
بھارت نے پھر کرکٹ سے زیادہ سیاست کو اہمیت دے دی!
بھارتی ویمنز ٹیم ایشیا کپ کی چیمپئن تو بن گئی، لیکن دبئی اسٹیڈیم سے ٹرافی کے بغیر ہی واپس لوٹ گئی، جبکہ محسن نقوی ایشیا کپ کی ٹرافی اپنے ساتھ لے کر اسٹیڈیم سے روانہ ہوگئے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر بھارت کو اس خوبصورت کھیل میں سیاست کو اتنا شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
محسن نقوی وہاں پاکستان یا پی سی بی کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے صدر کی حیثیت سے موجود تھے۔ ایسے میں بھارتی ٹیم کو ان سے ٹرافی وصول کرنی چاہیے تھی، کیونکہ وہ اس موقع پر پورے ایشین کرکٹ کونسل کی نمائندگی کر رہے تھے۔
اگر بھارت نے سیاسی اختلافات کو ہی ترجیح دینی تھی تو پھر کرکٹ کے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کا فیصلہ ہی نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایک ہی سال میں دوسری مرتبہ ایسا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں کرکٹ کی کامیابی سے زیادہ سیاسی تنازع نمایاں ہوگیا۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی ٹیم کو محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کی ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
اگر یہ بات درست ہے تو یہ فیصلہ صرف محسن نقوی کو نہیں بلکہ کرکٹ کی روح اور اس خوبصورت کھیل کے جذبے کو متاثر کرتا ہے۔ اور محسن نقوی؟ ان کا تو کچھ نہیں گیا!
وہ تو ٹرافی لے کر خوشی خوشی واپس چلے گئے۔ ان کا مؤقف بھی سادہ ہے: وننگ ٹرافی چاہیے تو لے لو، میں ابھی دے دیتا ہوں! کرکٹ کو سیاست سے دور رکھنا ہی اس کھیل اور اس کے کروڑوں شائقین کے حق میں بہتر ہے۔
ذرائع ایشین کرکٹ کونسل کے مطابق ٹرافی دینے کا پروٹوکول مکمل طور پر طے تھا، ٹرافی فاتح بھارتی ٹیم کو دینے کے لیے دستیاب تھی اور بھارتی ٹیم نے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ خود کیا۔
ذرائع ایشین کرکٹ کونسل کے مطابق ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، محسن نقوی اپنے مؤقف سے پہلے بھی ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے اور آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سےقبل بھارتی مینز ٹیم نے بھی محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیاتھا
واضح رہے کہ بھارتی ٹیم ریکارڈ 8ویں بار ویمنز ایشیا کپ کی چیمپئن بنی ہے اور فائنل میں بھارت نے دفاعی چیمپئن سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دی۔ سری لنکن ٹیم 184 رنز کے تعاقب میں 111 رنز پر ڈھیر ہوئی، جس میں کپتان چماری 36 اور نیلکشیکا 22 رنز بنا سکیں۔



