر سے آئے ہزاروں کھلاڑیوں نے مارچ پاسٹ اور کھیلوں کے جذبے سے تقریب کو یادگار بنا دیا۔

افتتاحی تقریب میں صوبے کے مختلف اضلاع اور ریجنز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے منظم انداز میں مارچ پاسٹ پیش کیا۔ اس موقع پر ایک نمایاں اور تاریخی قدم یہ اٹھایا گیا

کہ پہلی مرتبہ سپیشل افراد کے دستے کو سب سے آگے رکھا گیا۔ نہ صرف انہیں ٹاپ پر رکھا گیا بلکہ صوبائی جھنڈا بھی سپیشل کھلاڑیوں نے اٹھا کر میدان میں داخل کیا۔

اس عمل نے واضح پیغام دیا کہ صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ سپیشل کھلاڑیوں کو محض رسمی شمولیت نہیں بلکہ عملی اہمیت دے رہی ہے۔ اس کے بعد خواتین کھلاڑیوں کے دستے میدان میں آئے اور پھر مرد کھلاڑیوں کے الگ الگ دستے شامل ہوئے، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی

تقریب میں چترالی اور ایف سی مروت کے روایتی رقص نے سماں باندھ دیا۔ ثقافتی پرفارمنس کے دوران اسٹیڈیم میں موجود کھلاڑیوں، تماشائیوں اور میڈیا نمائندگان کی بڑی تعداد نے موبائل فونز کے ذریعے ویڈیوز بنائیں۔

یہ مناظر اس بات کی عکاسی کر رہے تھے کہ کھیل صرف مقابلہ نہیں بلکہ ثقافت، شناخت اور اجتماعی خوشی کا اظہار بھی ہے۔ اس تقریب کو معیار کے لحاظ سے اب تک کی بہترین تقریبات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کھلاڑیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات ہیں۔

پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ تمام کھلاڑی نئے اور سائز کے مطابق شوز پہن کر افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ مرد اور خواتین کھلاڑیوں کے لیے الگ الگ شوز فراہم کیے گئے، جبکہ خواتین کے شوز کا ڈیزائن بھی مختلف اور موزوں تھا۔

ماضی میں اکثر کھلاڑیوں کو بڑے یا چھوٹے شوز ملتے تھے اور کئی بار وہ پرانے شوز پہن کر تقریب میں آتے تھے، مگر اس بار یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نظر آیا۔ اسی طرح کھلاڑیوں کو ملنے والے کٹس کو بھی خوبصورت اور معیاری ڈیزائن کا قرار دیا گیا، جس پر کھلاڑیوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔

انڈر 21 گیمز کے انتظامی پہلوؤں میں اس بار واضح بہتری دکھائی دی۔ اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے آپریشن ونگ نے کھلاڑیوں کی سہولت کے لیے ڈیلی کی ادائیگی کا نیا اور منظم نظام متعارف کرایا۔

پہلی مرتبہ ہر ریجن کے لیے الگ الگ ڈیسک قائم کیے گئے، جہاں متعلقہ حکام بیٹھ کر براہ راست کھلاڑیوں کو ادائیگی کر رہے تھے۔ تین فروری تک یہ ڈیسک مسلسل فعال رہے تاکہ کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ رہے۔

چار فروری کو بھی آپریشن ونگ کھلاڑیوں کی ڈیلی دینے میں مصروف رہا۔ ماضی میں جہاں ایک یا دو ڈیسک ہوا کرتے تھے، اس بار ہر ریجن کے الگ ڈیسک نے نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا۔

اس کے باوجود کچھ مسائل بھی سامنے آئے۔ بعض ریجنز، جن میں کوہاٹ ریجن سرفہرست ہے، کی ٹیمیں رات گئے پشاور پہنچیں اور براہ راست ہوٹل چلی گئیں،

جس کے باعث وہ بروقت ڈیلی وصول نہ کر سکیں۔ آپریشن ونگ کے حکام دیر رات تک ان کے انتظار میں موجود رہے، مگر کھلاڑی نہ پہنچ سکے۔ بعد ازاں افتتاحی تقریب سے قبل اور بعد میں بھی بڑی تعداد میں ٹیمیں ڈیلی لینے کے لیے آئیں، جنہیں ادائیگی جاری رکھی گئی۔

