یونیورسٹی گیمز اسکینڈل — پاکستان سپورٹس بورڈ کمیٹی کے انکشافات۔
تحریر: کھیل دوست، شاہدالحق

یونیورسٹی گیمز اسکینڈل — پاکستان سپورٹس بورڈ کمیٹی کے انکشافات۔
تحریر: کھیل دوست، شاہدالحق
پاکستانی کھیل ایک بار پھر عالمی سطح پر شرمندگی کا شکار ہوئے۔ ایف آئی ایس یو ورلڈ یونیورسٹی گیمز 2025، جو جرمنی میں منعقد ہوئیں، میں پاکستانی دستے کی شرکت انتظامی بدانتظامی،
اقربا پروری اور مالی بے ضابطگیوں کی بدترین مثال بن کر سامنے آئی۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ نے ان حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے جنہیں برسوں سے نظرانداز کیا جاتا رہا۔
کمیٹی نے کھلے الفاظ میں بتایا کہ کھلاڑیوں کا غیر شفاف انتخاب، مستند کوچز کی غیر موجودگی، بغیر تیاری کے کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنا، اور اربوں روپے کے فنڈز ضائع کرنا معمولی انتظامی کوتاہیاں نہیں بلکہ سنگین جرائم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جاوید اقبال میمن مرکزی کردار کے طور پر سامنے آئے، جبکہ ڈاکٹر سمیرا ستار، ارشد ستار، رخصانہ نور اور بعض یونیورسٹیوں کے ڈائریکٹرز نے بھی اپنی غفلت اور نااہلی سے اس رسوائی میں حصہ ڈالا۔
بدترین مثالوں میں خواتین آرچری پلیئرز کا بغیر ٹرائل منتخب ہونا، 4×400 میٹر ریلی ٹیم کا غلط ترتیب پر ڈسکوالیفائی ہونا، اور کھلاڑیوں کا ایونٹ کے دوران غائب ہو جانا شامل ہے۔ یہ واقعات کسی فلمی کہانی کی طرح لگتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا نام دنیا بھر میں بدنام ہوا۔
ایچ ای سی کا کردار بھی شک سے بالاتر نہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرتا، اس نے اپنی ایک ’’اندرونی کمیٹی‘‘ بنا ڈالی اور اپنے افسران کو پی ایس بی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روک دیا۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب کس کے دباؤ پر ہوا؟ کیا اصل مقصد بڑے کرداروں کو بچانا تھا؟ کیا اربوں روپے کے فنڈز کے تانے بانے واقعی اعلیٰ سطح تک جاتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو رپورٹ میں جزوی طور پر اٹھائے گئے مگر مزید آزادانہ تحقیقات کے طلبگار ہیں۔
یہاں یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ کمیٹی نے دباؤ کے باوجود غیرمعمولی جرات دکھائی۔ نورش صباح، نصراللہ رانا اور سیف الرحمان جیسے اراکین نے بلا خوف و خطر اپنی رپورٹ میں وہ کچھ لکھ دیا جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
یہ ایک روشن مثال ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو حقائق تک پہنچنا ممکن ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ ابھی پوری تصویر نہیں دکھاتی — کھلاڑیوں کے غائب ہونے کے پیچھے نیٹ ورک اور فنڈز کی اصل روانی پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم ہاؤس اور متعلقہ ادارے اس رپورٹ پر عمل کریں گے یا ہمیشہ کی طرح یہ فائل بھی کسی الماری میں بند ہو جائے گی؟
اگر آج جاوید میمن، سمیرا ستار اور ان کے ساتھ شریک دیگر کرداروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی نہ ہوئی تو یہ کرپشن مافیا مزید مضبوط ہو جائے گا اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو کسی اور عالمی ایونٹ میں مزید ذلت اٹھانا پڑے گی۔
یہ اسکینڈل محض کھیلوں کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے اداروں کی ساکھ اور شفافیت کا امتحان ہے۔ احتساب اگر اس بار بھی نہ ہوا تو آنے والی نسلیں یہ سوال ضرور کریں گی کہ آخر کس کے تحفظ کے لیے پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کو داؤ پر لگایا گیا۔
شاہد الحق ; اسپورٹس فلانتھراپسٹ، سابق نیشنل باسکٹ بال پلیئر، نیشنل ٹیمز کے فٹنس کوچ، اسپورٹس رائٹر و ولاگر
چیف ایگزیکٹو "SPOFIT” یوٹیوب چینل، ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر پاکستان پاور لفٹنگ فیڈریشن
رابطہ: spofit@gmail.com Cell: 03335161425 www.youtube.com/spofit