رہائش کے انتظامات کے حوالے سے بھی انتظامیہ کو ایک غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف ریجنز سے آنے والے کئی کھلاڑی اپنے ساتھ اضافی افراد، جن میں دوست اور دیگر غیر متعلقہ افراد شامل تھے،

لے کر ہوٹلوں میں پہنچے۔ ذرائع کے مطابق کم و بیش تین سو سے زائد اضافی افراد مختلف ہوٹلوں میں آئے، وہ بھی رات گئے۔ اس صورتحال میں فوری طور پر انتظام کرنا آسان نہیں تھا، تاہم ہوٹل انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے باہمی تعاون سے ان افراد کو بہتر انداز میں ایڈجسٹ کیا اور کھلاڑیوں کو کسی بڑی پریشانی سے بچا لیا۔

افتتاحی تقریب کے دوران کچھ انتظامی اور رویوں سے متعلق نکات بھی زیر بحث آئے۔ بعض ریجنز کے ریجنل اسپورٹس آفیسرز اپنے دستوں کے ساتھ مارچ پاسٹ میں نظر نہیں آئے، جس پر سوالات اٹھے۔

اس کے برعکس چند آر ایس اوز ایسے بھی دکھائی دیے جو خواتین کھلاڑیوں کے دستے کے ساتھ بھی چلتے رہے اور بعد ازاں مردوں کے دستے کے ساتھ بھی شامل ہو گئے، جسے کئی حلقوں نے غیر ضروری خودنمائی قرار دیا۔

تقریب کے دوران کھلاڑیوں کے ایک گروپ کی جانب سے قیدی نمبر 804 کے حوالے سے نعرے بھی لگائے گئے۔ یہ نعرے اس قدر واضح تھے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی انہیں سنا اور ردعمل کے طور پر انگوٹھا دکھایا، جسے اسٹیڈیم میں موجود افراد نے نوٹ کیا۔ یہ لمحہ بھی سوشل اور سیاسی گفتگو کا حصہ بنتا رہا۔

سیکیورٹی کے حوالے سے تقریب میں سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔ پشاور اسپورٹس کمپلیکس میں ٹارٹن ٹریک بنانے والی کمپنی کے ماہرین، جو تقریباً ایک ارب روپے کی ری نویشن کے منصوبے کے سلسلے میں پشاور آئے تھے،

افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک گفٹ دینا چاہتے تھے، مگر سیکیورٹی حکام نے اس کی اجازت نہیں دی۔ البتہ ماہرین کی خواہش پر انہیں سٹیج تک آنے دیا گیا،

تاہم وزیراعلیٰ اور ماہرین کے درمیان واضح فاصلہ رکھا گیا۔ اسی تقریب کی کوریج کے دوران دو ڈرونز استعمال کیے جا رہے تھے، جن میں سے ایک ڈرون کو سیکیورٹی حکام نے گرا دیا، حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے پیشگی اطلاع اور ڈرون کا سیریل نمبر بھی شیئر کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی اداروں نے کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کے وژن کے مطابق صوبے میں کھیلوں کے فروغ، اسپورٹس انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں سال پاکستان سپر لیگ کے میچز پشاور میں منعقد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کی طرح دیگر کھیلوں میں بھی خیبرپختونخوا کے کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ جوش و جذبے کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لیں، حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔

مشیر کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپورٹس خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام انڈر 21 گیمز میں صوبے کے سات ریجنز اور چھتیس اضلاع سے پانچ ہزار سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی شریک ہیں۔

ان کے مطابق مردوں کے لیے 38 جبکہ خواتین کے لیے 18 مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ مردوں کے مقابلے پشاور، حیات آباد، کوہاٹ اور مردان اسپورٹس کمپلیکسز میں ہوں گے،

جبکہ خواتین کے مقابلے چارسدہ، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، پشاور بورڈ گراؤنڈ اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔

مجموعی طور پر خیبرپختونخوا انڈر 21 گیمز کا آغاز نہ صرف شاندار رہا بلکہ اس میں انتظامی بہتری، کھلاڑیوں کی عزت، سپیشل افراد کی شمولیت اور سہولیات کے نئے معیار کی جھلک بھی نظر آئی۔

اگرچہ کچھ انتظامی خامیاں اور نظم و ضبط کے مسائل سامنے آئے، مگر مجموعی تاثر مثبت رہا۔ یہ گیمز صوبے میں کھیلوں کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ اسی جذبے اور سنجیدگی کے ساتھ انہیں آگے بڑھایا جائے

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!